بھگدڑ تو مچے گی؟
07 جنوری 2019 2019-01-07

پاکستان میں گزری سات دہائیوں سے ایک جیسی ہی کہانی چل رہی ہے۔ دس سالوں نے تو شائستگی، آداب اور سلیقہ ہی چھین لیا ہے۔ ثبوت کے بغیر الزام لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب یہ ایک ایسی شکل میں موجود ہے جس سے چھٹکارا پانا مشکل نہیں مگر نا امید بھی نہیں ہونا چاہیے۔ امید تھی نیا پاکستان بہت سی امیدیں لے کر آئے گا۔ اس کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے کہ 2018ء کا سال پاکستان کے برے سالوں میں سے ایک تھا ایک کروڑ گھروں کا وعدہ کیا پورا ہوتا یہاں تو ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ محروم ہو گئے۔ نوجوانوں کو نوکریاں کیا ملیں ہزاروں لوگ تجاوزات کی زد میں آ کر روزگار سے محروم ہو چکے۔ گزرے ایک سال میں روپے کی قدر میں 30 فیصد کمی ہوئی، مہنگائی اتنی بڑھی کہ خدا کی پناہ، پاکستان کی معاشی ترقی کا پیمانہ سمجھی جانے، سٹاک مارکیٹ کو 50 بلین ڈالر کا نقصان ہو چکا۔ کپتان کا سارا زور معیشت کی اصلاح ہے مگر معاملات سنبھل نہیں پا رہے۔ کرکٹ اور معیشت میں فرق نظر آ رہا ہے۔ معاشی حالات کو تو یہاں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک مالی سال میں تیسرا بجٹ آ رہا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے جاتے جاتے پورے سال کا بجٹ دیا۔ پھر کپتان کے معاشی سقراطوں کی باتیں سنو اور اب وہی کر رہے ہیں جس پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ روپے کی قدر اتنی کم کر دی مگر ایکسپورٹ میں ایک ’’دھیلے‘‘ کا اضافہ نہ ہو سکا۔ بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے اس سے تو تن کے کپڑے تک اتروا لیے گئے ہیں۔ عمران خان کے معاشی ترجمان فرخ سلیم حکومت کی معاشی صورت حال کا آئینہ دکھا رہا ہے۔ وہ بھی تو یہی کہہ رہے ہیں جو سارے معاشی تجزیہ کار کہہ رہے ہیں۔ روپے کی قدر کی حکومتی پالیسی کے نتائج نہیں ملے اور مہنگائی دوگنی ہو گئی ہے۔ یہ بات گزشتہ دنوں ایک ٹی وی شو میں شوکت عزیز نے بھی کہی تھی کہ حکومت اس مشکل میں اس لیے پھنسی ہے کہ وہ کہ اس نے کوئی حکمت عملی نہیں بنائی۔ یہی وجہ ہے معاشی حوالے سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے لیے اقوام متحدہ کی ٹاسک فورس برائے منی لانڈرنگ کے حالیہ اجلاس میں پاکستانی وفد پوری تیاری کے ساتھ اجلاس میں شریک تو ہوا مگر اب بھی وہ 10 اقدامات کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اب پاکستان بلیک لسٹ سے تو بچ گیا ہے اور دس اقدامات کے بعد ہی اسے کوئی راستہ ملنے کی امید ہے۔ حکومت نے منی لانڈرنگ اور چور چور اور ڈاکو کہنے کی جو رٹ لگا رکھی ہے، اس سے دنیا یہ سمجھنے لگی ہے کہ پاکستان پر اقتصادی پابندیوں کا لمحہ آن پہنچا ہے مگر یہ سارا معاملہ ایک طرف ہے۔ چیئرمین نیب جو اپنا پرائم ٹائم عدلیہ کو دے چکے وہ نہ جانے ایک طرفہ ٹریفک کیوں چلا رہے ہیں۔ آصف زرداری سیاست میں بہت سی بدعتوں کے بانی ضرور ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ حالات کا مقابلہ کریں گے ڈریں گے نہیں۔ بدین میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کپتان کو طعنہ دیا ہے کہ کام نہیں آتا تو نوکری کیوں کرتے ہو۔ زرداری کی بات کچھ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ آصف زردار ی اور ان کے خاندان والے چاہتے ہیں بہادروں کی طرح۔ کپتان کی حکومت آنے کے بعد اپوزیشن کے خلاف اس اتحاد سے کارروائی کی گئی ہیں جب ایوب خان نے اقتدار میں رہنے کے لیے ملک کے ہائی پرفائل سیاست دانوں کو نا اہل کر دیا یا ضیاء الحق نے بھٹو ازم کو مٹانے کے لیے ان لوگوں کو چن چن کر انتقام کا نشانہ بنایا جو بھٹو کی محبت کا دیا اپنی امیدوں سے بجھنے نہ دیتے تھے یا پرویز مشرف جو آج بینظیر بھٹو کے قتل کے مرکزی ملزم اور سنگین غداری کیس میں مفرور ہیں انہوں نے نواز شریف کی دشمنی میں ان تمام سیاست دانوں کا پیچھا کیا جو نوا زشریف کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اب نواز شریف ایک نئے پاکستان کے معمار کا جبر سہہ رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی

ترجمان مریم اورنگ زیب خوب گرج اور برس رہی ہیں۔ نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) کی ترجمانی کرنے والی مریم اورنگ زیب کے کچھ کھاتوں کا حساب کتاب اب نیب کو یاد آنے لگا ہے۔ نیب نے ایک سال میں جو کارروائیاں کی ہیں، اس سے تو مریم اورنگ زیب نے نیب کے چیئرمین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنا نام ’’ن اکاؤنٹیبلٹی بیورو‘‘ رکھ لیں۔ پنجاب کی سیاست سے ابھرے۔ یہ بھی درست ہے کہ 1985ء کے انتخابات میں گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی کا انتخاب تھے یہ بھی درست ہے پنجاب اسمبلی کی گولڈن جوبلی کی سو سالہ تقریب میں ضیاء الحق نے نواز شریف کو مرد یقین قرار دیا تھا۔ مگر ضیاء الحق کی جابرانہ ترامیم اور مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کا عزم ان کا کارنامہ ہے۔ زرداری خاندان کے خلاف جو جے آئی ٹی ہے اس میں جے آئی ٹی کی سفارشات کو دیکھا جائے تو اس نے صاف کہہ دیا ہے کہ یہ جعلی جے آئی ٹی ہے۔ جے آئی ٹی کی سفارشات میں درج ہے کہ زرداری خاندان کی تمام جائیدادیں سیل کر دی جائیں مگر اس کا جواب زرداری نے دیا ہے اور خوب دیا ہے کہ الزام لگاؤ، پھانسی چڑھاؤ میں تو بے وقوفوں اور جاہلوں کے ہتھکنڈے سے نہیں ڈرتا مقابلہ کروں گا۔ خاصی دلچسپ صورت حال سامنے آ رہی ہے۔ سیاسی نظام خطرے کی طرف بڑھ رہا ہے احتساب ضروری ہے ہر ایک کو پیش ہونا چاہیے۔ اگر کھوکھر برادران کے محل ضبط کرنے کی بات ہو رہی ہے تو بنی گالہ پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ ایک ریفرنس بنی گالہ کے مکین کے خلاف ہے ان کے

سامنے انصاف میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ سوال تو اٹھتا ہے بھگدڑ مچنے والی ہے۔ مولانا فضل الرحمن آگے بڑھ رہے ہیں۔ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی اب ایک ہونے جا رہے ہیں۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف کافی حد تک اپنی مشکلات دور کر چکے ہیں۔ اصل معاملہ تو یہ ہے معاشی بحران، بری حکمرانی ، روپے کی قدر میں کمی نہ بجٹ خسارہ میں اضافہ خود حکمران اپنی حکومت کے دشمن ہیں۔

جب بھی سیاسی بحران اٹھنا ہے تو بیرونی قوتیں درمیان میں آتی ہیں۔ ان کو آپ روک نہیں سکتے۔ ایوب خان کے جانے کا وقت آیا تو امریکہ کے چوکیدار شاہ ایران نے یحییٰ کو بڑھایا۔ بھٹو بھی کہتے رہے ہیں جانتا ہوں مجھے کیوں نکالا ۔ ضیاء الحق کے آنے اور جانے کی الگ کہانی ہے۔ پاکستان میں کرپشن آج کی نہیں حکمران جھوٹ بولے تو یہ بھی کرپشن ہے۔ سیاسی گماشتوں کی سیاست زیادہ نہیں چلتی۔ عاصمہ جہانگیر نے موت سے پہلے خبر دار کیا تھا کہ سیاست دان یہاں باری بار استعمال ہو رہے ہیں۔ ہر چیئرمین ایسا ہی کرتا ہے۔ بنگلہ دیش میں الیکشن میں کیا ہوا الیکشن آڈٹ کا معاملہ اقوام متحدہ کے کورٹ میں چلا گیا۔ ریاستیں اپنے اصولوں پر چلتی ہیں نواز شریف کے خلاف 1994ء سے 2019ء تک 30 ریفرنس چلے کیا ہوا۔ دو مقدمات میں سزا۔ اپیلیں ہیں۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ عوام ایسے انصاف پر انگلیاں اٹھائیں گے۔ سپریم کورٹ نے بھی زرداری خاندان کے خلاف جے آئی ٹی اور حکومت کے اقدامات کا نوٹس لیا ہے۔ البتہ چیف جسٹس نے اپنے حکم میں مرادعلی شاہ اور بلاول کا نام جے آئی ٹی اور ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے کر حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے۔ البتہ چیف جسٹس کا یہ جملہ 18 ویں ترمیم ختم کرنے والوں کے خوابوں کو چکنا چور کرنے کے لیے کافی ہے۔ جو پاکستان میں صدارتی نظام لانا چاہتے ہیں۔ ’’جمہوریت بہت بڑی رحمت ہے، ہم کسی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے‘‘۔


ای پیپر