قصہ 1976 ء کے ماس جمناسٹک شو کا ۔۔۔ !
07 جنوری 2019 2019-01-07

میں نے اپنے پچھلے کسی کالم میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں1976 ء میں اسلام آباد میں منعقدہ ماس جمناسٹک شو (Mas Gymnastic Show ) کا سرسری تذکرہ کیا تھا ۔ اس شو کی 1976 ء کی پوری گرمیوں (جولائی تا ستمبر ،اکتوبر)میں تیاری ہو تی رہی اور اکتوبر 1976 ء میں سعودی عرب کے اُس وقت کے فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ خالد مرحوم پاکستان کے دورے پر آئے تو اسلام آباد کے فیڈرل گورنمنٹ کالج H-9 کے گراؤنڈ (سٹیڈیم ) میں یہ شو اُن کے اعزاز میں پیش کیا گیا اور اسے بہت پسند کیا گیا۔ کالج کے گراؤنڈ کو بطورِ خاص جمناسٹک شو کے لیے تیار کیا گیا ۔ اس کی ایک سمت (مین روڈ کی طرف واقع مشرقی سمت) میں درجہ بدرجہ تعمیر کیے گئے اُونچے سٹیپس (Steps ) کے ذریعے اسے منی سٹیڈیم کی شکل دی گئی اور اس کے سامنے (مغربی سمت) میں وسیع گراؤنڈ خالی چھوڑا گیا جس میں جمناسٹک شو میں حصہ لینے والے سٹوڈنٹس نے پی ٹی شو پیش کیا۔ گراؤنڈ کی مشرقی سمت سیڑھیوں (Steps ) پر بھی سٹوڈنٹس (غالباً گرلز )بیٹھی تھیں جنہوں نے آرٹ پیپر کے بڑے بڑے کارڈز جن پر انگریزی حروفِ تہجی (Alphabet ) کے اجزا یا تصویروں کے اجزا بنے تھے اس طرح اپنے سینوں کے سامنے اُٹھا رکھے تھے کہ صرف ان کے چہرے اور سر ہی دیکھائی دیتے تھے اور جسم کے باقی حصے پھیلائے ہوئے کارڈز کے پیچھے چُھپ جاتے تھے۔ بینڈ کی دُھنوں کے ساتھ گراؤنڈ میں سٹوڈنٹس پی ٹی شو کی مختلف ایکسرسائزز یا ایونٹس کو آگے لے کر چلتے تھے تو سیڑھیوں یعنی (Steps ) پر بیٹھی سٹوڈنٹس اُس کے مطابق اپنے کارڈز اس طرح سامنے لاتی تھیں کہ اُن پر لکھے انگریزی حروفِ تہجی سے بامعنی جملے یا عبارتیں ہی نہیں بن جاتی تھیں بلکہ اُن کے جُڑنے سے پاکستان اور شمالی کوریا کے بعض مشاہیر کی تصاویر (شبیہہ) بھی بن رہی تھی۔ جیسے بائیں طرف پہلے کارڈ پر P ، اُس سے اگلے کارڈ پر A ، اُس سے اگلے کارڈ پر K اور اُس سے اگلے کارڈ پر I اور علی ہذالقیاس اسی طرح اگلے کارڈوں پر دیگر حروف جن کے جُڑنے سے PAKISTAN ZINDA BAD یا PAK KOREA FRIENDSHIP ZINDA BAD جیسے جملے یا عبارتیں یا پھر ان کارڈز کے سامنے لانے اور جُڑنے سے بانی پاکستان حضرت قائدِ اعظم ، پیپلز پارٹی کے بانی چئیرمین وزیرِ اعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اور شمالی کوریا کے بانی چئیرمین آنجہانی کم آل سنگ وغیر ہ کے چہروں کی تصاویر یا شبیہہ بھی بن رہی تھی۔ گراؤنڈ میں تقریباً 1000 ہزار (غالباً 880 ) سٹوڈنٹس کا پی ٹی شو اور اس کے بیک گراؤنڈ میں سٹیپس (Steps ) پر بیٹھی

سٹوڈنٹس جن کی تعداد بھی سینکڑوں میں تھی کارڈز کا ڈسپلے بلا شبہ ایک مسحور کُن منظر تھا۔

1976 ء کے اس ماس جمناسٹک شو جس کی تیاری کا اہتمام وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی خصوصی ہدایات پر کیا گیا تھا کے انعقاد کو چار عشروں سے زیادہ عرصہ بیت چُ کا ہے۔ ہو سکتا ہے اس کی جزئیات بیان کرتے ہوئے مجھ سے کچھ فروگزاشت یا غلطی ہو جائے کہ میں ذہن کے نہاں خانے میں موجود بھولی بسری یادوں کی بنیاد پر ہی یہ سب کچھ تحریر کر رہا ہوں۔ پیپلز پارٹی کے بانی چےئرمین ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ سوشلسٹ خیالات کے مالک تھے۔ 1967 ء میں پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیا تو انہوں نے سوشلزم کو اس کے منشور کا اہم نکتہ قرار دیا۔ جسے بعد میں اسلامی سوشلزم یا اسلامی مساوات میں تبدیل کر دیا گیا۔ اپنی اس فکر اور سوچ کی بنا پر یہ فطری بات تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا ذہنی جھکاؤ اور رجحان سوشلسٹ یا کمیونسٹ ممالک کی طرف کچھ زیادہ تھا۔ صدر ایوب خان کے دور میں جب وہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ بنے تو پاک چین دوستی کو مستحکم کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ بعد میں بھی وہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں رہے۔ دسمبر 1971 ء میں وہ برسرِ اقتدار آئے تو انہوں نے اپنے سوشلسٹ نظریات اور خیالات کی بنا پر اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو چین یا شمالی کوریا کی کمیونسٹ پارٹیوں کے انداز پر کچھ کچھ منظم کرنے اور چلانے کی بھی کوشش کی۔ اس ضمن میں اپنی پارٹی کے عہدیداروں بالخصوص اپنے سمیت حکومت میں شامل ارکان کے لیے ایک مخصوص لباس یا وردی پہننے کو لازمی قرار دیا۔ یہ وردی چین کے عظیم رہنما چےئرمین ماؤزے تنگ کے مخصوص لباس بند گلے کے شارٹ کورٹ اور پینٹ کے انداز پر بنی ہوئی تھی جس کے کوٹ کے بندے گلے یا بین پر سنہری پٹی لگائی گئی تھی۔ جس سے عہدے کی تخصیص ہوتی تھی۔ چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سمیت پیپلز پارٹی کے اہم عہدیداروں نے یہ لباس یا وردی پہننی شروع کی تو معروف کالم نگار عبدالقادر حسن (جنہیں بلا شبہ اُردو صحافت میں جدید کالم نگاری کے بانیوں میں شمار کیا جاسکتا ہے ) نے اپنے کالم میں اس پر بینڈ ماسٹر کی وردی کی پھبتی کسی ۔ بھٹو صاحب کو طیش تو بہت آیا لیکن بتدریج اس وردی کا رعب و دبدبہ اور Charm ختم ہو گیا۔

بھٹو صاحب کی ذات سے وابستہ باتوں اور اُن کے نظریات و افکار کے تذکرے کے لیے کئی کالم چاہئیں۔ واپس 1976 ء کے ماس جمناسٹک شو کی طرف آتے ہیں ۔ بھٹو صاحب کو اس کا شوق کیسے چُرایا؟ غالباً 1976 ء کے اوائل میں وہ شمالی کوریا کے دورے پر گئے تو وہاں چےئرمین کم آل سنگ کی حکومت نے اُن کا بہت گرمجوشی سے استقبال کیا اور اُن کے اعزاز میں ماسک جمناسٹک شو بھی پیش کیا جس میں کوریا کے نوجوان سٹوڈنٹس نے حصہ لیا تھا۔ بھٹو صاحب واپس پاکستان آئے تو انہوں نے وفاقی وزیرِ تعلیم عبدالحفیظ پیرزادہ مرحوم کو ہدایت کی کہ وہ اسلام آباد( اور راولپنڈی) میں سٹوڈنٹس کے اس شوکی تیاری کا اہتمام کریں۔ عبدالحفیظ پیر زادہ جو بھٹو صاحب کے قریبی ساتھی تھے اور نوجوان اور خوبرو ہونے کی بنا پر اُنہیں بھٹو صاحب یا پیپلز پارٹی کا ’’ سوہنا مُنڈا‘‘(خوبصورت نوجوان لڑکا) بھی کہا جاتا تھا وہ اس پر کمربستہ ہو گئے۔ انہوں نے وفاقی نظامتِ تعلیم اسلام آباد کے اُس وقت کے ڈائریکٹر راجہ محمد اختر مرحوم کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اس کے لیے ضروری انتظامات کریں۔ راجہ محمد اختر مرحوم نے پنڈی میں ایف سرسید سیکنڈری سکول کو تربیت کا مرکز اور سکول کے اُس وقت کے پرنسپل رانا عزیز الدین کو تربیتی مرکز کا انچارج بنانے کے احکامات جاری کیے۔ 1976 ء کی پوری گرمیوں کے دوران سرسید سکول کے گراؤنڈ اور اور ریس کورس گراؤنڈ میں پی ٹی شو کی تیاریاں ہوتی رہیں۔ سرسید سکول سمیت دیگر سکولوں کے 1000 سے زائد طلباء شمالی کوریا سے تربیت حاصل کر کے آئے ہوئے کوچ کی نگرانی میں پی ٹی شو کی کڑی تربیت میں مشغول رہے۔ گرلز سٹوڈنٹس کی تربیت لیڈی کوچ کی نگرانی میں اسلام آباد میں ہوتی رہی۔ انہی دنوں یہ بات مشہور ہوئی کہ لیڈی کوچ کو پاکستان سپورٹس بورڈ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا اہم عہدہ دے دیا گیا ہے اور حفیظ پیزادہ صاحب نے اُس سے شادی رچا لی ہے۔

میں پوری طرح اس کی تصدیق یا تردید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں تاہم اتنی بات میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ یا کانوں سے ضرور سُنی کے ماس جمناسٹک شو کے آخری مرحلے میں جب ایف کالج H-9 اسلام آباد میں اکتوبر 1976 ء میں آخر ریہر سل ہو رہی تھی تو ایک دن شو میں حصہ لینے والے چند سٹوڈنٹس غیر حاضر ہو گئے ۔ گراؤنڈ میں اُن کی جگہیں (Spots ) خالی تھیں حفیظ پیزادہ صاحب جو ریہرسل دیکھنے کے لیے گراؤنڈ میں آئے ہوئے تھے انہوں نے جب یہ صورتحال دیکھی تووہ مرحوم راجہ محمد اختر پر برس پڑے اور اُن سے کہنے لگے کہ ایسا کیوں ہے سٹوڈنٹس غیر حاضر کیوں ہوئے؟ کیا تم نے نوکری کرنی ہے یا نہیں؟ ہم کچھ ٹیچرز بھی فاصلے پر کھڑے یہ باتیں سُن رہے تھے ۔ راجہ اختر مرحوم نے بعد میں اپنے اداروں کے سربراہان کی میٹنگ طلب کی اور انہیں سخت سُست کہا اور سختی سے سٹوڈنٹس کی حاضری کو یقینی بنانے کی تلقین کی۔ اس طرح اس ماس جمناسٹک شو کی تیاری ہوئی جسے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ خالد مرحوم کے دورہِ پاکستان کے موقع پر اُن کے اعزاز میں پیش کیا گیا۔ شاہ خالد مرحوم کا یہ وہی دورہ تھا جس میں انہوں نے اسلام آباد میں سعودی عرب کے خرچ سے ایک عظیم الشان مسجد (موجودہ فیصل مسجد) کے بنانے کی پیشکش کی۔


ای پیپر