قاضی حسین احمد مرحوم!
07 جنوری 2019 2019-01-07

قاضی حسین احمد پاکستانی سیاست کا ایک ایسا کردار تھے جسے تادیر یاد رکھاجائے گا دو روزقبل ان کی برسی گزری تو ان کی یادوں،باتوں اور ملاقاتوں کی پوری فلم ذہن کی سکرین پر چل گئی،، قاضی صاحب اسلامی جمعیت طلبہ کے راستے سے جماعت اسلامی میں آئے اور چھا گئے۔ انہیں ملک گیر شہرت اس وقت ملی جب وہ امیر جماعت اسلامی صوبہ سرحد ہوتے ہوئے پشاور چیمبر آف کامرس کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ وہ جغرافیہ میں ایم ایس سی کرنے کے بعد کچھ عرصہ لیکچرر رہے اور پھر اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ وہ بے حد متحرک اور عوامی آدمی تھے۔ ملی یک جہتی کونسل کے ذریعے انہوں نے مختلف فرقوں کے درمیان نفرتوں کے خاتمے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کا آغاز کیا اور متحدہ مجلس عمل کے ذریعے دینی سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر کے ایک موثر قوت بنا دیا۔

امیر جماعت منتخب ہونے کے بعد انہوں نے منصورہ میں امیر جماعت کے لیے مخصوص رہائش گاہ میاں طفیل محمد ہی کے زیر استعمال رہنے دی اور خود دو کمرے کے ایک فلیٹ میں منتقل ہو گئے۔ میاں طفیل کچھ عرصہ بعد اپنا گھر تعمیر کر کے اس میں منتقل ہو گئے تب بھی قاضی حسین احمد اسی فلیٹ میں قیام پذیر رہے اور امیر جماعت کی رہائش گاہ کو دارالضیافہ میں تبدیل کر دیا۔

مولانا مودودی کے اس تصور جہاد کے برعکس کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے۔ انھوں نے افغانستان اور کشمیر میں جہاد کو منظم کیا اور دنیا بھر میں جہادی تحریکوں کے پشتیبان بنے۔ جماعت اسلامی میں رکنیت کی شرائط کو کافی نرم کر دیا۔ نوجوانوں کو بڑی تعداد میں رکن بنایا اور جماعت میں جہاں کہیں نامزدگی ہو سکتی تھی وہاں اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ یا نوجوان افراد کو لگایا۔ ان کے دورِ امارت میں جماعت کے بعض بزرگوں کو شکایت تھی کہ قاضی صاحب نے دین پر سیاست کو حاوی کر دیا ہے۔ ان کی زیادہ توجہ سیاست پر ہے لیکن اختلاف کرنے والوں چودھری غلام جیلانی، نعیم صدیقی اور میاں طفیل محمد کے جنازے خود قاضی صاحب نے پڑھائے۔ جماعت اسلامی کے دیرینہ کارکنوں کو شکایت تھی کہ جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے دوران قاضی صاحب ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں تھے جو بعد میں تنظیمی اور سیاسی معاملات پربھی اثر انداز ہوئے۔ معترضین پاسبان اور پاکستان اسلامک فرنٹ کو ان ہی رابطوں کا شاخسانہ قرار دیتے تھے۔ تاہم کونسل آف نیشنل افیئرز کی ایک نشست میں قاضی صاحب نے دو ٹوک انداز میں وضاحت کی کہ انہوں نے بطور امیر جماعت کبھی ایجنسیوں سے ڈکٹیشن نہیں لی۔ اس نشست میں قاضی صاحب نے علامہ اقبال کے اردو اور فارسی اشعار پڑھنا شروع کئے تو شرکاء کو پہلی بار معلوم ہوا کہ وہ اقبالیات کے کتنے بڑے عالم ہیں۔

قاضی صاحب کی امارت کے دور میں جماعت نہ صرف عوامی سطح پر زیادہ مقبول ہوئی بلکہ ملکی سیاست اور قومی پریس میں اس کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوا۔وہ ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے جماعت اسلامی کو اقتدار کے ایوانوں تک لے آئے۔ انہوں نے امیر جماعت کے عام انتخابات میں حصہ لینے کی جماعتی روایت کو بھی توڑا۔ وہ پہلے سینٹ میں پہنچے اور پھر قومی اسمبلی کے ایوانوں میں ان کی توانا آواز گونجنے لگی۔وہ جماعت اسلامی کی دعوت پھیلانے کے لیے تمام جدید حربوں کو استعمال کرنے کے حامی تھے، پاسبان اور پاکستان اسلامک فرنٹ کے دور میں انہوں نے جدید ترین آڈیو ویڈیو مشینری ،بلند آہنگ ترانوں اور مہنگی اشتہاری مہم تک سب کچھ آزمایا ، وہ اپنے واقف کاروں کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر مصافحہ کرتے۔ نیم واقفوں سے آگے بڑھ کر گلے ملتے اور ناواقفوں کو مسکراتے اور ہاتھ لہراتے ہوئے اس طرح خوش آمدید کہتے کہ لیڈر اور کارکن کے درمیان کے سارے فاصلے مٹ جاتے۔وہ ہر دم کارکنوں کے درمیان رہتے۔ اور لوگوں کی خوشی غمی میں آگے بڑھ کر خود شریک ہوتے ، 1993ء میں قاضی حسین احمد نے بعض جماعتوں اور شخصیات کے ساتھ مل کر پاکستان اسلامک فرنٹ بنایا اور وہ نعرہ دیا جسے آج عمران خان لیے پھر رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں عوام کے مسائل حل کرنے میں مخلص نہیں انہوں نے اقتدار کی باریاں لگا رکھی ہیں۔ ان دنوں ’’ظالمو قاضی آ رہا ہے‘‘ کا نعرہ بہت مقبول ہوا۔ قاضی صاحب مختلف علاقوں میں ہونے والے مظالم کے خلاف خود میدان میں اترے۔ لاہور میں کرباٹھ اور بھسین کے واقعات اس سلسلے میں سب سے زیادہ مشہور ہوئے ،بھارتی وزیر اعظم واجپائی کی پاکستان آمد کے موقع پر قاضی صاحب نے خود مظاہروں کی قیادت کی۔ لٹن روڈ لاہور پر جماعت اسلامی کے احتجاجی جلسے پر پولیس نے دھاوا بولاتو قاضی صاحب آنسو گیس کی شدید شیلنگ کے باعث بے ہوش ہوگئے مگر کارکنوں سے علیحدہ ہونے سے انکار کر دیا ۔ نوشہرہ میں جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع کے موقع پرایسی آندھی اور طوفان آیا کہ ٹینٹ اکھڑ گئے۔ ساتھ ہی شدید بارش نے افراتفری پیدا کر دی۔ قاضی صاحب اپنے خیمہ سے باہر نکلے اور ساتھیوں کے ساتھ شدید بارش میں ایک ایک ٹینٹ تک پہنچے۔ کارکنوں کو حوصلہ دیا اور ہر ٹینٹ پر ایسی رقت آمیز دعا کرائی جو لوگوں کو آج بھی یاد ہے۔ وہ دوبارہ سینٹ کے رکن منتخب ہوئے دوسری ٹرم میں چند ماہ باقی تھے کہ انہوں نے نعرہ لگا دیا کہ اقتدار کے ایوانوں میں ہی نہیں پارلیمنٹ کے اندر بھی چور، ڈاکو، رسہ گیر اور ٹیکس چور بیٹھے ہیں۔ ان سے عوام کے لیے کسی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی اس لیے وہ اس ایوان کا حصہ نہیں رہنا چاہتے۔۲ ۲۰۰ ء میں وہ قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے کامیاب ہوئے۔ ان کی کوششوں سے دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے نے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں صوبائی حکومتیں بنائیں۔ مرکز میں جاندار اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ اور مولانا فضل الرحمان لیڈر آف دی اپوزیشن بنے اور ان کے دباؤ ہی کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف وردی اتارنے کا معاہدہ کرنے پر مجبور ہو ئے۔ وکلاء تحریک میں وہ سر گرم رہے اور لال مسجد آپریشن اور جامعہ حفصہ کی سینکڑوں معصوم طالبات کی ہلاکت کے بعد انہوں نے احتجاجاً قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیدیا۔

جماعت اسلامی کی امارت سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ تو منظر سے دور رہے لیکن جلد ہی پھر متحرک ہو گئے ایک جانب انہوں نے ملی یک جہتی کونسل کو پھر فعال کر دیا ؤ اور دوسری جانب ادارہ فکر و عمل کے نام سے مختلف الخیال رہنماؤں اور دانشوروں کا ایک تھینک ٹینک قائم کر دیا۔ وہ اس پلیٹ فارم سے بہت فکر انگیز نشستوں کا اہتمام کرتے ان تقریبات میں وہ چھڑی کے سہارے چل کر آتے لیکن تمام زندگی اللہ کے سہارے پر چلنے والے اس مرد درویش کو چھڑی کا سہارا پسند نہیں تھا۔ چنانچہ 6 جنوری 2013ء کی رات انہوں نے اس عارضی سہارے کو بھی چھوڑ دیا اور اس خالق کی جانب روانہ ہو گئے جس کی کبریائی کا جھنڈا بلند کرنے کے لیے وہ زندگی بھر جدوجہد کرتے رہے تھے۔ قاضی صاحب جماعت اسلامی ہی نہیں ملک کے سیاسی حلقوں میں بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

.


ای پیپر