فوٹو بشکریہ فیس بک

وزیر اعلیٰ سندھ، بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم
07 جنوری 2019 (11:50) 2019-01-07

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو زرداری کا نام ای سی ایل سے نکا لنے کا حکم دیدیا۔

جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ساری جے آئی ٹی میں بلاول کا کردار دکھا دیں۔ اس کی پھوپی کا کردار ہو گا بلاول کا تو کوئی کردار نہیں۔

چیف جسٹس نے جے آئی ممبر سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کا وہ حصہ ڈیلیٹ کریں جس میں بلاول کا نام ہے۔ بریگیڈیئر صاحب آگے آکر بتائیں کیا ہم نے آپ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی؟ کس کی ڈکٹیشن پر بلاول کا نام رپورٹ پر ڈالا؟

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی تو اومنی گروپ کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اومنی گروپ نے ٹریکٹرز سبسڈی اسکیم میں کوئی خردبرد نہیں کی، شوگر سبسڈی پورے ملک میں دی گئی۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیئے کہ ٹریکٹرز کی خرید و فروخت کاغذوں میں کرکے ایک ارب روپے کی سبسڈی لی گئی، اومنی گروپ کو دو روپے اضافی شوگر سبسڈی ملتی رہی، پنجاب میں سبسڈی کا نرخ 180 لیکن سندھ کا 182 ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں، ہم نے جعلی بنک اکاؤنٹس کی کھوج لگانے کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی بظاہر چند سیاست دانوں، بحریہ ٹاؤن اور اومنی گروپ کا جعلی بنک اکاؤنٹس سے تعلق جڑتا ہے۔ نیب تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے وکیل سے کہا کہ تحقیقات میں ثابت کریں ایک دم اتنا بڑا منافع کیسے کمالیا، کیا من و سلویٰ اترتا رہا ؟ آپ کو ثابت کرنا پڑے گا اتنے تھوڑے وقت میں رئیس در رئیس کیسے بن گئے؟ آپ کو ثابت کرنا پڑے گا پیسے لانچوں کے ذریعے نہیں بھجوائے گئے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بلاول بھٹو زرداری کا اس سارے معاملے سے کیا تعلق ہے اس معصوم نے تو کچھ نہیں کیا، بلاول بھٹو زرداری تو صرف اپنی ماں کی لیگیسی کو آگے بڑھا رہا ہے۔ بلاول بھٹو کا نام کسی کے کہنے پر ڈالا گیا یا ان کے خلاف کوئی مواد موجود ہے۔

دوسری جانب منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے آصف زرداری ، فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری میں 23 جنوری تک توسیع کردی۔


ای پیپر