کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجو رسول....(9)
07 جنوری 2019 2019-01-07

گزشتہ تحریر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا تھا، کہ انہیں موسیٰ کلیم اللہ جیسے منصب پہ کیوں فائز کیا گیا تھا، صرف اس بناءپر کہ انہوں نے بجائے غصہ کرنے کے، شرارتی بکری کے بچے کو، جس نے صبح سے لے کر دوپہر تک موسیٰ علیہ السلام کی دوڑیں لگوائے رکھی تھیں، جب آخرکار وہ بچہ اُن ، کے ہاتھ آیا ، تو بجائے غصہ کرنے کے ، انہوں نے اسے پکڑ کر گلے سے لگا لیا اور چوم لیا۔

الحمدللہ ، پاکستان کے کروڑوں عوام، اور حکمران مسلمان ہیں، کیا قرآن کریم اور واقعات انبیاء، ہمارے لیے سبق اور قابل تقلید نہیں ؟

دراصل جو شخص اپنی درسی کتابوں کا سبق اخلاق بھی فراموش کربیٹھے، تو اس سے کیا گلہ کرنا، اور کیا شکوہ کرنا۔ ریاست مدینہ کے بانی، اور کردار لاثانی ، جن کی مدحت ازل سے ابدتک چرند پرند سے لے کر جن وبشر، نباتات وجماوات، حتیٰ کہ پتھر اور پہاڑ بھی کرتے ہیں، اور کرتے رہیں گے، کیا ان کا کیا ہوا عمل اس بات کا متقاضی نہیں کہ ہم سارے مسلمان ان کی تقلید کریں، اور ان کے کئے ہوئے عمل کو نشان راہ سمجھ کر خود بھی عمل کریں، جیسے کہ ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کرتے تھے، کہ سواری پہ بیٹھے ایک صحابی نے درخت سے گزرتے ہوئے اپنا سر نیچے کرلیا، دوسرے ساتھی کے استفسار پہ کہ آپ نے ایسا کیوں کیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ایک دفعہ جب میں اپنی جان ومال سے پیاری ہستی حضرت محمد کے ساتھ اس درخت کے نیچے سے گزرا تھا، تو آپ نے ایسا کیا تھا، لہٰذا مجھے وہ یاد تھا، اور میں نے درخت اونچا ہونے کے باوجود آپ کی تقلید وثواب کی غرض سے ایسا کیا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا، کہ میں مومن کی آزمائش نہ کروں، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جان، مال ، اولاد سے آزمائش کرتا ہے ، اس لیے ہمارے بزرگ ہمیشہ سے یہی دعا کرتے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آزمائش سے بچائے، آپ کو میری اس بات کی سمجھ اس بات سے زیادہ آئے گی ۔ایک دفعہ رسول پاک کے فرمان پر ایک خاتون سے نکاح کرنے کے قصد سے پہلے ان کے بارے میں صحابہ کرامؓ سے پوچھا گیا، تو انہوں نے بتایا کہ وہ خاتون نہایت صحت مند اور تندرست ہیں، حتیٰ کہ وہ کبھی بھی بیمار نہیں ہوئیں، اور وہ بچپن سے لے کر اس عمرتک صحت مند زندگی کے ساتھ خوش وخرم رہ رہی ہیں۔ جب رسول پاک نے یہ سنا کہ وہ تو کبھی بیمار بھی نہیں ہوئیں تو آپ نے فوراً نکاح کرنے کا خیال ترک کردیا، اور فرمایا کہ میں ان سے شادی نہیں کروں گا، کیونکہ لگتا ہے اللہ تعالیٰ ان سے خوش نہیں ہیں۔ صحابہ کرامؓ کا معمول تھا، وہ ایک دوسرے سے استفسار کرتے تھے کہ چالیس دن کے اندر اندر کون کون بیمار ہوا ہے ، یا کسی کو پریشانی تو نہیں آئی، اگر کسی کو یہ کوئی آزمائش نہ آتی تھی ، تو وہ توبہ تائب ہوتے اور فوراً اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتے۔

اگر اس آزمائش کو وسیع تناظر میں دیکھیں تو کیا ابتداءہی میں مسلمانوں کو جنگ بدر ،غزوہ احد، غزوہ خندق یا غزوہ احزاب، غزوہ بنی قریظہ ، غزوہ خیبر، صلح حدیبیہ ، غزوہ موتہ، غزوہ حنین، فتح مکہ، غزوہ طائف، غزوہ تبوک وغیرہ قدم قدم پہ نہیں آزمایا گیا؟ جب کہ وہ حضور سمیت ایک کھجوریا پانی سے روزہ رکھتے، اور اسی سے روزہ کھولتے، حتیٰ کہ ہمارے پیارے نبی کے گھر میں ہفتے ہفتے تک چولہا نہ جلتا، جنگ خندق پہ جب کسی صحابی نے بھوک کی شکایت کی، تو آپ نے شکم مبارک سے کپڑا ہٹایا تو وہاں پتھر باندھا ہوا تھا۔

لیکن کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ رزق کی جو بے قدری آج کل خطہ عرب میں ہوتی ہے ، دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں ہوتی، چونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس بات کی بھی آزمائش کرتا ہے کہ خوش حالی، اورفراوانی میں کون کتنی نافرمانی کرتا ہے ۔میں نے زمانہ طالب علمی میں حج کیا تھا، وہاں جب ہم نے فریضہ حج ادا کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں قربانی کا رکن ادا کیا، تو وہاں سے ہم صرف ایک بکرے کی ران اپنے خیمے تک ہی لاسکے تھے، اور وہ بھی جاتے ہوئے وہیں پھینک دی تھی ۔دل میں اس کفران نعمت کا اتنا دکھ ہوا تھا، جو آج بھی محسوس ہوتا ہے ، لیکن جب شاہ فیصل شہید سعودی عرب کے حکمران بنے، تو انہوں نے نہایت عقلمندی سے جذبہ مسلمانی کا شاندار مظاہرہ کیا، اور وہ قربانی کے اس گوشت کو افریقہ میں غریب ممالک کو بھیج دیتے تھے، اور الحمد للہ سنا ہے ، یہ روایت اب بھی شاید قائم ہے ۔

قارئین ، آج میں چاہتا تھا کہ آپ کو عفوودرگزر کے بارے میں حضور کے اس شاندار کردار کے بارے میں بتاﺅں کہ اس جیسی مثال پوری تاریخ انسانی بتانے سے قاصر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب مسلمانوں کو ہرطرح سے آزمالیا، اور ان کی نیتوں اور دلوں کا بھی امتحان لے لیا، قریش کے مسلمانوں پہ ظلم وستم مسلمانوں کو مسلسل ایذا پہنچانے حتیٰ کہ لمبے عرصے تک خود رسول پاک کو مکہ شریف سے دور ان کے ساتھیوں سمیت بے دخل کرکے ان پہ سامان رسد پہنچانے کی پابندی عائد کیے رکھی، اللہ تعالیٰ کے نزدیک جس کا درجہ زیادہ بلند ہوتا ہے ان پہ آزمائش بھی اتنی ہی ہوتی ہے ، جیسا میں نے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا ذکر کیا تھا، جس میں وہ اپنا بیٹا قربان کرنے پہ راضی ہوگئے تھے کہ اس طرح سے میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے۔

لیکن قربان جائیے حضور کے نواسہ¿ رسول پہ جو رب کو راضی کرنے کے لیے پورا کنبہ قربان کرنے پہ راضی ہو گئے تھے کہ اس طرح سے میرا نانا کا دین اور اللہ تعالیٰ کا پیارا اسلام زندہ رہ جائے۔ جب ہم اور آپ واقعہ کربلا پڑھتے یا سنتے ہیں توپتہ چلتا ہے کہ حضرت حسینؓ قدم قدم پہ رب کو راضی کرنے، اور حضور کی شریعت مطہرہ کو زندہ وپائندہ کرنے کی جستجو میں ان سے براہ راست مخاطب ہوتے اور کہتے کہ میں آپ کے بتائے ہوئے سبق، اور آپ کی تربیت کے مطابق فاسقوں اور فاجروں کے سامنے سینہ سپر ہوں، بے شک میں تنہا ہوں، اور وہ مکمل تیاری کے ساتھ مگر میرے نانا جان آپ مجھے کسی لمحے اور کسی ساعت کسی سبطین سباس کو بھی سباق واسباق سرفروشی سید سے غافل نہیں پائیں گے۔

اور دنیا نے دیکھا کہ ممدوح یزداں کے تربیت یافتہ اہل بیت اور پنج تن پاک نے سرداری فردوس بریں کا حق ادا کردکھایا، کہ اسلام کی خاطر کسی نے ایسی قربانی دی تھی نہ کوئی قیامت تک ایسا کردکھائے گا، اور اس جذبہ قربانی وایثار کے پیچھے خوشنودی رسول تھی، اور خوشنودی رسول ، خوشنودی خدا ہوتی ہے تو پھر سیدالشہداءتیروں اور تلواروں کی جھنکاروں میں دوران نماز نیزے پہ سرمبارک بلند کردیتے ہیں ان کی بلندی جبیں خاک نشیں کا مینارہ نوربن گئی ہے ۔ حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں :

بے جراتِ رندانہ برعشق ہے روباہی

بازوہے قوی جسکا وہ عشق یداللی


ای پیپر