07 فروری 2020 2020-02-07

پاکستان جیسے زرعی ملک میں گندم کا بحران اور آٹے کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ایک المیے سے کم نہیں۔ 3لاکھ ٹن گندم کی ارزاں نرخوں پر بیرون ملک بر آمد ، ملک میں کہیں گوداموں میں گندم کا پڑے پڑے سڑنا، کہیں گندم کی بوریوں کی جگہ پر بھوسے اور ریت کی بوریاں بھر کر یہ ظاہر کرنا کہ گودام گندم کے ذخائر سے بھرے پڑے ہیں، آٹے کی ہمسایہ ممالک کو سمگلنگ اور حکومت میں شامل با اثر افراد اور مافیا کا اس سے اربوں روپے کمانا اور مہنگے داموں 3لاکھ ٹن گند م کا در آمد کرنا کچھ ایسے پہلو ہیں جن سے گندم اور آٹے کا حالیہ بحران عبارت ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ حکمرانوں کی نااہلی ، نالائقی اور بد انتظامی خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی حکومتوں کے سر براہان وزرائے اعلیٰ جناب عثمان بزدار اور جناب محمود خان کی انتظامی کمزوری ، نااہلی اور درپیش مسائل اور معاملات کے بارے میں بروقت ضروری اقدامات اور منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیتوں سے عاری ہونے نے اس بحران کو شدید تر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور پہلو جس کا اس بحران میں حصہ ہے وہ حکمران جماعت میں اثر ورسوخ رکھنے والی بعض شخصیات جو گندم اور چینی جیسی غذائی اجناس کے کاروبار سے بالواسطہ یا بلاواسطہ منسلک ہیں ان کے مفادات اور ناجائز منافع خوری اور کروڑوں اربوں روپے بٹورنے کی حرص ہے جس سے گندم ، آٹے اور چینی کی منصوعی قلت پیدا کرکے تجوریاں بھری گئی ہیں۔

گندم اور آٹے کے حالیہ بحران سے یقینا عوام کو پریشانی ہوئی ہے لیکن دیکھا جائے تو آٹے اور گندم کی فراہمی میں عارضی تعطل کے علاوہ کہیں بھی ایسی قلت پید ا نہیں ہوئی کہ آٹے اور گندم بالخصوص آٹے کے حصول کے لیے لوگ مرنے مارنے یا سر پھٹول پر تیارہو جاتے ۔ آٹا سستا مہنگا ملتا رہا اور مل رہا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ہر جگہ پر ، کہیں کم ، کہیں زیادہ۔ لیکن کلی طور پر اس کی سپلائی بند نہیں ہوئی ہاں البتہ اس کی قیمتوں میں اگر دُگنا نہیں تو اس سے کچھ کم اضافہ ضرور کر لیا گیا اور غالباً آٹے کی قلت اور بحران پیدا کرنے والوں کا مقصد بھی یہی تھا کہ مصنوعی قلت اور کمی کا ڈنڈھورا پیٹ کر منہ مانگی قیمت وصول کی جائے جس میں وہ یقیناکامیاب رہے ہیں۔ یہ حکومتی ذمہ داروں کا فرض تھا کہ وہ اس طرح کی صورت حال پیدا نہ ہونے دیتے ۔ ڈیمانڈ اور سپلائی میں توازن برقرار رکھتے ۔ آٹے کی ہمسایہ ممالک کو سمگلنگ پر کنٹرول کرتے ۔ مئی 2019 یا اس سے پہلے جب یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ موسم کی تبدیلی اور بے وقت بارشوں کی وجہ سے گندم کی پیداوار تخمینے سے کم ہوگی اور مکئی کی فصل کے بارے میں بھی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی پیداوار بھی کمی کا شکار ہو رہی ہے اور اس کی کمی کا بوجھ بھی گندم کو اُٹھا نا ہوگا تو پھر ایسے ضروری اقدامات کر لیے جانے چاہیے تھے جن سے گندم کی سپلائی اور ڈیمانڈ میں توازن قائم رہتا اور قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو رُوکا جا سکتا۔ لیکن جہاں نااہلی ، نالائقی اور بد انتظامی گھٹی میں پڑی ہوئی

ہوں وہاں عثمان بزدار ہو یا محمود خان ان کا کیا عمل دخل ہو سکتا تھا ۔ وہاںپھر جہانگیر ترین جیسے ذہین و فطیں لوگوں کی سوچ ، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کو ہی فوقیت ملنی تھی ۔ ناہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ چوکھا آئے ۔ ایسا ہی ہوا بیٹھے بٹھائے گندم اور آٹے کے کاروبار سے منسلک بہت سارے لوگوں نے (جن میں سے بعض کو حکومت میں اثر و رسوخ حاصل ہے ) پانچوں اُ نگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں کے مصداق خوب ناجائز منافع کمایا ۔

حکمران اور ذمہ داران اگر سمجھدار ہوں اچھے ویثرن کے مالک ہوں ، منصوبہ بندی اور فیصلے کرنے کے خوگر ہوں تو پھر حالات و واقعات اور درپیش معاملات و مسائل کا بروقت ادراک کرکے ان کے مناسب حل کے لیے ضروری اور اہم فیصلے کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے ۔ پچھلے سال مارچ، اپریل میں یہ دکھائی دینے لگا تھا کہ گندم کی پیداوار 25لاکھ میٹرک ٹن کے تخمینے سے کم ہوگی۔ اس کی ایک وجہ کھادوں کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ تھا۔ اکتوبر نومبر 2018 میںگندم کی کاشت کے موقع پر یوریا 40کلو بوری 2050روپے اور ڈی اے پی 3850روپے میں مل رہی تھی ۔ یہ قیمتیں اس سے پچھلے سال (اکتوبر نومبر 2017) کے مقابلے میں ڈیوڑھی سے بھی زیادہ تھیں۔ اس طرح کھادیں کم استعمال ہوئیں تو پیداوار نے بھی کم ہونا تھا۔ اس کے ساتھ بے وقت اور بے موقع بارشوں نے رہی سہی کسر نکال دی۔ میں ذاتی طور پر جو ایک چھوٹا سا کسان ہوں اور رزق حلال کمانے والے محنت کش مرحوم کسان باپ کا بیٹا ہونے کے ناطے کھیتی باڑی کے اپنے آبائی پیشے سے رومانس کی حد تک لگائو رکھتا ہوں ۔ ہر سال اپنے بھائیوں کے ساتھ اپنے حصے کے زمین میں سے 4, 5ایکڑ پر گندم کاشت کرتا ہوں تاکہ اپنی سال بھر کی گندم کی ضروریا ت پوری کر سکوں۔ مجھے بھی واضح طور پر یہ نظر آرہا تھا کہ گندم کی پیداوار توقع سے کم ہوگی اور پھر ایسا ہی ہوا کم وبیش ایک تہائی پیداوار کم ہوئی ۔ کیا محکمہ زراعت کے کارپر دازان اور ان کے اوپر بیٹھے اعلیٰ افسران اور ان سے بھی اوپر حکومتی وزراء، وزیر اعلیٰ اور جناب وزیر اعظم کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن جناب وزیر اعظم اور ان کے حکومتی ساتھیوں کو شاید اپنے مخالفین کو "بُرا بھلا کہنے ، " نہ چھوڑیں گے " اور "اندر کر دیں گے" کی دھمکیاں دینے سے فرصت نہیں تھی جووہ اس طرف دھیان دیتے ۔ یہ پچھلے سال مئی جون یا ایک دو ماہ بعد کی بات ہے کہ مکئی کے فصل کے خراب ہونے اور اس کی پیداوار میں کمی کا معاملہ بھی سامنے آگیا تھا۔ مکئی مرغیوں کی فیڈکے اہم جزو کی حیثیت رکھتی ہے مکئی کی کمی کو فیڈ تیار کرنے والے کارخانوں کے مالکان اور کاروبار سے وابستہ آڑھتیوں نے گندم کی خریداری سے پورا کیا۔ اس کے ساتھ گندم کی ارزاں نرخوں پر دوسرے ممالک کو برآمد نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔ اس کا نتیجہ گند م کی کمی کی صورت میں سامنے آنا ہی تھا لیکن پھر بھی پنجاب کی حد تک گوداموں میں اتنی گندم موجود تھی کہ پورے ملک خاص طور پر خیبر پختون خوا کی ضروریا ت پورے کرنے کے باوجود گندم اور آٹے کی کوئی قلت پیدا نہ ہوتی لیکن سمگلنگ اور حکومت میں شامل بعض بااثر افراد کی ناجائز منافع خوری اور حکومتی بد انتظامی اور نااہلی نے مصنوعی قلت کی صورت حال کو جنم دیا۔

گند م اور آٹے کی قیمتوں اور اس کے ساتھ چینی سمیت کچھ دیگر غذائی اجناس کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں جو اضافہ ہوا ہے بلاشبہ وہ ہوش ربا ہے یہاں میں اپنے ایک ذاتی تجربے اور مشاہدے کا ذکر کرنا چاہوں گا ۔ ادھر پنڈی میں میرے گھر کے سامنے سڑک پر دوآٹا چکیاںہیں جو تقریباً پچھلے دو عشروں سے کامیابی سے چل رہی ہیں ۔ گندم کی پسائی کے ساتھ دیسی گندم کا خالص آٹا، خالص بیسن ، مصالحے ، دالیں اور چاول وغیرہ یہاں بکتے ہیں۔ تین چار ہفتے قبل کی بات ہے کہ گھر کے لیے بیسن چاہیے تھا تو میں چکی پر گیا ۔ 1کلو بیسن کی قیمت پوچھی تو چکی والے نے جو میرا اچھا جاننے والا ہے نے مجھے بتایا کہ 180روپے میں ہکا بکا رہ گیا کہ ایک آدھ ماہ قبل 130یا 140روپے کا کلو خریدا تھا ۔ میں نے اپنی حیرانی کا اظہار کیا تو وہ کہنے لگا کہ آپ کیا بات کر تے ہیں گندم کا آٹا بھی 45روپے سے 70روپے کلو تک پہنچ چکاہے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ آخر اتنا جلد ی قیمتوں میں اضافہ کس طرح ہوگیا اور کسی نے اس کو کنٹرول بھی نہیں کیا یقینا یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں ہم اپنی زرعی اجناس کی قیمتوں پر بھی کنٹرول نہیں رکھ سکتے اور حکمرانوں کی بد انتظا می اور بعض مخصوص حلقوں کی ناجائز منافع خوری ہمارا منہ چڑاتی رہتی ہے ۔


ای پیپر