07 فروری 2020 2020-02-07

قومیں اپنے ماضی کے ساتھ اس لئے وابستہ رہتی ہیں تاکہ وہ اپنے ماضی کی روشنی میں اپنے مستقبل کی منزلو ں کا تعین کر سکیں کیونکہ جس کا ماضی نہیں ہو تا اس کا مستقبل بھی نہیں ہو تا لیکن ہماری سیاسی روایات میں بڑی وسعت اور کشادہ دلی ہے یہاں آپ کے ماضی کا نہیں پوچھا جاتا۔اقتدار نئی باری شروع ہوتے پچھلے سارے ریکارڈ واش ہو جا تے ہیں نیا سفر ہے پرانے چراغ گل کر دو کے مصداق سارا کھیل ایک دفعہ پھر از سر نو شروع ہوتا ہے۔اگر آپ پچھلے تین انتخابات پر غور کر یں تو آپ کو ایسی سیاسی پارٹیاں اور ساسی چہرے بہ آسانی مل سکتے ہیںجنہوں نے ہر دفعہ اپنی پارٹی بدلی اور نئی برسر اقتدار پارٹی نہ صرف جائن کی بلکہ اس میں وزارت بھی حاصل کی۔ اس کے باوجود عوام ان کو ووٹ بھی دیتے ہیں اور ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا جا تا۔

پاکستان مسلم لیگ ق نے اپنی پیدائش کے بعد سب سے پہلے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے ساتھ ہم آغوش ہو کر طاقت کے نشے کا لطف اٹھایا۔ اس سے پہلے یہ پہلے یہ پارٹی پاکستان مسلم ن کے اندر سب سے مراعات یافتہ پریشر گروپ تھا جنہوں نے نو ازشریف کی گجرات آمد پر انہیں ان کی گاڑی سمیت کندھوں پر اٹھا کر ایک نا قابل عبور سنگ میل طے کیا۔ چوہدری پرویز الٰہی کا مشرف دور میں یہ بیان آن ریکارڈ ہے کے ہم دس دفعہ جنرل مشرف کو وردی سمیت منتخب کریں گے۔ جب مشرف کے اقتدارکا سورج سوا نیزے پر تھا تو چوہدریوں اور جنرل مشرف کے درمیان قر بتیں اتنی گہری تھیں کہ بیچ میں ہواکا گزربھی مشکل تھا پھر وقت بد لااور پیپلزپارٹی بے نظیر بھٹو کی قربانی دے کہ اقتدار میں آئی تو چوہدری پرویز الٰہی کیلئے ڈپٹی پرائم منسٹر کا عہدہ آئین سے بالا ترہو کر آرڈر پر تیار کیاگیا۔ پیپلز پارٹی کا دور اپنے منطقی انجام کو پہنچا تو قرعۂ فعال پاکستان تحریک انصاف کے نام پر نکل آیا۔ یہ محض حسن اتفاق ہے یا نہیں ہے کہ تحریک جسے عوام اپنے لئے جنت کا پھل سمجھتے تھے اس نے سب سے پہلا سیاسی اتحاد ق لیگ سے کیا تاکہ پنجاب میں ان کی حکو مت قائم ہو سکے۔

پاکستان کے اقتدار میں پنجا ب کو فیصلہ کن اہمیت حاصل ہے کیونکہ عموماً جو پنجاب میں جیتتا ہے وہی وفاق میں حکومت بناتا ہے تحریک انصاف نے ق لیگ کے ہاتھو ں بلیک میل ہو کر ق کی منہ مانگی قیمت پر ان سے اتحاد کیا جو قطی طو ر پر غیر فطری غیر جمہوری اور غیر اخلاقی تھا مگر دونوں میں سے کسی نے بھی اس کو گنا ہ نہیں سمجھا بلکہ جمہوریت کا حسن اور پاکستان کا وسیع تہ مفاد قرار دیا گیا۔ تحریک انصاف نے سمجھا تھا کہ ق لیگ آٹے میں نمک والی ویلیوہوگی مگر یہ ان کی غلط فہمی تھی انہیں پتہ نہیں تھا کہ یہ وہ پارٹی ہے جس نے آج تک جرنیلوں اور سیاستدانوں سب کے ساتھ ہمیشہ اپنی شرائط پر سودا بیچا ہے۔ بقول حبیب جالب ہر شخص یہاں پر تاجر ہے ہر روز

تجارت ہوتی ہے۔ کوئی جانے نہ جانے تحریک انصاف نے اقتدار میں آ کر ہر وہ کام کیا ہے جس کی وہ اقتدار سے باہر بیٹھ کر مذمت کیا کرتے تھے۔ ق لیگ کے ساتھ گٹھ جوڑمیں سیاست جمہوریت قومی مفاد یا اخلاقی اصولو ں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ون پوائنٹ ایجنڈا یہی تھا کہ

’’دیوار بنو گے کتنے میں

تم پیار کرو گے کتنے میں‘‘

اقتدار کے ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے عوامی بے چینی میں شدت اور تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی جھلک ق لیگ نے محسوس کر لی ہے وہ اپنے طور پر یہ لگ گئے ہیں کے عوام کو ظاہر کیا جائے کہ ناقص طرز حکمرانی میں ہم حکومت کے ساتھ نہیںہیں۔ ق لیگ اس وقت حکومت میں رہ کر اپوزیشن کے مزے بھی لے رہی ہے اور تحریک انصاف کو خبردار کر رہی ہے کہ ہمارا حصہ بڑھائو ورنہ ۔۔۔۔اس ادھورے فقرے نے حکومت کیلئے مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔

ق لیگ کے ساتھ تعلقات کی رفوگری کے لیے جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کو مقرر کیاگیا۔ اس دوران ملک میں آٹے اور چینی کا جعلی بحران پیدا ہو گیا۔ یہ جعلی اس لئے تھا کہ یہ دونوں چیزیں پہلے سرپلس قرار دے کر برآمد کی گئیں اور اب مہنگے داموں درآمد کر نے کا فیصلہ کیاگیا جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کو مخبری ہوئی کہ اس سارے سکینڈل میں اس کے اپنے لوگ ملوث ہیں جس کے بعد جہانگیر ترین کو ق لیگ کے ساتھ مذاکرات سے ہٹا کر شفقت محمود کو لایا گیا جس سے معاملہ پہلے سے زیادہ خراب ہوگیاجو جھگڑا ڈرائنگ روم میں تھا وہ میڈیاکی زینت بنا اور چوہدری پرویزالٰہی نے باباشاہ کاپنجابی شعر سنایا۔

تحریک انصاف کی اعلی قیادت کو فضل الر حمن کے اسلام آباد دھر نے کے دوران چوہدری پرویزالٰہی کو ان سے مذاکرات کیلئے مقررکیاگیا تھا تو ایک موقع پر حکومت کو شک ہونے لگا تھا کہ چوہدری صاحب کی ہمدردی مولانا کے ساتھ ہے۔ اس طرح کی ملتی جلتی صورت حال جہانگیر ترین کے بارے میں پیدا ہوئی تو انہیں ہٹا دیا گیا اب جب پرویز الٰہی اس بات پر سراپا احتجاج ہیں تو یہ شک پہلے سے مضبوط ہونے لگا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے ن لیگ کے ساتھ رابطے استوار کر لئے ہیں اور اس سہولت کاری میں تحریک انصاف پنجاب کی اہم ترین شخصیت کا نام آرہا ہے جو ن لیگ سے ہجرت کر کےPTI میں تشریف فرماہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی اب اپنا سپیکر کا عہدہ پورری طاقت سے تحریک انصاف کے خلاف استعمال کرنے کے موڈ میں ہیں تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کی جا سکیں۔ نمبرگیم میں اس وقت حکومت کے پاس پنجاب اور اسمبلی میں 191جبکہ ن لیگ کے پاس 180 ممبران ہیں۔ اس 191میں 10سیٹیں ق لیگ کی شامل ہیں۔ چوہدری پرویزالٰہی کی جادوگری یہ ہے کہ ان کے پاس تحریک انصاف اور ن لیگ دونوں جماعتوں سے خفیہ ممبران بوقت ضرورت اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دینے کیلئے تیار ہیں گویا اس تاش کے کھیل میںحکم کا بادشاہ ان کے پاس ہے پنجاب کا اقتدار ادھر جائے گا جدھر ق لیگ جائے گی۔

ان حالات میںاگر ن لیگ اپنے پیکرخاکی میں جاں پیدا کر لے تو وہ پنجاب میں کھیل کا پانسہ پلٹ سکتی ہے مگر وہ ابھی اجتناب کر رہے ہیں وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے فصیلوں میں آزاد نہیں ہیں حالانکہ ن لیگ کے کچھ لوگ شہباز شریف کو کہہ رہے ہیں کہ مرنا تو ایک دن ہے ڈرنے سے فائدہ کیامگر شہباز شریف نے فی الحال ڈیلی میل کے خلاف جھوٹی خبر پر عدالت جانے پر ہی اکتفا کیا ہے۔جب پارٹی کے اندر سے شہباز شریف کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ میاں نوازشریف آپ سے زیادہ بولڈ اور بڑے فائیٹر ہیں تو شہباز شریف انہیں جواب نہیں دیتے اندر ہی اندر سوچتے ہیں کہ میاں نواز شریف کی ایڈونچرز کی وجہ سے ہی انہیں بے دخل ہونا پڑا۔

اگر پنجاب میں عثمان بزدار کچھ ڈلیور کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی مگر جنات کہتے ہیں کہ عمران خان تب تک وزیراعظم ہے جب تک پنجاب میں عثمان بزادر وزیراعلیٰ ہے۔ شاید اسی لیے اب عثمان بزدار کی کرسی نشانے پر ہے۔


ای پیپر