07 فروری 2020 2020-02-07

افواہ پراپیگنڈے کا اہم ذریعہ کہلاتی ہے لیکن افواہ کو اچھی طرح جانچے پرکھے بغیر رد کردینا خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی تازہ مثال چین میں پھیلنے والے خطرناک کورونا وائرس کی پہلے پہل اطلاع دینے والے آنکھوں کے چینی ڈاکٹر کی دی جاسکتی ہے جنہوں نے سب سے پہلے اس کورونا وائرس کی اطلاع اپنے میڈیکل سوشل گروپ پر دی مگر انہیں سماج میں افراتفری پھیلانے والا مجرم فرد قرار دیا گیا۔ انہیں تھانے بلاکر تنبیہہ کی گئی کہ وہ آئندہ ایسی سماج دشمن افواہیں نہ پھیلائیں۔ خطرناک کورونا وائرس کی سب سے پہلے اطلاع دینے والے چینی ڈاکٹر کا کیا انجام ہوا؟ ذیل میں مختصر حالات درج ہیں۔ بی بی سی کے مطابق رواں برس جنوری کے آغاز پر چین ووہان میں حکام کو پہلی مرتبہ کورونا وائرس سے خبردار کرنے والے ڈاکٹر لی وینلیانگ اس نئے وائرس کے خلاف جنگ ہار گئے ہیں۔ چین میں کورونا وائرس سے اب تک کم از کم 560 افراد ہلاک اور 28 ہزار متاثر ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر لی وینلیانگ ووہان کے مرکزی ہسپتال میں آنکھوں کے ڈاکٹر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور انہوں نے 30 دسمبر کو اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو کورونا وائرس سے خبردار کیا تھا۔ اپنے ساتھی عملے سے یہ بات کرنے کے بعد مقامی پولیس ڈاکٹر لی کے پاس آئی اور انہیں تنبیہہ کی کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلنے سے متعلق باتیں کرنا بند کردیں مگر ایک ہی ماہ بعد فروری 2020ء میں جب اس ڈاکٹر نے مقامی ہسپتال کے بستر پر لیٹ کر یہ کہانی سوشل میڈیا پر شیئر کی تو چین میں ان کا خیرمقدم ایک ہیرو کی طرح کیا گیا۔ سوشل میڈیا سائٹ پر انہوں

نے اپنی کہانی یوں شروع کی تھی کہ ’’تمام احباب کو خوش آمدید، میں لی وینلیانگ ہوں اور ووہان سینٹرل ہسپتال میں ماہر امراض چشم کے طور پر کام کررہا ہوں‘‘۔ اُس وقت تک 34 سالہ ڈاکٹر لی کے بقول وہ ایسے سات مریضوں کو دیکھ چکے تھے اور ان کا خیال تھا کہ ان مریضوں پر سارس جیسے کسی وائرس نے حملہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ سارس وائرس کی عالمی وبا 2003ء میں پھیلی تھی۔ انہوں نے 30 دسمبر کو اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو ایک مشترکہ گروپ میں پیغام بھیجا تھا کہ جس میں انہوں نے ساتھیوں کو وائرس سے متعلق متنبہ کیا تھا اور مشورہ دیا تھا کہ وہ متاثرہ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے حفاظتی دستانے اور کپڑے پہنیں تاکہ وائرس انہیں متاثر نہ کرسکے۔ اس پیغام کے چار دن بعد انہیں پبلک سیکورٹی بیورو کے دفتر میں طلب کیا گیا جہاں انہیں ایک تحریر پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔ اس خط میں ڈاکٹر لی پر الزام لگایا گیا تھا کہ ’’وہ غلط قسم کے دعوے کرکے شدید نقص امن کے مرتکب ہوئے ہیں‘‘۔ اس خط میں مزید لکھا گیا تھا کہ ’’ہم آپ کو متنبہ کرتے ہیں اگر آپ نے اپنی ہٹ دھرمی اور ضد جاری رکھی اور اس غیرقانونی سرگرمی کو فروغ دیا تو آپ کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ کیا آپ کو سمجھ آئی ہے؟‘‘ اس خط کے نیچے ڈاکٹر لی سے دستخط لیے گئے اور ڈاکٹر لی نے لکھا ’’جی میں سمجھ گیا ہوں‘‘۔ ڈاکٹر لی ان آٹھ افراد میں سے ایک شخص تھے جنہیں افواہیں پھیلانے کے الزام میں تفتیش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جنوری کے اواخر میں ڈاکٹر لی نے اس خط کی کاپی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شائع کی اور بتایا کہ جب انہوں نے وائرس کے حوالے سے لوگوں کو متنبہ کرنے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کے بعد مقامی حکام نے ڈاکٹر لی سے معذرت بھی کی مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ جنوری کے ابتدائی ایام میں ووہان میں حکام بضد تھے کہ یہ وائرس صرف ان لوگوں میں پھیل سکتا ہے جو متاثرہ جانوروں کے ساتھ براہ راست کام کرتے ہیں یعنی مویشی یا دیگر جانوروں کی منڈیوں میں۔ اس وقت تک متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کو بھی کسی طرح کے حفاظتی اقدامات کرنے کی بابت رہنمائی فراہم نہیں کی گئی تھی۔ اس خط کو سائن کرنے کے ایک ہفتے بعد ڈاکٹر لی ہسپتال میں کالے موتیے کا شکار ایک خاتون کا علاج کررہے تھے۔ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ آنکھوں کی بیماری کے علاوہ وہ خاتون کورونا وائرس سے بھی متاثر تھیں۔ اپنی سوشل میڈیا کہانی میں ڈاکٹر لی نے بتایا تھا کہ اس خاتون میں موجود وائرس سے متاثر ہونے کے چند دن بعد 10 جنوری کو انہیں کھانسی شروع ہوئی۔ ان کے والدین بھی بیمار پڑگئے جنہیں ہسپتال لایا گیا۔ اس واقعے کے دس روز بعد یعنی 20 جنوری کو چین نے باضابطہ طور پر نئے کورونا وائرس کے پھیلائو کا اعلان کرتے ہوئے ہنگامی صورتحال کے نفاذ کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر لی کے بہت سے ٹیسٹ ہوئے مگر ابتدائی طور پر ان میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تشخیص نہیں ہوئی۔ تاہم 30 جنوری کو ان میں وائرس کی موجودگی کی تشخیص ہوگئی تھی۔ اپنے جسم میں وائرس کی موجودگی کے حوالے سے کی گئی پوسٹ کے ساتھ انہوں نے ایک ایموجی بھی پوسٹ کی جس میں ایک کتا بنا ہے جس کی آنکھیں پیچھے کی جانب گھومی ہوئی ہیں اور زبان منہ سے باہر لٹک رہی ہے۔ اس پوسٹ کو ہزارہا لوگوں نے سراہا اور اس پر اپنی آراء کا اظہار اور ڈاکٹر لی کی سپورٹ میں پیغامات لکھے۔ دنیا کو خطرناک کورونا وائرس کی سب سے پہلے اطلاع دینے والے ڈاکٹر لی وینلیانگ جو ایک مریضہ کے ذریعے خود بھی کورونا وائرس کے حملے کا شکار ہوگئے تھے بیماری سے صحت یاب نہ ہوسکے اور گزشتہ دن کورونا وائرس سے ہلاک ہوگئے۔ اس واقعے کو سامنے رکھ کر یہ تجزیہ کیا جاسکتا ہے کہ حکام کو افواہوں کو فوری رد کرنے کی بجائے ان کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور مکمل تحقیق کے بعد ہی افواہ کے بارے میں رائے قائم کرنی چاہیے۔


ای پیپر