07 فروری 2020 2020-02-07

پوٹھوہار قدرت کی رنگا رنگیوں کا عجیب وغریب نمونہ ہے‘ کہیں اُونچی نیچی کٹی پھٹی زمین ندیاں نالے ‘ کہیں ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح کُھلے ’’میرے‘‘ میدان‘ کہیں اُونچی اُونچی کھردری چٹانیں اور کہیں نرم نرم مٹی اور ریت۔ میرے پٹھوار کو صوبہ ہونا چاہیے ‘ کیا ہے جو اس خطے میں نہیں۔ یہی حال اس خوبصورت وادی کے باسیوں کا ہے‘ جس سمت چلے سب کو ساتھ لے کر چلے۔ پوٹھوہار دیس کے رہنے والے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہیں۔ اگر ہم صرف سیاست ہی کی بات کریں تو اس دھرتی نے کئی نامی سپوت کئے۔ چیئر مین ن لیگ و سیکریٹری جنرل ورلڈ مسلم کانگریس سینیٹر راجہ محمد ظفر الحق(اپوزیشن لیڈر سینٹ)‘ چوہدری نثار علی خان‘راجہ حسن اختر مرحوم‘ سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر بخاری‘ نامور قانون دان راجہ محمد انور‘ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان‘ راجہ نادر پرویز‘ راجہ شیر جنگ مرحوم‘ وزیر ریلوے شیخ رشید‘ عالمی شہرت یافتہ دانشور ادیب راجہ انور‘ کرنل راجہ اشرف مرحوم‘ وفاقی وزیرسرور خان‘ کرنل حبیب مرحوم‘ دادا امیر حیدر‘ مرحوم خاقان عباسی‘ مہرین انور‘ چوہدری ریاض‘ صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ‘ سابق وزیر اعلیٰ KPK راجہ سکندر زمان مرحوم‘ جنرل شاہنواز مرحوم‘ سابق چیئرمین BISP محترمہ فرزانہ راجہ‘ مرحوم جنرل ٹکا خان‘ سردار غلام عباس‘ MNA راجہ ریاض‘ راجہ جاوید اخلاص‘ سابق ایم این اے راجہ ظہیر مرحوم‘ ڈاکٹر بابر اعوان‘ زمرد خان‘ سابق ڈپٹی سپیکر حاجی نواز کھوکھر ‘مرحوم سردار فتح خان‘ انجینئر قمر الاسلام ‘ قیوم بٹ مرحوم‘ سینیٹر چوہدری تنویر خان‘ سابق وزیر پیداوار راجہ شاہد ظفر‘ مرحوم نذر کیانی‘ غلام مرتضیٰ ستی‘ مرحوم کرنل یامین‘ حنیف عباسی‘ سلطان ظہور اختر‘ راجہ اشفاق سرور‘ راجہ خرم نواز‘ ملک ابرار احمد‘ مرحوم چوہدری خالد‘ راجہ افضل جہلم‘ راجہ ناصر دھمیال‘ مرحوم کالا خان مری‘ سینیٹر نجمہ حمید‘ راجہ ایم ستار اللہ‘ عامر کیانی‘ راجہ محمد علی‘ بیرسٹر دانیال‘ حنیف راجہ‘ حاجی امجد چوہدری‘ ظفر علی شاہ‘ صداقت عباسی‘ شوکت بھٹی‘ راجہ صغیر‘ کرنل شبیر‘ انجم عقیل خان‘ مریم اورنگزیب‘ اور بھی بڑے نام ہیں لیکن آج میرا موضوع ہیں سابق وزیرِ عظم راجہ پرویز اشرف جو میرے پوٹھوہار کی مٹی کی خوشبو ہیں۔

مشرف آمریت میں سیاست کے بڑے بڑے پنڈت و پردھان بامشرف ہو گئے تھے ۔تب پرویز اشرف نے ثابت کر دکھایاتھا کہ میں صبر استقامت والا ہوں اور ہمت کا ہمالہ ہوں۔ کون جیتا اور کون ہارا یہ ’’اور‘‘ بات ہے لیکن بہت ہی کم لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہے کہ عہدِ پرویز مشرف میں پرویز اشرف نے کیسی مشکلات اورپُر خطر ترین حالات میں بڑی ہی بہادری اور بے باکی سے طارق محبوب کیانی کے مقابلے میں ضلعی ناظم کا الیکشن کس طرح لڑا اور نتیجتاً ہوا وہی جو یہاں’’ہوتا ہوتا‘‘ ہے۔ الیکشن 2018ء میں پورے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے اُمیدواروں کو 1300 یا دو تین تین ہزار ووٹ ملے اور کسی نے بہت ہی تیر مار لئے تو 13000 ہو گے۔ جب پنڈی پوٹھوہار میں پیپلز پارٹی کو امیدوار ہی نہیں مل رہے تھے تو ایسے حالات میں پی پی ٹکٹ کے ساتھ بھاری اکثریت سے جیتنا پارٹی نہیں پرویز اشرف کا کمال ہے۔ پرانی بات ہے پرویز اشرف نے مجھے اپنے گھر اسلام آباد بلایا‘ ان کے گھر ہم دونوں بیٹھے ہی تھے تو ڈاکٹر اسرار شاہ ّشاید بسلسلہ پارٹی ٹکٹ) وہاں آ گئے انتہائی اہم موضوعات پر بات ہو رہی تھی تو اچانک پرویز اشرف کے انتخابی حلقے سے کافی لوگ آ گئے اپنے مسائل و مشکلات اور کاموں کی غرض سے، پرویز اشرف نے پرتباک طریقے سے خوش آمدید کہا ان کے کام کروائے اور خوب خدمت کی پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ان لوگوں کی اور بڑی بات یہ کہ بہت ہی محبت و خلوص کے ساتھ حالانکہ ان میں کچھ ن لیگی لوگ بھی تھے۔ وہ لوگ خوشی خوشی واپس گئے

جب سالوں پہلے پرویز اشرف پر کرپشن کے مقدمات سامنے آئے تب پنڈی پوٹھوہار بالخصوص گوجر خان کی خواتین مائوں بہنوں بچیوں کے یہ جذبات و احساسات سنے گئے کہ پرویز اشرف مر سکتا ہے مگر کرپشن نہیں کر سکتا‘ کیونکہ وہ جھکنے والا ہے نہ بکنے والا۔پرویز اشرف پر 437 افرادکو غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کا الزام تھا۔ نیب نے سابق وزیرِ اعظم سمیت آٹھ ملزموں کے خلاف 2016ء میں احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا اور آج وہ وقت بھی آگیا کہ احتساب عدالت نے راجہ پرویز اشرف کو پیپکو اور گیپکو میں جعلی بھرتیوں کے نیب ریفرنس سے بری کر دیا ہے۔

جیالوں اور راجہ جی کے متوالوں کیلئے یہ انتہائی خوش آئند خبر ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد اور ڈاکٹر نفیسہ شاہ فرماتی ہیں کہ راجہ پرویز اشرف کا بری ہونا حق اور سچ کی فتح ہے جبکہ راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ ’’ہم اپنے مقدمات کو عدالتوں میں لڑتے ہیں‘ عدالتوں کے ساتھ نہیں لڑتے‘ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے۔ خوش ہوں کہ اللہ کریم کا بہت بڑا کرم ہوا‘ اللہ کی مہربانی سے آج ہمیں انصاف مل گیا ہے‘‘۔


ای پیپر