07 فروری 2020 2020-02-07

ملک بھر میں اس بار بھی ہر سال کی طرح پانچ فروری کو یوم یک جہتی کشمیر منایا گیا، بس اس بار منظر نامہ کچھ الگ تھا کیونکہ پہلے بھارت کبھی کبھار وادی میں در اندازی کرتا تھا لیکن اس بار تو وہ گزشتہ چھ ماہ یعنی پانچ اگست سے کشمیر پر قابض ہے، وہاں مسلسل کرفیو ہے مگر کشمیر سے محبت کے دعوے دار صرف تقریروں پر اکتفا کر رہے ہیں اور شکر ہے کہ یہ یوم یک جہتی کشمیر آگیا ورنہ مجھے تو پچھلے دو ماہ سے لگ رہا تھا کہ شائد یہ مسئلہ بھی دیگر مسلمانوں کے مسائل کی طرح پس پشت ڈالا جاچکا ہے لیکن اس سال یوم یک جہتی کشمیر میں پہلے سے زیادہ جوش و خروش اور ملی یک جہتی دیکھ کر امید کی ایک کرن جاگی ہے۔

سب سے پہلے یوم یک جہتی کشمیر کے حوالے سے اہم سرگرمیاں اور پھر ایک مختصر تجزیہ یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا سلسلہ گزشتہ 30 برسوں سے جاری ہے، جو سب سے پہلے انیس سو نوے میں اس وقت کے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کی اپیل پر منایا گیا ، انہوں نے ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ہر سال یہ دن منانے کا اعلان کیا جس کے بعد تمام حکومتوں نے اسے اب تک جاری رکھا ہے۔ تاہم اس بار اس کو کچھ الگ طریقے سے منایا گیاہے۔

ملک بھر میں کشمیریوں کے حق میں مارچ اور ریلیاں منعقد کیے جانے کے ساتھ مرکزی شاہراؤں پر بینرز نصب کیے گئے تھے۔ جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) نے کشمیر ڈے کے موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے خصوصی ملی نغمہ جاری کردیا۔ اس موقع پر کراچی میں جماعت اسلامی نے یوم یکجہتی کشمیر پر 20 کلو میٹر طویل انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر ریکارڈ قائم کر دیا۔ اس بار یوم یکجہتی کشمیر ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، پہلے 5 ٹاپ ٹرینڈ کشمیری عوام سے یکجہتی کے نام تھے۔اس میں لوگوں نے اپنے اپنے انداز سے بھارتی مظالم کی مذمت کی۔ جبکہ گوگل ٹرینڈزمیں بھی یہی ایشو نمایاں رہا، کسی نے کشمیر ڈے کے واٹس ایپ سٹیٹس گوگل کیے، کوئی کشمیر کا جھنڈے یا پھر وہاں کی تصاویر تلاش کرتا رہا۔ صارفین نے فیس بک پر بھی دل کھول کر کشمیر سے محبت کا اظہار کیا اور عملی طور پر ریلیوں میں شریک ہوئے۔

قومی ایئر لائن نے بھی کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کا دلچسپ اور علامتی اظہار کرنے کیلئے تمام مسافروں کی کشمیری چائے اور پلائو سے تواضع کی۔ سب سے اہم بات اس دن بھارتی اداکارہ زائرہ وسیم نے مودی سرکار اور بھارتی میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے مگر میڈیا ان مظالم کو چھپا رہا ہے۔زائرہ وسیم نے انسٹاگرام پر ایک پھول کی تصویر شیئر کی جس کے ساتھ تحریر کیا کہ امید اور مایوسی کے دوران کشمیر ابھی تک مصائب کا سامنا کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر مظفر آباد کا دورہ کیا اوراپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے اقدامات کی وجہ سے تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے مودی 5 اگست کو بہت بڑی غلطی کر بیٹھا ہے، میرا ایمان ہے کہ اب کشمیر آزاد ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ کشمیری ماؤں بہنوں بیٹیوں کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے گھروں سے نکلیں، چوکوں اور چوراہوں میں بھی، شہروں اور دیہاتوں میں بھی، سکول و کالجز اور مدارس و مساجد میں بھی۔ جہاں جہاں بھی پاکستانی موجود ہیں، انھیں کشمیر کی خاطر نکلنا ہے۔ کیونکہ کشمیر اپنے لیے نہیں پاکستان کے لیے لڑ رہے ہیں۔

لاہور میں جماعت اسلامی کی جانب سے مال روڈ پر یکجہتی کشمیر مارچ کا انعقاد کیا گیا - بڑے،بچے اور خواتین کی کثیر تعداد نے مارچ میں شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر اگر حکومت نے کشمیریوں کے حق میں اقدامات نہ کیے تو قرار دے گی۔تاریخ انہیں غدار قرار دے گی۔ اس مسئلے پر کسی بھی قسم کی سودے بازی نامنظور ہے۔ کشمیر کا ہر گھر قبرستان بن گیا ہے۔ معصوم بہنیں ہاتھ میں پتھر لیکرہندوستانی افواج کیخلاف کھڑی ہو جاتی ہیں۔ مودی کو جرات پاکستانی قیادت کی کمزوری کی وجہ سے ہوئی۔ عمران خان نے آج اگر سید علی گیلانی، یاسین ملک، میر واعظ، ڈاکٹر فیاض سمیت کشمیری رہنماؤں پر ہونیوالے مظالم پر آواز نہ اٹھائی تو تاریخ انہیں ملک کاغدار لکھے گی۔

یہ تھی کشمیر ڈے کی روداد!

اس سب میں حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور حکومت اپوزیشن عوام سب ایک پیچ پر نظر آرہے ہیں۔ پوری دنیا کوایک مثبت پیغام گیا کہ ہم واقعی کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ یقینا ان کشمیریوں کے لیے بھی حوصلے کا باعث ہوگا۔جن کا یہ کہنا ہے کہ ہم دن میں چھ نمازیں پڑھتے ہیں۔ فجر،ظہر، عصر، مغرب،عشا اور نماز جنازہ!

اب سٹیٹس لگانا، گانے جاری کرنا، تقریر کرنا سب ٹھیک ہے لیکن

حالات کی سنگینی اس چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ ہمیں اب کچھ حقیقی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

کشمیریوں سے علامتی یکجہتی ، کوئی تقریر یا ٹویٹ کر دینا موثر حکمتِ عملی نہیں ہے۔

اب واقعی میں ایک نئے بیانیے اور نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو ان زمینی حقائق کا جواب دے، جنھیں مودی نے بدلا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی۔بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف پاکستان اب تک نہ تو کوئی مؤثر لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا۔ ابھی تک ایسی ایک بھی ڈاکیومنٹری تک نہیں بنی جوعالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی دہشت گردی کو اجاگر کرتی۔

وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے کشمیریوں کی نظریں پوری امت باالخصوص پاکستان کی راہ تک رہی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ یوم یک جہتی کے بعد یہ تحریک عملی شکل اختیار کرتی ہے یا بات پھر دعووں تک دھری رہ جائے گی۔

محترم شاعر نامور قطعہ نگار اقبال راہی نے بہت ہی حسب حال اشعار کہے ہیں۔

کرفیو اب بھی ہے اس وادی میں قائم دائم

کچھ نہ تم کر سکے ہمدردی جتانے والو

جلسوں سے اور جلوسوں سے نہیں کچھ حاصل

یوم یک جہتی کشمیر منانے والو

میرے چند اشعار اس حوالے سے

دیو کی قید میں جیسے ہو اک شہزادی

سسک رہی ایسے کشمیر کی یہ وادی

منجمد سی نظروں میں برفیلی آس

بوڑھے کندھے پائیں گے کب آزادی

مردہ ضمیر جاگیں تو کچھ بات بنے

مائیں آنچل پھیلائے ہیں فریادی

منصف عالم تیرا عدل کہاں کھویا

ہر زنجیر جہاں کی ہم نے ہلا دی


ای پیپر