انڈر 19ورلڈ کپ میں بھارت کے ہاتھوں شکست، شعیب اختر پی سی بی پر برس پڑے
07 فروری 2020 (19:32) 2020-02-07

اسلام آباد: انڈر 19ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کے بعد سابق فاسٹ بولر شعیب اختر پی سی بی پر برس پڑے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے  انڈ ر 19 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔شعیب اختر نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ انڈر 19کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی بہترین پرفارمنس کے لیے سب سے ضروری ہوتا ہے کہ ان کا کوچ بہترین ہو جیسا بھارت کی انڈر 19ٹیم کا ہے،یہاں میں، یونس خان اور محمد یوسف پاکستان کرکٹ ٹیم کی بہتری کے لیے اپنی خدمات دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں لیکن پی سی بی کی جانب سے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں ہو رہی،یونس خان پی سی بی کے پاس نوکری مانگنے گئے تو وہ یونس خان سے بحث کرنے لگ گئے کہ آپ 15 لاکھ نہیں بلکہ 13لاکھ لے لو جس پر یونس خان نے ان کو کہا کہ یہ آپ ہی رکھ لو۔

شعیب اختر نے کہا کہ پی سی بی پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑیوں و کرکٹ اسٹارز کے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر میں، محمد یوسف اور یونس خان اِن لڑکوں کی کوچنگ کرتے تو میں دیکھتا کہ کون ایسے ہار کے آتا، کس کی پرفارمنس بری ہوتی، میں دیکھتا کہ یوسف کیسے رنز نہیں کرواتا اور میں دیکھتا کہ یونس کے ہوتے ہوئے لڑکے کیسے پرفارم نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ بڑے کاموں کے لیے بڑے بندے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ اِس لیے نہیں کہہ رہا کہ مجھے نوکری چاہیے بلکہ ٹیم کی خراب صورتحال کو محسوس کر رہا ہوں اور پی سی بی کو بھی اِس کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈر 19 ٹیم کے سیمی فائنل میں پاکستانی ٹیم نادان لگ رہی تھی جبکہ بھارت کی ٹیم کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ بھارت کی سینئر ٹیم ہو، اِس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کا پانچ سال سے ایک ہی کوچ ہے اور وہ ہے راہول ڈریوڈ ۔انہوں نے کہا کہ اب تو راہول ڈریوڈ کو بھارت کی ساری کرکٹ اکیڈمیوں کے اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں اور اس نے اپنے لڑکوں سے کہا ہے کہ جو اِس بار ورلڈ کپ کھیلے گا وہ اگلے ورلڈ کپ میں نہیں کھیلے گا۔


ای پیپر