میں نے مال روڈ پر کیا دیکھا؟
07 فروری 2020 2020-02-07

کیا اس قو م کا مفاد اس میں ہے کہ جھوٹ بولا جائے، سچ کو چھپادیا جائے حالانکہ ہمیں حکم ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاﺅ اور حق کو مت چھپاﺅ اگر تم جانتے ہو۔ میں دو روز قبل والے یوم یکجہتی کشمیر کی بات کر رہا ہوں جسے ربع صدی سے زائد عرصے منایا جارہا ہے۔ میرے ذہن میں نوے کی دہائی کے وہ یوم کشمیر بھی تازہ ہیں جب انہیں گلی گلی، محلے محلے میں منایا گیا تھا مگر پھر یوں ہوا کہ یکجہتی کایہ اظہار، بڑی حد تک، مال روڈ تک محدود ہو کے رہ گیا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ لاہور میں اب مال روڈ کے سوا کہیں کوئی جلسہ، جلوس یا ریلی نہیں ہوتی مگر پانچ فروری کی اصل ایکٹویٹی مال روڈ پر ہی ہے۔ میں نے برس ہا برس فیصل چوک سے مسجد شہدا تک بڑی بڑی سیاسی جماعتوں ہی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے سکولوں کے بچوں تک کو مارچ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابھی گذشتہ برس مجھے جے کے ایل ایف کے کیمپ کے باہر فوجی وردی پہنے ایک بچہ ملا، اس نے جس جوش اور جذبے سے کشمیر کی بات کی اس کے سوشل میڈیا پر ویوز کئی ملین رہے،کمنٹس دیکھے تو سامنے آیا کہ بچے کی جذباتیت دیکھ کر ہندوستانیوں کو آگ لگی ہوئی ہے۔

بتانا یہ ہے کہ میں نے برسوں بلکہ عشروں تک جو کچھ مال روڈ پر دیکھا وہ اس مرتبہ بھی تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ بالکل بھی نہیں تھا۔آپ کہیں گے کہ میں پاگل ہوگیا ہوں، اول فول بک رہا ہوں کہ وہ اس مرتبہ بھی تھا اور بالکل بھی نہیں تھا، یہ وونوں باتیں کس طرح ممکن ہیں، جی ہاں، وہ اس طرح تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں لاہوری موجود تھے جو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کررہے تھے، کشمیر کے مسئلے کا حل قرارداد مذمت کی بجائے جہاد کے ذریعے ہندو کی مرمت بیان کر رہے تھے، خواہش کا اظہار کر رہے تھے کہ حکومت او ر فوج انہیں مقبوضہ کشمیر میں پہنچا دے، وہ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کے دانت کھٹے کرنا چاہتے ہیں، اسے تگنی کاناچ نچانا چاہتے ہیں، اسے تباہ وہ برباد کرنا چاہتے ہیں۔

مگر جو نہیں تھا وہ زیادہ دُکھ دینے والا تھا، پریشان کرنے والا تھا، غورو فکر پر مجبور کرنے والا تھا۔ میں نے یہی دیکھا کہ تمام تنظیمیں اپنے سیاسی و داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کرفیصل چوک پر اپنے اپنے کیمپ لگاتی تھیں، تمام کے رہنما وہاں آتے تھے، میڈیا ٹاکس ہوتی تھی بس یہ انتظام کر لیا جاتا تھاکہ اگر دو یا تین تنظیموں کے پروگرام بڑے ہیں تو وہ ایک دوسرے سے مختلف وقت رکھ لیں مگر اس مرتبہ مال روڈ کو مسجد شہدا سے آواری ہوٹل والے سگنل تک صرف دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ فیصل چوک یعنی چئیرنگ کراس سے آواری ہوٹل سگنل تک مال روڈ حکمران جماعت پی ٹی آئی کے کارکنوںاور مختلف سرکاری اداروں جیسے ریسکیو، واسا، ایل ڈی اے، کارپوریشن ، سی اینڈ ڈبلیو وغیرہ کے ملازمین کے پاس تھی جبکہ سڑک کا دوسرا حصہ انڈس ہوٹل سے مسجد شہدا تک جماعت اسلامی کو دیا گیا تھا۔ ان دونوں حصوں کے درمیان بیرئیرز بھی تھے اور خاردار تاریں بھی تھیں ۔ صرف ایک جانب پولیس کے پہرے میں آمدورفت کے لئے مختصر جگہ چھوڑی گئی تھی یعنی دونوں جماعتوں کے شرکا ایک دوسرے کو نہ دیکھ اور مل نہ سکیں۔

مسلم لیگ نون نے ایک روز قبل شور مچایا تھا کہ ضلعی انتظامیہ فیصل چوک میں ان کا کیمپ اُکھاڑنے پہنچ گئی ہے جہاں وہ ہر برس لگاتے ہیں۔ تحقیق پر علم ہوا کہ فیصل چوک پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بُزدار کا جلسہ ہے اور یہ ممکن نہیں کہ پی ٹی آئی اور نواز لیگ کے کیمپ ایک دوسرے کے قریب لگ جائیں۔ طاقتور کو حق حاصل تھا کہ وہ کمزور کو انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے مار بھگائے لہذا نواز لیگ کو آواری ہوٹل کے ساتھ سٹاک ایکسچینج والی سڑک پر ایوان اقبال کے قریب دھکیل دیا گیا تھا۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ یہاں بھی نئے بنوائے گئے قدآدم سے اونچے نیلے رنگ کے بیرئیرز تھے اور پولیس کی بھاری نفری تھی کہ یہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہ پائیں۔ یوم یکجہتی کشمیر پر جماعة الدعوة ہمیشہ ایک بڑا اجتماع کرتی رہی ہے مگر اس مرتبہ نہ صرف جماعة الدعوة ( غالبا پابندی لگنے کے بعد پہلی مرتبہ) غائب تھی بلکہ مجھے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ سمیت متعددکشمیری جماعتوں کے کیمپ بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔ پیپلزپارٹی ، ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخی تقاریر کو یاد کرواتے ہوئے ہمیشہ کشمیر کاز کی علمبردار کے طور پر سامنے آتی ہے مگر وہاں پیپلزپارٹی بھی موجود نہیں تھی جہاں اس کے لیڈران ہمیشہ پریس کانفرنس کرتے تھے۔ میں نے جناب نوید چودھری کو فون کیا اور پوچھا کہ کیا پیپلزپارٹی نے اس مرتبہ یوم یکجہتی کشمیر مس کر دیا، جواب ملا، نہیں، پی پی پی کا کیمپ فیصل چوک کی بجائے پریس کلب کے باہر لگایا گیا تھا۔دوسری طرف حسب روایت انتظامیہ اور پولیس نے لاہوریوں کو زیادہ سے زیادہ تکلیف دینے کے لئے مال روڈ کو کلب چوک سے ہی بند کر دیا تھا ، سیکورٹی اورٹریفک انتظامات میں نااہلی کی وجہ سے تکلیف اب لاہور کی روایت اور لاہوریوں کی عادت بنتی چلی جا رہی ہے۔

آپ مجھے آئیڈیلسٹ کہہ سکتے ہیں کہ میں کچھ قومی ایشوز پر اپنی سیاسی جماعتوں کو متحد دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں جب نریندر مودی کی اسلام اور پاکستان دشمنی میں انتہا پسندی دیکھتا ہوں تو میرا دل چاہتا کہ خارجہ تعلقات ہوں، ایٹمی پروگرام ہو، پاکستان کا اسلامی تشخص ہو، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کا تسلسل ہو تو اس میں تمام سیاسی جماعتیں ایک ہاتھ کی انگلیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ یوں جڑی ہوں کہ مودی کو خواب میں بھی ایک مُکے کی طرح نظر آئیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ اپنے جلسے کی خاطر پی ٹی آئی کی حکومت نے فیصل چوک پر انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے قبضہ کر کے کوئی اچھا پیغام نہیں دیا۔ یوم یکجہتی کشمیر پر فیصل چوک تمام کشمیری اور پاکستانی جماعتوں، تنظیموں اور گروپوں کا مشترکہ اثاثہ تھا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ماضی کی طرح تمام جماعتوں کے کیمپ نہ صرف ایک دوسرے کے سامنے لگے ہوئے ہوتے بلکہ پہلے کی طرح ایک جماعت کے قائدین دوسری جماعت کے کیمپ کا وزٹ بھی کرتے۔ ہاتھوں میں ہاتھ بھی ڈالتے اور اکٹھے بلند بھی کرتے۔ جب ایک پارٹی کی پریس کانفرنس ہوتی تو اس میں دوسرے بھی شامل ہوتے مگر یہ سفید جھوٹ ہے کہ مال روڈ پر یوم یکجہتی کشمیر کے موقعے پر قومی یکجہتی نظر آ رہی تھی، سب اپنے اپنے لئے مخصوص جگہوں پر قید تھے اور اپنا اپنا سودا میڈیا کے سامنے بیچ رہے تھے۔

اگر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکن ایک دوسرے سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ سقوط کشمیر بھی انہیں ایک دوسرے کی شکل دینے کا روادار نہیں کرپاتا، پانچ اگست سے پانچ فروری تک مقبوضہ کشمیر میں مسلسل چھ ماہ کا کرفیو اور بدترین انسانی حالات بھی انہیں ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہو کر اظہاریکجہتی کی ہمت ، حوصلہ اور ظرف نہیں دیتے تو وہ آپس میں اوقات کار ہی طے کر لیتے کہ جب ایک گروہ اپنا شو مکمل کر لیتا تو دوسرا سٹیج سجا لیتا ، روایات بتاتی ہیں کہ یہ کام آسانی سے ہو سکتا تھا مگر افسوس ہم مظلوم اورمجبور بنا کے دبا لئے گئے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بھی قومی یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کر پائے۔ ہماری نفرتوں اور اناوں کے قد پاکستا ن اور کشمیر سے بھی بلند ہوگئے۔ ہمارے پاس اگر کوئی تھوڑی بہت اچھی روایت تھی تو اسے بھی اس مرتبہ طاقت کے اظہار اور قبضے کے شوق میں فیصل چوک پردفن کر دیا گیا اور زیاں تو یہ ہے کہ ہمیں احساس زیاں تک نہیں ہے۔


ای پیپر