حج پر رعایت کیوں نہیں؟
07 فروری 2019 2019-02-07

پاکستان میں ہر سال رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے سے چندروز قبل اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔رمضان المبارک کا پہلا عشرہ اس بحث میں گز ر جاتا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہو گیا۔منافع خور پھر سے سر گرم ہو گئے ہیں۔حکومت خاموش تماشائی بن کر تماشہ دیکھ رہی ہے۔عوام کی طرف سے واویلا شروع ہو جانے کے بعد حکومتی وزراء بیانات دینا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو’’ سستا بازار ‘‘ بنا دئیے ہیں۔ عوام کو چاہئے کہ وہاں سے خریداری کریں۔عوام کے سوالوں کے جواب میں حکومتی وزراء کبھی یہ نہیں کہتے کہ پھل اور میوے خریدنے کی طاقت نہیں تو نہ خریدو،بلکہ جواب یہ دیا جاتاہے کہ ’’سستا بازاروں ‘‘ کا رخ کریں۔حکومتی عہدے دار عوام کو ’’سستا بازاروں‘‘ کا راستہ کیوں دکھاتے ہیں؟ اس لئے کہ وہاں اجناس عام بازار سے سستی ملتی ہے۔ کیوں سستی ملتی ہے؟اس لئے کہ ان بازاروں کو حکومت رعایتی نر خ پر اجناس مہیا کر تی ہے،مطلب سبسڈی دیتی ہے۔’’رمضان سستا بازار‘‘ میں سے غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ خریداری کرتے ہیں۔وہ لوگ بھی ان بازاروں سے خریداری کرتے ہیں جو روزہ نہیں رکھتے۔یعنی وہ لوگ بھی شامل ہوتے ہیں کہ جن کو سبسڈی دینا جائزنہیں،پھر بھی اس کوجواز بنا کر ’’رمضان سستا بازاروں ‘‘ کو ختم نہیں کیا جاتا۔چند مہینے باقی ہیں۔موجودہ حکومت کا یہ پہلا رمضان المبارک ہو گا۔ممکن ہے کہ ’’رمضان سستا بازاروں‘‘ کو ختم کر دیا جائے۔اس لئے کہ یہ ضروری تو نہیں کہ ’’روزہ دار‘‘ کو ’’افطار‘‘ اور ’’سحری‘‘ پر سبسڈی دی جائے۔ممکن ہے کہ ایک آدھ وفاقی وزیر ترنگ میں آکر کہہ بھی دیں کہ جو ’’افطاری‘‘ اور ’’سحری‘‘ کی استطاعت نہیں رکھتے وہ ’’روزہ ‘‘ نہ رکھیں۔بہر کیف گز شتہ حکومتیں باقاعدگی کے ساتھ رمضان المبارک کے مہینے میں ’’رمضان سستا بازاروں‘‘ کو لگاتی رہی ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مو جودہ حکومت دگر گوں معاشی صورت حال کو دیکھ کر’’روزہ داروں‘‘ کے لئے یہ رعایت ختم کر دیتی ہے کہ نہیں۔

رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں لوگ عیدالفطر کے لئے تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔یہاں ایک اور بحث شروع ہو جاتی ہے۔اس بحث میں’’ روزہ دار‘‘ اور ’’غیر روزہ دار‘‘ دنوں بھر پور حصہ لیتے ہیں۔کپڑوں ،جو تے اور دیگر اشیاء مہنگے ہو نے کی شکایت شروع ہو جاتی ہے۔ہمارے ہاں چونکہ عیدین پر عوام کو رعایت دینے کا کوئی رواج نہیں،اس لئے اسلام سے باہر نکل کر مثالیں تلاش کی جاتی ہیں۔حکومتی وزراء اور دیگر عہدے دار عام آدمی کی طرح انہی مثالوں کا سہارا لے کر لو گوں کا لہو گرماتے ہیں۔اس دوران یہ مثال دی جاتی ہے کہ مغربی ممالک میں جب کرسمس کا تہوار شروع ہو جاتا ہے تو وہاں ’’سستا بازاروں‘‘ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔کھانے پینے اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جاتی ہے تاکہ تمام لوگ کرسمس کے تہوار کو خوشی کے ساتھ منا سکیں لیکن ایک ہم مسلمان ہیں کہ ہر مذہبی تہوار کو مہنگا کر دیتے ہیں۔اللہ اللہ کرکے یہ مرحلہ بھی دوسروں کی تعریفوں اور اپنے اوپر تنقید میں گزر جاتا ہے۔دو مہینے بعد عید الاضحی کے مو قع پر پھر یہی شکایت کہ قربانی کے جانور مہنگے ہیں۔کو ئی نو ٹس لینے والا نہیں۔اس مو قع پر صرف قربانی کرنے والوں کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ حکومتی وزراء اور دیگر عہدے دار زیادہ تر خاموش رہتے ہیں ۔کبھی کوئی خانہ پوری کے لئے بیان بھی داغ دیتا ہے۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔اب یہ بھی ممکن ہے کہ عیدالفطر کے موقع پر مہنگائی کا واویلا کرنے والوں کو حکومتی وزراء مشورہ دیں کہ اگر طاقت نہیں تو نہ منائیں عید۔یہ بھی مشورہ دے سکتے ہیں کہ اگر خوشی منانے کا زیادہ ہی شوق ہے تو کرسمس منایا کر یں،اس لئے کہ کرسمس کے تہوار کے موقع پر چیزیں سستی کی جاتی ہے۔مگر افسوس کہ یہ عیاشی بھی پاکستان میں میسر نہیں۔ میرے خیال میں عیدا لاضحی کے موقع پر جب بھی کوئی جانور کی مہنگائی کا شکوہ کریگا تو حکومتی وزراء اجتماعی طور پر جواب دیں گے کہ جب پیسے نہیں تو نہ کرو قربانی اور بات ختم ہو جائے گی۔مو جودہ حکومت کے تمام وزراء کو یہ کمال حاصل ہے کہ سب یک زباں ہو کر جواب دیتے ہیں کہ جب استطاعت نہیں تو کیوں کر تے ہوکہہ کر معاملہ ختم کر دیتے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں سے حج پر رعایت ختم کرنے پر زیادہ تر عوام حکومت سے ناراض ہیں۔لیکن حکومتی وزراء نے یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیا ہے کہ طاقت نہیں رکھتے تو حج نہ کر و۔جن کے پاس روپے نہیں ان کو تو مشورہ دے دیا گیا ہے کہ آرام سے بیٹھ جاؤ،لیکن جو استطاعت رکھتے ہیں ان کی طرف ابھی تک متوجہ نہیں ہو ئے ہیں۔ سب سے پہلے جو شخص بھی حج کے لئے درخواست دے،نیب یا ایف آئی اے ان کی تفتیش کرے کہ پیسہ حلال کا ہے یا حرام کا؟ اگر حرام کا ہے تو اس شخص کو ہرگز حج پر جانے کی اجازت نہ دیں اور ان کے پیسوں کو بحق سرکار ضبط کرکے قومی خزانہ میں جمع کریں۔اسی طرح حاجیوں پر پابندی لگا دیں کہ دوران حج کسی سے بھی کوئی چیز نہ لیں کیونکہ وہ صاحب استطاعت ہے۔ جو کچھ بھی کھانا ہے خود خرید لیا کریں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ دوران حج یہی صاحب استطاعت ایک دوسرے کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ اس پر پابندی ہو نی چاہئے ۔جوبھی پاکستانی حاجی ایسا کرے ان پر بھاری جرمانہ لگائیں۔

اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ حج پر رعایت ہونی چاہئے کہ نہیں؟ فلاحی ریاستوں میں دستور یہ ہے کہ وہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی پر سبسڈی دیتی ہیں۔پانی کی فراہمی،صحت کی سہولیات، تعلیم کی سہولیات، آمد ورفت کی سہولیات میں رعایت ،گھر بنانے کے لئے آسان اقساط پر قرضہ،شادی الاؤنس، بے روزگاری الاؤنس ،بڑھاپا الاؤنس اور دیگر کئی ایسے شعبے ہیں کہ فلاحی ریاستیں ان میں اپنے شہریوں کو رعایت دینا نہ صرف اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتی ہے بلکہ سبسڈی دینے پر فخر بھی محسوس کرتی ہیں۔اس لئے کہ وہ شہریوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی اپنے اوپر لازم سمجھتی ہیں۔رہی یہ بات کہ کیا مذہبی عبادات یا تہواروں پرحکومت سبسڈی دے سکتی ہے؟تو مہذب دنیا میں رائج یہی ہے ۔جس کی ایک عام مثال کرسمس کا تہوار ہے۔پڑوس میں ہندوستان میں جب بھی کوئی مذہبی تہوار ہوتا ہے تو حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو رعایتیں دیں ،جیسا کہ ہولی کے مو قع پر ہوتا ہے۔اسی طرح ایران میں جب نئے سال ’’نوروز ‘‘ کا موقع ہو تا ہے تو حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو سہو لیات دیں۔ حج بھی ایک عبادت ہے ۔شرعی اعتبار سے اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کی رہنمائی کی ہے کہ حج پر جانے کے لئے لوگوں کو رعایت دینا جائز ہے۔لیکن اخلاقی لحاظ سے دنیا میں رائج اصولوں کے مطابق بھی یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ حاجیوں کو سبسڈی دیں ۔ہمارے وزراء کی یہ منطق ہر گز درست نہیں کہ پیسے نہیں تو حج نہ کرو۔ اس پالیسی کے تحت تو کل وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فیس نہیں تو نہ پڑھو۔طاقت نہیں تو علاج نہ کرو۔گاڑی نہیں تو سفر نہ کرو۔گھر میں کنواں نہیں تو پانی نہ پیو۔روپے نہیں تو گھر نہ بناؤ۔بڑھاپے میں کوئی سہارا نہیں تو ہم کیا کریں۔بے روزگار ہو تو خود کچھ کرو ہم ذمہ دار نہیں ،وغیرہ وغیرہ۔


ای پیپر