مسئلہ کشمیر حل ہوسکتا ہے
07 فروری 2019 2019-02-07

کشمیریوں کی جانب سے آزادی کے حصول کیلئے شروع کی گئی علیحدگی کی تحریک میں اب تک حریت پسندوں سمیت ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ ویسے تو علیحدگی کی تحریک شروع ہونے کے بعد سے کشمیر میں وقتاً فوقتاً حالات کشیدہ ہوتے رہے ہیں، لیکن 2016ء میں حریت پسند کمانڈر برہان وانی کی شہادت نے کشمیر میں حالات کو کشیدگی کی انتہا تک پہنچا دیا۔ برہان وانی کی شہادت کے ردعمل میں وسیع پیمانے پر شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گنوں کے استعمال نے علیحدگی کی تحریک کو پھر سے منظم کر دیا ہے ۔ وادی میں سات لاکھ سے زائد فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات کر کے بھی بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ آبادی کے تناسب سے دنیا کے کسی بھی خطے یا شہر کے مقابلے میں اگر کسی جگہ سب سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں تو وہ کشمیر ہی ہے ۔2017 میں شہید ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 400 کے لگ بھگ رہی تھی2018 میں کشمیر یوں کی تحریک زیادہ منظم انداز میں ابھری جسے دبانے کے لیے بھارتی فوج نے ظلم و ستم اور بربریت کی خونی داستانیں رقم کیں۔ سال 2018 کے دوران وادی کشمیر کے جنوبی اضلاع شوپیاں، کلگام، پلوامہ اور اننت ناگ میں تشدد کے بدترین واقعات دیکھنے میں آئے۔ گزشتہ سال وادی میں مجموعی طور پر 500 کے قریب کشمیری شہید ہوئے ۔صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کشیدہ سے ماحول دن بدن تلخ سے تلخ ہوتا چلا جارہا ہے ۔جس طرح کا تشدد بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر میں کر رہی ہیں۔ تاریخ میں ایسے ظلم و بربریت کی مثال کم ہی نظر آتی ہے ۔ ابھی کل ہی سرچ آپریشن کے نام پر متعدد کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا ۔ کشمیر یوں کی نسلیں بھارت سے آزادی کا خواب دل میں لیے پیدا ہو تی ہیں۔اور یہ خواب آنکھوں میں سجائے پاکستانی جھنڈے میں دفن ہو جاتی ہیں۔جب سے بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے ۔کشمیری عوام نے کبھی ایک دن بھی بھارتی تسلط کو قبول نہیں کیا ہے ۔ہر دور میں کشمیر کے بہادر جوانوں نے اپنی آزادی کے لیے اپنے سینوں پر زخم کھائے ہیں۔ایک جوان شہید ہوتا ہے تو اس سے زیادہ جوشیلا کوئی اور نوجوان بھارتی فوج کے سامنے اپنے حق کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے ۔برہان وانی بھی ایسا ہی ایک کشمیری نوجوان مجاہد تھا ۔جس نے کشمیر میں بھارتی افواج کے بدترین ظلم و ستم کو دیکھتے ہوئے ہتھیار اٹھالیے تھے ۔ایک بیس سال کے بہادر مجاہد میں وہ جذبہ تھا جو کئی سو بھارتی سورماوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی تھا ۔اس مجاہد نے اپنی بہادری سے کشمیر کے بچے بچے میں آزادی کی مثل روشن کر دی ہے ۔ اور آج کشمیر کا بچہ بچہ اپنی آزادی کے لیے سر گرم ہے ۔دوسری طرف ہماری سیاسی قیادتیں اپنے وجود کی بقا کے لیے لڑ تی رہی ہیں۔ہر کسی کے پاس خود کو برتر ثابت کرنے کے دعوے موجود ہیں ۔تقریباًسبھی ادارے اپنے کام کی بجائے دوسرے ملکی معاملات کو بہتر کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کشمیر کسی کی بھی جماعت کی ترجیحات میں شامل نہیں دکھائی نہیں دے رہا ۔

ووٹ بینک کے لیے سیاست دان ضرور مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہیں ۔مگر اس وقت حقیقت یہ ہے کہ کشمیر جل رہا ہے ۔کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔ کشمیر میں بسے انسانوں کے لیے جنگل کا قانون نافظ ہوچکا ہے ۔بھارتی درندہ صفت فوج جب جسے چاہے اٹھا لیتی ہے ۔جسے چاہے سزا دے سکتی ہے ۔ہمارے سیاست دانوں اور میڈیا کے لیے کشمیریوں کے وقت ہی نہیں ہے ۔ہمارے لیے صرف ریٹنگ اہم ہوچکی ہے ۔سیاست وہ بات کرتے ہے جو میڈیا کے ذریعے جلد ی سے پھیل جائے ۔عوام کے ذہن کو بدلنے کے لیے مختلف رنگ بازیاں کی جاتی ہیں ۔ کشمیر پر ظلم کی بات ہم ہر سال کرتے ہیں ۔اگر ہمیں کشمیر یوں سے واقعی محبت ہے تو ہمیں ان کے غم بانٹنے ہوں گے ۔یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔کہ جس بھارت کے درندہ نما فوجی ہمارے کشمیری بھائیوں کو قتل کر رہے ہیں ۔خواتین کی عزتیں پامال کر رہے ہیں ۔بیلٹ گن سے نوجوانوں کے جسم چھلنی کر رہے ہیں ۔سالوں پہلے سونیا گاندھی نے کہاتھا کہ ہمیں پاکستان سے جنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔دنیا بھر میں ریاستیں خاص طور پر ہمسایہ ریاستیں بنیادی اہمیت کے دو طرفہ اور علاقائی ایشوز کے حل کیلئے مختلف فورم پر سنجیدہ کوششوں میں مصروف عمل رہتی ہیں کہ بنیادی اہمیت کے کسی بھی مسئلے کو حل کیے بغیر ہمسایہ ریاستیں اپنے اپنے ملکی و عوامی مسائل پر صحیح معنوں میں توجہ مرکوز کرنے اور ان کے حل کیلئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھانے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین کشمیر کا مسئلہ بھی ایسا ہی ایک بنیادی ایشو ہے جس کی وجہ سے دونوں حکومتیں دونوں طرف کے کروڑوں عوام کو غربت کی انتہائی سطح سے نکال کر انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کر پائیں جو مہذب دنیا کی عوام کو حاصل ہیں۔ اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک اب تک نہ صرف تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وارز میں بھی مصروف ہیں۔ اسی بنیادی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک نہ صرف تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوئے بلکہ عوام کی خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت سے وصول کیے جانے والے ٹیکسز کا ایک بھاری حصہ خطرناک آتشیں اسلحے کے انبار لگانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک میں انتہا پسند عناصر کے ہاتھ مضبوط ہیں۔ اس کے ضمنی اثرات کا مشاہدہ دونوں ملکوں میں مذہبی، نظریاتی اور سماجی انتہا پسند تحریکوں کی شکل میں کیا جا سکتا ہے ۔ اس مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کی اس انتہا تک جا پہنچے ہیں کہ اب وہ دو طرفہ تصفیہ طلب مسائل پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔آج مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی بنیادی وجہ بھارت کا اپنے بے لچک موقف پر ڈٹے رہنا ہے ۔ پاکستان کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈہ سمجھتا ہے تو بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ۔ رائے شماری سمیت مسئلہ کشمیر کے کئی ایک ممکنہ حل تجویز کیے جا چکے ہیں، ۔ رائے شماری کی صورت میں کشمیر کے 95فیصد مسلمانوں کی اکثریت پاکستان میں شامل ہونے کو ترجیح دے گی، لیکن جموں اور لداخ میں غیر مسلم اکثریت میں ہونے کی وجہ سے بھارت کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیں گے۔ کشمیری حریت پسند اور پاکستانی حکومت ہندو اکثریت والا جموں بھارت کے ساتھ اور مسلمان اکثریت والا کشمیر پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے درمیانی راستے پر متفق ہو سکتے ہیں لیکن فی الحال یہ تجویز بھارت کو قابل قبول نہیں۔ آج ہم نے ایک وعدہ خود سے کرنا ہے کہ ہم کشمیری قوم کے ساتھ عملی طور پہ کھڑے ہیں ۔آج جب بھارتی فلموں میں مسلم حکمرانوں کے کردار کو مسخ کے پیش کیا جارہا ہے تو ہمیں اپنے بچوں کو بابر249 اکبر249 ہمایوں249 سلطان خلجی249ا سلطان نورالدین زنگی کی باتیں سنانی ہوں گی ۔ہم نے طلبا کوسلطان ٹیپو کی شخصیت سے روشناس کرانا ہے ۔اور ہم نے اپنی نئی نسل کو حضرت عمر فاروقؓ کی عظمت سے آگاہ کرنا ہے ۔وہ کیا چیز تھی وہ کیسی محبت تھی جس نے ’عمر خطاب‘ کو فاروقِ اعظم کے نام سے پہچان دی ۔آج ہم بحیثیت قوم نے ثابت کرنا ہے کہ ہماری محبت کشمیر کے مظلوم مسلمانو ں کے ساتھ ہے یا ان پر ظلم کرنے والے بھارت کے ساتھ ہے ۔ آج ہر کوئی عمران خان کی دلیری کے گن گا رہا ہے تو امید رکھنی ہوگی کہ خان صاحب کشمیر کے مسئلے کو دنیا کے سامنے بہتر انداز میں پیش کرتے ہوئے کسی ممکن حل کی طرف لے آئیں گے ۔


ای پیپر