ما ضی سے سیکھئے
07 فروری 2019 2019-02-07

میں نے بچپن سے لیکرآج تک ایک ہی بات سُنتے چلی آرہی ہوں کہ ہمارا ملک نازک حالات سے گزر رہا ہے اس بات کو سُنتے ہوئے بھی مجھے 35برس ہوگئے ہیں ۔ہر وقت یہ بات تو سُننے کو ملتی ہے کہ ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے مگر کبھی آج تک یہ بات نہ تو کسی نے سوچی ہے اور نہ ہی اس بات کا حل کبھی ملا ہے کہ ہم ملک کو اس نازک صورتحال سے آخر نکالیں کیسے؟

میری سمجھ میں جو بات آتی ہے وہ یہ کہ ہمارے ہاں بھی بااقتدار سیاسی رہنما جہاز کے اس کپتان کی مانند ہیں جو فن جہاز رانی سے ناواقف ہیں وہ سیاسی تجربے کے بغیر اقتدار حاصل کر لیتے ہیں اور پھر اُن کے اردگرد خوشامدی افراد اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اُن کی جھوٹی تعریف کرکے اُنہیں دھوکے اور فریب میں مبتلا کرتے ہیں اس کے عوض وہ خود ذاتی فائدے اُٹھاتے ہیں اور وہ لوگ جو صاحب علم اور باشعور ہوتے ہیں وہ اس دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور خوشامدی حضرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور ہماری عوام اُن مسافروں کی طرح ہے جو شوروغل مچانے اور ہنگامے میں مصروف رہتے ہیں جبکہ ریاست کا جہاز سمندر کی لہروں میں ہچکولے کھاتا رہتا ہے اور منزل مقصود سے دور رہتا ہے ۔ہماری ریاست بھی ایسی صورتحال سے دوچار ہے یہ سلسلہ بھی نہ جانے کب تک چلتا رہے گا۔

پھر ایک سیاسی جماعت پی ٹی آئی ہماری قوم کے سامنے بہت سے وعدے اور اُمیدیں لے کر آتی ہے۔ہماری قوم کو بھی اُس سے امید لگ جاتی ہے کہ ایک نیا پاکستان ہونا چاہیے اور ساری قوم پھر نئے پاکستان کی تلاش میں چل نکلی مگر مجھے یہ بات نہایت افسوس کے ساتھ کہنی پڑ رہی ہے کہ نئے پاکستان میں آتے ہی لوگ دوبارہ پرانے پاکستان میں واپس جانے کے لیے سامان باندھنے لگے ایسا کیوں ہوا؟

درحقیقت وزیراعظم عمران خان کی گورنمنٹ کو 6 ماہ گزر گئے شاید ان کو اس بات کایقین نہیں ہو پارہا ہے کہ وہ وزیراعظم ہیں یا اپوزیشن لیڈر ؟ وزیراعظم صاحب اب بھی کسی تقریب میں جاتے ہیں تو روایات اور تکلفات کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے اب بھی ایک اپوزیشن لیڈر کی طرح دھواں دھار تقریر کرنے سے گریز نہیں کرتے اور اپنی تقریر میں اپنے وزیروں اور مشیروں اور خصوصا وزیراعلی کی خصوصیات اور اچھائیوں کے پل باندھنا نہیں بھولتے۔کوئی وزیراعظم کو یہ بتائے کہ عوام کو ان کی ان ٹرینڈ وزیر وں مشیروں اور وزیر اعلی کی خصوصیات سنتے 6ماہ گزر گئے ہیں مگر پوری قوم ابھی بھی بے صبری سے نئے پاکستان میں تبدیلی کے منتظر ہیں جو خواب آپ نے قوم کو پچھلے 22سالوں سے دکھانے شروع کئے تھے مگر افسوس 6ماہ کے بعد بھی قوم کے نہ تو مسائل پر بات کر سکے اور نہ ہی عوامی ترجیحات کو زیر غور رکھا۔پنجاب کے وزیر اعلی ابھی کام سکیھ رہے ہیں اورہ پچھلے ادوار کی طرح اب بھی تمام سیاسی کارکن ،ممبر صوبائی اسمبلی،اور قومی ممبرز سمیت اپنی اپنی جماعت کے دفاع میں ہی نظر آرہے ہیں۔

اگر اب ملک کو صیحح سمت کی طرف لے کر جانا ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی جماعتوں کو پس پشت ڈال کر قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی کیونکہ کسی بھی ملک کی جامع حکمت عملی میں یہی سب سے اہم نکتہ ہوتا ہے۔اس وقت موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کوئی واضح اور جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔مگر یہ سب کچھ ایسا نہیں کہ سوچیں اور ہو جائے اس کے لئے بھی کچھ وقت درکار ہے۔کیونکہ بنیادیں مضبوط ہونگی تو دیواریں مضبو طی سے کھڑی رہ سکتی ہیں۔ ہمارے پاس ڈھیروں مثالیں بکھری پڑیں ہیں مگر اس پہ نہ تو کبھی توجہ دی اور نہ عمل کرنے کی کوشش کی ایک زمانے تک چین بند معیشیت کا علم بردار تھا پھر زمانہ بدلا عالمی حالات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے چین کو تحریک دی کہ وہ بھی کھلے بازار کی معیشیت کی طرف آئے۔

شی جن پنگ نے جب اقتدار سنبھالا تو وہ اس نکتے پر زور دیتے آئے کہ عالمی سطح پر بڑے بڑے منصوبے شروع کرنے سے قبل چین کو اندرونی طور پر اس قدر مستحکم ہو جانا چاہیے کہ کوئی بھی بڑی تبدیلی معاشرے اور معیشیت کو نہ ہلا سکے ون بیلٹ ون روڑ ،اے آئی آئی بی اور سی پیک جیسے منصوبوں کے شروع کیے جانے سے قبل چین کے لیے یہ لازم تھا کہ اندرونی استحکام قابل رشک بنایا جائے اس منزل سے گزر نے کے بعد ہی چینی قیادت گھر سے باہر دیکھنے پر آمادہ ہوئی تو ہمیں بھی چین کی طرح سب سے پہلے اپنے اندر کے مسائل کو حل کرکے خود کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسوقت اپنے ادارے چلانے کے لیے بھی اگر قرض لینا پڑے تو سوچئے کہ ہمارا ملک کس صورتحال سے دوچار ہے ہمیں اپنی خامیوں کا موازنہ کرتے ہوئے اُن کو دور کرنا ہوگا تب ہی ہم ایک مضبوط ریاست بنا سکیں گے وگرنہ ایسا نہ ہو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بند مٹھی سے ریت کی طرح سب کچھ پھسل نہ جائے ہمیں ماضی میں ہونے والی غلطیوں سے بھی سیکھنا چاہیے تاکہ ہم دوبارہ اُن خامیوں کو دہرانے کی بجائے اُن کا ازالہ کر سکیں۔


ای پیپر