فوٹو بشکریہ فیس بک

پاکستان میں بالغ مارخور کی تعداد دو ہزار پانچ سو سے بھی کم ہے
07 فروری 2019 (16:27) 2019-02-07

اسلام آباد: قدرتی وسائل کی حفاظت کی عالمی تنظیم بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت کے مطابق مارخور کا شمار ان 72 جانوروں میں ہوتا ہے، جن کا وجود خطرے میں ہے۔ پاکستان میں بالغ مارخور کی تعداد دو ہزار پانچ سو سے بھی کم ہے۔

تفصیلات کے مطابق جنگلی بکرے کی نایاب نسل گلگت بلتستان، ضلع چترال، وادی کالاش اور وادی ہنزا سمیت دیگر شمالی علاقوں کے علاوہ وادی نیلم کے بالائی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

چار فٹ طویل سینگوں والے جنگلی بکرے کو سیدھی چٹانوں پر چڑھنا اور سانپوں کا شکار کرنا عام بکروں سے منفرد بناتا ہے۔ مقامی لوک کہانیوں کے مطابق مارخور سانپ کو مار کر اس کو چبا جاتا ہے اور اس جگالی کے نتیجے میں اس کے منہ سے جھاگ نکلتی ہے جو نیچے گر کر خشک اور سخت ہو جاتی ہے جسے سانپ کے کاٹنے کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔

مارخور کا قد زمین سے کندھوں تک 65 سے 115 سینٹی میٹر، لمبائی 132 سے 186 سینٹی میٹر اور وزن 32 سے 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔ نر اور مادہ دونوں کے سینگ بَل دار ہوتے ہیں۔ موسم گرما اور بہار میں یہ گھاس چرتے ہیں جبکہ سردیوں میں درختوں کے پتے کھاتے ہیں۔

یوں تو اس نایاب جانور کے شکار پر پابندی عائد ہے، لیکن بھارت میں پاکستانی سرحد کے قریب اب بھی ان کا شکار کیا جاتا ہے۔

تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں مارخور کا شکار خوراک کے علاوہ ان کے سینگوں کی وجہ سے بھی کیا جاتا ہے جنہیں مختلف دیسی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔


ای پیپر