Today, a sector is growing rapidly in Pakistan. Which is called freelancing
07 دسمبر 2020 (11:59) 2020-12-07

آجکل پاکستان میں ایک شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ جس کا نام ہے فری لانسنگ۔ فری لانسنگ ایک کاروبار کی مانند ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ ڈیٹا انٹری جانتے ہیں۔ آپ لیپ ٹاپ کھولیں گے۔ کسی بھی فری لانسنگ سائٹ پر جا کر اپنا اکاونٹ بنائیں گے۔ اس میں بتائیں گے کہ آپ کو ڈیٹا انٹری آتی ہے اور جو کمپنی یا فرد مجھ سے یہ سروس لینا چاہتا ہے میں اتنے ڈالرز کے عوض اسے یہ سروس دے دوں گا۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ کسی پلازے یا مارکیٹ میں اپنا دفتر بنائیں اور باہر بورڈ لگا دیں کہ یہاں اتنی رقم کے عوض فلاں سروسز دی جاتی ہیں۔ جو بھی وہاں سے گزرے گا بورڈ پڑھے گا اور جس نے کام کرانا ہو وہ آپ کی دکان پر آ جائے گا۔ فری لانسنگ میں آپ اپنا کمپیوٹر یا لیپ ٹوپ کھولیں اور پوری دنیا کی مارکیٹ آپ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو جائے گی۔ امریکہ سے لے کر ایتھوپیا تک لوگ آپ سے کام کرانے کے خواہشمند ہوں گے اور آپ کی کمائی بھی ڈالرز میں ہو گی۔

آج پاکستان میں نوجوان طبقہ اس شعبے کی طرف مائل ہے لیکن کچھ عرصہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ فری لانسنگ کو بیکار لوگوں کا شعبہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ والدین اور بچوں کی سوچ میں تبدیلی آ ئی ہے۔ آج پاکستان فری لانسنگ میں کمائی میں گروتھ کے حوالے سے دنیا کا چوتھا ملک ہے۔ پہلے نمبر پر امریکہ جہاں گروتھ ریٹ ترانوے فیصد ہے۔ دوسرے نمبر پر برطانیہ جس کا گروتھ ریٹ چھیتر فیصد ہے۔ تیسرے نمبر پر برازیل جس کا گروتھ ریٹ اڑتالیس فیصد ہے اور چوتھے نمبر پر پاکستان جس کا گروتھ ریٹ سنتالیس فیصد ہے۔ پاکستان نے یہ ترقی کیسے حاصل کی آئیے وجوہات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ تبدیلی چند دنوں میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی یہ خود بخود آ گئی ہے۔ پاکستان کو اس مقام تک لانے کے لیے کچھ لوگوں نے بہت محنت کی ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ پہلے بیج بویا، پھر ہل چلایا۔ پانی دیا، دیکھ بھال کی اور اب پھل دنیا کے سامنے ہے۔ میں یہاں پاکستان کے پہلے فری لانسر حشام سرور کا نام لینا ضروری سمجھتا ہوں۔ پوری دنیا میں فری لانسنگ سائیٹ پر جس شخص کا نام پاکستانی پرچم کے ساتھ سب سے پہلے سامنے آیا وہ حشام سرور تھے۔ انھوں نے اس وقت فری لانسنگ میں قدم رکھا جب پاکستانی اسےمعیوب سمجھتے تھے لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ آن لائن فری لیکچرز دیے، حکومت پاکستان کے ڈی جی سکلز پروگرام کے ذریعے دس لاکھ سے زائد بچوں کو مفت فری لانسنگ سکھائی۔ فیس بک کے ذریعے گھنٹوں بیٹھ کر مفت تعلیم دی۔ یوٹیوب چینل بنایا جسے چند دنوں میں دو لاکھ سے زائد لوگوں نے سبسکرائب کیا۔ جہاں لوگ فری لانسنگ کی مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ لوگوں کی خدمت کرنے اور پاکستان کو فری لانسنگ میں پہلے نمبر پر لانے کے لیے مفت تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ جو نوجوان مالی مسائل کا شکار ہیں اور مفت فری لانسنگ سیکھنے کے خواہش مند ہیں وہ حشام سرور کے یوٹیوب چینل پر لیکچرز لے سکتے ہیں۔

دوسری وجہ پاکستانی معیشت کا سائز ہے۔ پاکستان تیسری دنیا کا ملک ہے۔ جہاں بے روزگاری زیادہ ہے اور ماہرین کی کمی نہیں ہے۔ امریکہ اور یورپ میں جو کام بیس ہزار ڈالر میں ہوتا ہے وہی کام فری لانسنگ سائٹس پر پاکستان میں بیٹھا ایک ماہر صرف ایک ہزار ڈالر میں کر دیتا ہے۔ ایک ہزار ڈالر کا مطلب پاکستانی ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے بنتے ہیں۔ جو کہ وہ دو یا تین دن میں بآسانی کما لیتا ہے جبکہ پاکستان میں پڑھے لکھے لوگوں کی اوسط تنخواہ بیس سے تیس ہزار روپے ہے۔ جو کہ پورا مہینہ کام کر کے کمائی جاتی ہے۔ ان حالات میں تین دن کا ایک لاکھ ساٹھ ہزار کمانا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اس کا فائدہ دو طرفہ ہے۔ یورپ اور امریکہ میں بیٹھے شخص یا کمپنی کو کم پیسوں میں مطلوبہ سروسز مل جاتی ہیں اور پاکستان میں بیٹھے شخص کو مقامی کرنسی کے مقابلے میں بہترین رقم حاصل ہو جاتی ہے۔ تیسری وجہ کویڈ 19 ہے۔ جب سے کورونا نے دنیا میں قدم جمائے ہیں کاروبار کرنے کے اصول بدل گئے ہیں۔ لوگ بڑے فزیکل سٹورز سے ڈیجیٹل سٹورز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ ان سٹورز کو خوبصورت بنانے کے لیے آن لائن لوگ ہائیر کیے جا رہے ہیں۔ کچھ گرافکس بناتے ہیں۔ کچھ اینی میشن کا کام کرتے ہیں۔ کوئی سافٹ وئیر بنا کر دیتے ہیں اور کچھ کسٹمر سروسز کے لیے ہائیر کیے جاتے ہیں۔ ان حالات میں پہلی توجہ پاکستانی مارکیٹ کی طرف جا رہی ہے۔ کیونکہ جہاں ترقی یافتہ ممالک کورونا سے متاثر ہو رہے ہیں وہیں ترقی پذیر ممالک بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں ہیں۔ گو کہ پاکستانی معیشت نے کورونا کے دنوں میں بہترین پرفارم کیا ہے لیکن بے روزگاری پھر بھی بڑھی ہے۔ بہت سی کمپنیاں بند ہونے سے نوجوان گھروں میں بیٹھ گئے ہیں اور انھیں صرف ایک ہی حل نظر آرہا ہے اور وہ ہے فری لانسنگ۔ جہاں محنت کرکے ڈالر کمانا نسبتاً سب سے زیادہ آسان ہے۔ کوئی سفارش نہیں چاہیے۔ نہ ہی پرچی کام کرتی ہے اور نہ ہی رشوت کی ضرورت ہے۔ آپ اگر حقیقی طور پر ماہر ہیں تو یقین کر لیجیے کہ فری لانسنگ آپ ہی کے لیے ہے۔ آپ جتنا کام کریں گے اتنے ہیسے کما لیں گے۔ کوئی شخص یا ادارہ آپ کے پیسے مار نہیں سکتا۔ آپ کے ساتھ بے ایمانی نہیں ہو سکتی۔ یاد رہے کہ پاکستان نے یہ کامیابی اس وقت حاصل کی ہے جب دنیا میں آن لائن ادائیگیوں کا سب سے بڑا نظام پے پال پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے آن لائن سٹور ایمازون پر پاکستان میں بیٹھ کر قانونی طریقے سے کام نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق جس دن یہ دونوں رکاوٹیں ختم ہو گئیں پاکستان فری لانسنگ سروسز مہیا کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر آ سکتا ہے۔ 

حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ پاکستان میں فری لانسنگ کو پروموٹ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ یہ جو ترقی ہم دیکھ رہے ہیں یہ پاکستانیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت حاصل کی ہے۔ جب تک سرکار اس شعبے کو سنجیدہ نہیں لے گی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔وزرات سائنس و ٹیکنالوجی سے گزارش ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان میں فری لانسنگ کی داغ بیل ڈالی ہے انھیں وزارت میں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں اور ٹارگٹس دے کر نتائج حاصل کیے جائیں۔ اس کے علاوہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت ریگولر لیکچرز کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ یہ گونگلوں پر سے مٹی جھاڑنے جیسا نہ ہو بلکہ ماہر اساتذہ کو ہائیر کر کے لیکچرز دلوائے جائیں اور پھر رزلٹ چیک کیا جائے کہ اس پراسس سے تعلیم حاصل کرنے والے کتنے نوجوان پاکستانی معیشیت کے لیے سود مند ثابت ہوئے ہیں یا نہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے پاکستان فری لانسنگ میں نہ صرف اپنا مقام برقرار رکھ سکے گا بلکہ بہتری کی طرف سفرجاری رکھنے میں مدد ملے گی۔


ای پیپر