نواز شریف کے علاج کیلئے امریکہ جانا پڑے گا
07 دسمبر 2019 (22:36) 2019-12-07

لندن : نوازشریف کی صحت بہتر نہیں ہورہی، مکمل علاج کے لیے سابق وزیراعظم کو امریکا لیجانا پڑسکتا ہے۔

ذرائع شریف خاندان نے بتایا ہے کہ دماغ کو خون سپلائی کرنے والی شریان کی رکاوٹ دور کرنے کی ٹیکنالوجی برطانیہ میں بھی دستیاب نہیں ہے اس لیے نواز شریف کو علاج کے لیے امریکا لے جایا جاسکتا ہے۔پوزیٹرون ایمیشن ٹوموگرافی ((پی ای ٹی) اسکین کی رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے دائیں بغل (رائٹ ایگزیلا)میں ایک سے زائد گلٹیاں ہیں جو بڑی ہو چکی ہیں، مرض کی مزید تشخیص جاری ہے۔

ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ دماغ کو خون منتقل کرنے والی شریان کے علاج کے لیے بھی ویسکولر سرجن کی خدمات لی ہیں، ویسکولر سرجن دوبارہ نوازشریف کا معائنہ کریں گے جس میں دیکھا جائے گا کہ نواز شریف کے دماغ کی شریان کی سرجری کی جائے یا اسٹنٹ ڈالا جائے۔اس سے قبل سابق وزیراعظم کی صحت سے متعلق ان کے بیٹے حسین نواز کا کہنا تھا کہ ان کی طبیعت میں بہتری کی کوئی آثار نظر نہیں آئے، نواز شریف کی طبیعت جیسی کل تھی ویسی ہی آج بھی ہے، والد کو متعدد بار مشورہ دیاکہ امریکا سے علاج کروائیں۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم کے طبی معائنے کے بعد ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے پلیٹیلیٹس کانٹ غیر مستحکم ہیں جنہیں ادویات کے ذریعے خاص لیول پر رکھا جا رہا ہے۔


ای پیپر