میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں گھماﺅں اور سب ٹھیک ہوجائے:مصباح الحق
07 دسمبر 2019 (17:06) 2019-12-07

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے 16رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کردیا اور صرف دو تبدیلیاں کرتے ہوئے دورہ آسٹریلیا کا سکواڈ بر قرار رکھا گیا ہے ،فواد عالم کودس سال بعد ٹیم میں شامل کیا گیا ہے ۔

قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے سلیکشن کمیٹی کے کوارڈی نیٹر ندیم خان کے ہمراہ ٹیم کا اعلان کیا ۔ مصباح الحق نے یہ تاثر قطعاً غلط ہے کہ ٹیم کی سلیکشن میں ون مین شوہے اور صرف میرا عمل دخل ہوتا ہے ، سلیکشن کمیشن چھ رکنی کمیٹی پر مشتمل ہے اورکھلاڑی کی کارکردگی کا بغور جائزہ لینے اور بحث و مباحثہ کے بعد سکواڈ کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ساری توجہ سری لنکا کے خلاف سیریز پر مرکوز ہے،ہم نے میچ وننگ ٹیم بنائی ہے اور ٹیم منتخب کرنے کے لیے کافی مشاورت کی گئی ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ پاکستان میں 10 سال بعد ٹیسٹ کرکٹ بحال ہورہی ہے، پاک-سری لنکا سیریز کے نتائج ورلڈ ٹیسٹ چمپئنشپ کے لیے اہم ہوں گے۔ مصباح الحق نے ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اظہر علی کپتان ہوں گے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں عابد علی، بابر اعظم، اسد شفیق،فواد عالم، حارث سہیل، امام الحق، عمران خان (جونیئر)، کاشف بھٹی، محمد عباس، محمد رضوان، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، شان مسعود،یاسر شاہ اور عثمان شنواری شامل ہیں۔ مصباح الحق نے بتایا کہ ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں فواد عالم کو افتخار احمد کی جگہ جبکہ محمد موسی کی جگہ عثمان شنواری کوٹیم میں شامل کیاگیا ہے۔محمد موسی اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں لیکن وہ ٹیم کے ساتھ ہوں گے اور یہ اقدام مستقبل کو مد نظر رکھ کر اٹھایا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں فواد عالم کی 4 سے 5 برس کی پرفارمنس ہے اور وہ ابھی بہت اچھی فارم میں ہیں۔بالنگ کے لحاظ سے ہم تھوڑی جدوجہد کررہے ہیں اور عثمان شنواری کی فارم اس حوالے سے بہت اچھی ہے، اس حوالے سے سب کی رائے ہے کہ عثمان شنواری کی انرجی اور بالنگ بہت زبردست رہی ہے اس لیے انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ افتخار احمد نے وائٹ بال کرکٹ میں بہت اچھا پرفارم کیا ہے، یہ ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے جب ٹیم میں سے کوئی جاتا ہے لیکن ہم ٹیم میں محدود اسکواڈ ہی شامل کرسکتے ہیں۔ٹیم کی سلیکشن سے متعلق بات کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ پورے پاکستان میں ایک سوچ بنی ہوئی ہے کہ شاید میں اکیلا سلیکشن کے فیصلے کرتا ہوں اور ون مین شو ہے۔سلیکشن کمیٹی میں ون مین شو جیسی کوئی بات نہیں ہے 6 سلیکٹرز ہیں جو انتہائی باریک بینی سے ان تمام کھلاڑیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ کام کررہے ہیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم میں جتنے بھی کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے کہ ان کی فٹنس، پرفارمنس، ڈسپلن، ان کی صلاحیتوں اور ٹیکنیکل مسائل ہیں اس حوالے سے 6 سلیکٹرز کی رائے بہت معنی رکھتی ہے اور ان کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد ٹیم منتخب کی گئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں مصباح الحق نے کہا کہ کھلاڑی کو پرفارمنس کے لیے ایک طریق کار چاہیے، اس وقت سب کو نظر آرہا ہے کہ آسٹریلیا میں اور پچھلی سیریز میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بالنگ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم دیکھیں کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کھیلنے والے 2 کھلاڑی یہ فارمیٹ چھوڑ چکے ہیں جبکہ فہیم اشرف اور حسن علی انجرڈ ہیں تو اس مرحلے پر جب نئے بالرز موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے لیے ایک وقت درکار ہوتا ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ میں گھماﺅں اور سب ٹھیک ہوجائے۔سلیکشن کمیٹی کے کوارڈی نیٹر ندیم خان نے کہا کہ کافی دنوں سے ایک سوچ بنی ہوئی ہے کہ مصباح اکیلے ہی سلیکشن کا کام کررہے ہیں۔ڈومیسٹک کرکٹ ٹیم میں بھی دوسلیکٹرز موجود ہوتے ہیں کہ ایک سلیکٹر اور دوسرے کوچ جو دو مختلف زاویوں سے کھلاڑیوں کو جانچتے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ میں مشاورت سے ہی فیصلے کیے جاتے ہیں ہر سلیکٹر اپنا کام کررہا ہے اور ٹیمیں بنانے سے قبل صلاح مشورے کیے جاتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہم نے سری لنکا کے اسکواڈ کے لیے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں 6 سلیکٹرز کے ساتھ اجلاس کیا اور شارٹ لسٹ کیے گئے کھلاڑیوں کے نام مصباح الحق کو بھجوائے تھے اور اب ان شارٹ لسٹ کھلاڑیوں پر تفصیلی مشاورت کے بعد حتمی ٹیم منتخب کی۔


ای پیپر