پروفیسر طارق احمد!
07 دسمبر 2019 2019-12-07

پروفیسر طارق احمد بھی چلے گئے۔ وہیں جہاں سے جاکر کوئی واپس نہیں آتا، وہ ہمارے ملک کے ممتاز کالم نویس اور ماہر تعلیم تھے، میں کوئی روایتی طورپر یا گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑنے کے لیے اُنہیں ”ممتاز کالم نویس“ نہیں کہہ رہا، میں یہ بہت سوچ سمجھ کر دل سے کہہ رہا ہوں، اُن کے کئی کالم پڑھتے ہوئے دل میں یہ حسرت پیدا ہوتی تھی کاش یہ کالم میں نے لکھا ہوتا، وہ لگی لپٹی رکھے بغیر دل کی بات بڑے سلیقے سے اخبار کی پالیسی کے پیش نظر اگر کالم میں نہ لکھ پاتے تو اپنی فیس بک وال پر لکھ دیتے ، اُن کی تحریریں مصلحتوں اور منافقوں سے پاک ہوتی تھیں، ان کے قارئین کا شمار نہیں کیا جاسکتا، اُن سے محروم ہوجانے کا دُکھ اپنی جگہ مگر ایسا ہی ایک دُکھ یہ بھی ہمیں تڑپاتا رہے گا اُن کی خوبصورت اور تیکھی تحریروں سے ہم محروم ہوگئے ہیں، جن سے بہت کچھ سیکھنے کا ہمیں موقع ملتا تھا، وہ بہت عرصہ تک روزنامہ دن سے وابستہ رہے، اب اُن کے کالم روزنامہ نئی بات میں شائع ہورہے تھے، کچھ عرصہ شاید نوائے وقت میں بھی انہوں نے لکھا، جہاں بھی لکھا خوب لکھا۔ مجھے اُن کے کالم کا انتظار رہتا تھا، جیسے اب مجھے اُن کا انتظار رہے گا، کب وہ برطانیہ سے کچھ دنوں کے لیے عزیزوں اور دوست احباب سے ملنے پاکستان آئیں اور اُن کے اعزاز میں کچھ محفلیں سجانے کا ہمیں موقع ملے، افسوس اس اعزاز سے ہمیشہ کے لیے ہم اب محروم ہوگئے ہیں، یہ آواز سننے کے لیے ہمارے کان اب ترس گئے ”اوہ بادشاہو کتھے غائب او، اسی پاکستان آئے ہوئے آں“ .... وہ بڑی شگفتہ طبیعت کے مالک تھے، عطا الحق قاسمی کے بڑے مداح تھے، میں نے جب بھی قاسمی صاحب کے خلاف کچھ لکھا اُنہوں نے بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا، بلکہ ایک بار تو انہوں نے باقاعدہ مجھ سے زبردستی یہ وعدہ لینے کی کوشش بھی کی آئندہ قاسمی صاحب کے خلاف میں ایک لفظ نہیں لکھوں گا، میرا اُن سے پہلا تعارف اسلامیہ کالج سول لائن کے ایک مشاعرے میں ہواتھا، وہ وہاں انگریزی ادب کے اُستاد تھے۔ اُن دنوں میری ادبی تنظیم ” ہم سخن ساتھی“ بڑی مقبول تھی، مشاعرے کے بعد چائے کی میز پر اُنہوں نے مجھے بازو سے پکڑا، اپنا تعارف کروایا، کہنے لگے” ہم سخن ساتھی کی مجلسوں میں مجھے بھی بلایا کریں“۔ اُس کے بعد ہم سخن ساتھی کی جب بھی کوئی تقریب ہوتی وہ اپنی ساری مصروفیات چھوڑ کر تشریف لے آتے ،....”جملہ بازی“ میں اُنہیں کمال مہارت حاصل تھی۔ فی البدیہہ ایسے ایسے جملے بولتے بڑے بڑے رنگ بازوں کو چُپ کروا دیتے، اُن جیسے خوش گفتار اور خوش مزاج انسان زندگی میں بہت کم میں نے دیکھے ہیں، یہ ”خوش مزاجی“ اُن کی تحریروں میں بھی مِلتی تھی، ادیبوں شاعروں اور دانشوروں سے اُنہیں خصوصی محبت تھی، اپنی بیگم کے ساتھ بھی اُنہیں خصوصی محبت تھی، میاں بیوی کے ایسے مثالی تعلقات کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، اُن کی بیگم ہماری پیاری رضوانہ بھابی‘ بھی پروفیسر تھیں، وہ گورنمنٹ کالج برائے خواتین سمن آباد میں پڑھاتی تھیں، دونوں میاں بیوی کی آپس میں جو جگت بازی ہوتی، یقین کریں مجھے جب پروفیسر طارق احمد کے انتقال کی خبر ملی، یہ سوچ کر مرے آنسو بہنے لگے رضوانہ بھابی ، طارق بھائی کے بغیر اب کیسے جئیں گی؟۔ پروفیسر طارق احمد بہت محنتی انسان تھے، اِس معاملے میں رضوانہ بھابی اُن سے بھی دوہاتھ آگے تھیں، پاکستان سے اُنہیں بے پناہ محبت تھی، مگر برسوں پہلے اللہ جانے کن خدشات کے تحت پاکستان کو مستقل طورپر خیرباد کہہ کر وہ برطانیہ چلے گئے تھے ۔ ان کے تین بیٹے ہیں، وہ ان کے باپ کم دوست زیادہ تھے۔ ان کے بیٹے جس انداز میں النہیں چومتے چاٹتے مجھے یقین ہے میرے والد محترم کی طرح پروفیسرطارق احمد بھی ضرور اُن سے کہتے ہوں گے ”یار آپ نے آج تک مجھے پتہ ہی نہیں چلنے دیا میں آپ کا باپ ہوں یا بیٹا ہوں“ .... اُنہیں شاید اپنے بچوں کا مستقبل عزیز تھا، وہ شاید یہ سمجھتے تھے پاکستان میں جو حالات بن رہے ہیں بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہے۔ سو وہ برطانیہ چلے گئے، دونوں میاں بیوی نے وہاں تین تین نوکریاں کیں۔ ابتدائی طورپر اُنہیں بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ پر مسائل کے

طوفانوں کے آگے وہ چٹان بن کر ڈٹے رہے۔ تینوں بیٹوں کو برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھایا، صرف پڑھایا نہیں اخلاقی طورپر بھی ایسی تربیت کی ، تین چار برس پہلے میں جب برطانیہ گیا، برادرم مبین رشید مجھے اُن کے گھرواقع ”نیوکاسل“ لے گئے، جہاں دوروز قیام کے دوران میں نے محسوس کیا اعلیٰ تعلیم دلوانے کے ساتھ ساتھ کچھ اس انداز میں اپنے تینوں بیٹوں کی اُنہوں نے تربیت کی برطانوی کلچر کی کچھ خرابیاں اُن کا بال بیکا نہیں کرسکیں.... پاکستان سے جب کوئی شاعر، ادیب، دانشور یا کالم نویس برطانیہ جاتا، وہ ذاتی طورپر ان کا واقف نہ بھی ہوتا، اُسے تلاش کرکے نیوکاسل اپنے گھر آنے کی دعوت دیتے، پھر ایسی خدمت ایسی مہمان نوازی اُس کی کرتے وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ پانچ برس پہلے پہلی بار میں ان کے گھرگیا، تب ان کا گھر چھوٹا سا تھا، دل مگر بہت بڑا تھا ، دو دن میری جو خدمت اُنہوں نے کی یہ قرض ساری عمر میں نہیں چکا سکتا ، یہ شاید دو بیڈ رومز پر مشتمل گھر تھا، ایک بیڈ روم اُنہوں نے میرے لیے وقف کردیا، صبح میں جب نیچے آیا میں نے دیکھا اُن کے دونوں بیٹے ڈرائنگ روم میں صوفوں پر سوئے ہوئے ہیں، مجھے اُن کے اس اخلاص پر رشک آیا، اُن کے دونوں بیٹوں ڈاکٹر راحیل احمد اور ڈاکٹر نبیل احمد سے بہت گپ شپ رہی۔ اُن کے تیسرے بیٹے ڈاکٹر سجیل احمد سے ملاقات نہ ہوسکی، وہ دوسرے شہر گئے ہوئے تھے .... کل اُن کے تینوں بیٹوں کی جانب سے اُن کی فیس بک وال پر دی گئی یہ اطلاع میرے لیے حیران کن تھی، وہ پچھلے چھ برس سے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے، ان چھ برسوں میں کوئی چھ بار میری ضرور اُن سے ملاقات ہوئی ہوگی۔ کسی ملاقات میں بھی اپنی اس بیماری کا انہوں نے احساس تک نہیں ہونے دیا ، اُن کی تحریریں یقیناً یہ احساس دلاتی تھیں وہ ایک بہادر انسان ہیں، پر مسلسل چھ برسوں تک جس انداز میں ایک موذی اور جان لیوا مرض سے وہ لڑتے رہے اور اپنے مخصوص لائف سٹائل سے کسی کو اس کی خبر تک نہ ہونے دی ۔ایسا دلیر ایسا صابر شاکر انسان کم ازکم میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا، اس برس جون میں ، میں لندن تھا اُن کا فون آگیا، بڑی محبت سے نیوکاسل آنے کی دعوت دی، میں نے انہیں بتایا آج شام جرمنی اور پھر وہاں سے امریکہ جانا ہے۔ میں نے ان سے معذرت کی اور کہا اگلے برس ملیں گے۔ میری بات سن کر وہ خاموش ہوگئے، .... مجھے کیا پتہ تھا وہ اب کبھی نہ بولنے کے لیے خاموش ہوئے ہیں ۔!!


ای پیپر