Source : Facebook

”دی نیو ڈیل فار پنجاب “۔۔۔حکومت پنجاب کا ایک اور انقلابی اقدام
07 دسمبر 2018 (22:32) 2018-12-07

لاہور :حکومت پنجاب نے طالبعلموں کی تعلیم تک رسائی ،معیاری تعلیم کی فراہمی اور سکولوں کی بہترین کارکردگی کے حوالے سے نئے ایجنڈے کا اعلان کر دیا ،صوبائی وزیر سکولز ایجوکیشن مرادراس نے کہا کہ محکمہ سکولز ایجوکیشن نے مستقبل کے تعلیمی اہداف کے حصول کیلئے ”دی نیو ڈیل فار پنجاب2018-2023“کے عنوان سے حکمت عملی تیار کر لی ہے اور اس کے تحت قلیل المدتی، مختصر المدتی اورطویل المدتی پلانز متعارف کروارہے ہیں۔

صوبائی وزیر مراد راس نے کہا کہ صوبائی محکمہ سکولز ایجوکیشن میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو تیزی سے متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مربوط ڈیٹا بیس سسٹم تیار کیا جا رہا ہے تا کہ لوگوں کے مسائل کا جلد حل ممکن ہو سکے جس کیلئے پی سی ون تیارہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیچرز ٹریننگ کیلئے بہترین کنسلٹنٹس ہائر کئے جائیں گے۔صوبائی وزیر سکولز ایجوکیشن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ گلی محلوں میں غیر معیاری سکول کھولنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ایسے پرائیویٹ سکول جو ابھی تک رجسٹرڈ نہیں ہیں انہیں چاہئے کہ محکمہ سکولز ایجوکیشن میں خود کو فوراََ رجسٹرڈ کروائیں ۔صوبائی وزیر مراد راس نے آئندہ کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پرائمری سکولوں میں پانچویں جماعت تک تعلیم قومی زبان اردو میں دی جائے گی اور انگریزی کو بطور مضمون پڑھایا جائے گا۔اسی طرح 20اضلاع کے منتخب پرائمری سکولوں میںڈبل شفٹ کا آغاز کیا جا رہا ہے اورسکولوں میں 200سٹیٹ آف دی آرٹ سائنز لیبز اور100لائبریریز قائم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سنٹرل ماڈل ہائی سکول لوئر مال کو اپ گریڈ کر کہ ماڈل سکول بنایا جائے گا۔سنٹرل ماڈل سکول میں بچوں کی نگہداشت کیلئے ہیلتھ روم کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اوریہاں واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سکولوں کی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے گا اور یہ لازم ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ 20منتخب اضلاع میں طلبہ کو سائیکلوں کی فراہمی کے پروگرام کو توسیع دی جائے گی ۔

اسی طرح صوبے کے 1700منتخب سرکاری سکولوں میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی کا پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ سکولوں کی بحالی کا پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ اساتذہ کی ٹرانسفر پالیسی پر بھی نظر ثانی کی جائے گی اور استاد دوست ٹرانسفر پالیسی متعارف کروائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے سکولوں میں گرلز فرینڈلی ٹوائلٹس بنائے جائیں گے۔

صوبائی وزیر مراد راس نے ذرائع ابلاغ کو نمائندوں کو بتایا کہ بچت پالیسی کے تحت تاریخ میں پہلی بار پنجاب کریکلم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت 2019-20کے تعلیمی سال کیلئے نصابی کتب کی خریداری کے حوالے سے بڈنگ کے عمل میں 58کروڑ روپے بچایا گیا۔ اسی طرح پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے تین اداروں کو یکجا کرنے سے سالانہ2کروڑ روپے کی بچت ہو گی۔جبکہ قائداعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ میں70بولان ڈبے واپس لئے گئے جو کہ تعلیمی مقاصد کی بجائے افسران کے گھریلو استعمال میں تھے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں ڈبل شفٹ کے اجرائ، طالبعلموں کیلئے ٹرانسپورٹ کی فراہمی، سکول کونسلز کے فعال کردار،نصابی کتب کے اعلیٰ معیار کے حصول، جدید خطوط پر ٹیچرز ٹریننگ،سکولوں میں سپورٹس کی بحالی سمیت دیگر اہم اصلاحات پربھی کام جاری ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سکولوں میں جسمانی تشدد کی روک تھام کیلئے مسلسل اقدامات کئے جا رہے ہیںتا کہ طالبعلم خوف سے پاک ماحول میں تعلیم حاصل کریں۔ اس ضمن میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے جامع چائلڈ پروٹیکشن پالیسی متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لیگل پالیسی فریم ورک کے تحت پنجاب ایجوکیشن پروفیشنلز سٹینڈرڈز کونسل بل2018، پنجاب سکول ٹرواینسی اینڈکمپلسری ایڈمشن بل2018ءاور پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشن ریفارم بل2018ءتیار کر لئے گئے ہیں۔ ان بلوں کا مقصد سکولوں کے نظام کو ریگولر کرنا، فیسوں کی وصولی کو منصفانہ بنانا ، والدین کو اس بات کی تاکید کرنا کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجیں اور ٹیچرز لائسنسنگ کا اجراءہے۔ان بلوں کو پنجاب اسمبلی سے جلد پاس کروایا جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ ایجوکیشن منیجرز کیلئے تحصیل، ضلعی اور صوبائی سطح پر پرفارمنس مینجمنٹ فریم ورک پر تیزی سے کام جاری ہے۔صوبائی وزیر انفارمیشن فیاض الحسن چوہان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی باروزیر اعظم عمران کی قیادت میں کسی حکومت نے اپنا 100روزہ پلان دیا ہے اور ترجیحات طے کر کے آئندہ کی منصوبہ بندی کی ہے۔اور تمام صوبائی وزراءاپنے محکموں کے بارے میں 100روزہ پلان اور آئندہ کی حکومت عملی کے بارے میں میڈیا کو بریف کر رہے ہیں۔


ای پیپر