File Photo

دوبڑوں کی ملاقات میں یہ تیسرا کون ۔۔۔؟
07 دسمبر 2018 (20:22) 2018-12-07

اسلام آباد:چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈیم تعمیر کے بعد پاکستان کی بڑھتی آبادی کے حوالے سے بھی ایک بڑا ایکشن لیا جس کیلئے باقاعدہ دوروز قبل ایک  سمپوزیم  کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران خان سمیت ملک بھر کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی ،بڑھتی ہوئی آباد ی پر سمپوزیم کی تقریب سے قبل وزیر اعظم عمران خان اور چیف جسٹس کی چیمبر میں ون آن ون ملاقات سوشل میڈیا پر اس وقت وائر ل ہوگئی جب ایک تصویر نے ہر شخص کو حیرت میں ڈال دیا ،تصویر میں چیف جسٹس اور عمران خان کے علاوہ ایک نوجوان بھی نظر آرہا ہے جس پر سوشل میڈیا پر سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی کہ دو اہم شخصیات کے درمیان یہ تیسرا شخص کون تھا ؟

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس کی ملاقات کی تصاویر اور ویڈیو بھی سامنے آئی تھیں، تاہم اب اس حوالے سے ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک نوجوان عمران خان سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل اس تصویر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے ملنے والے نوجوان دراصل چیف جسٹس کے صاحبزادے نجم ثاقب ہیں۔ معروف اینکر و صحافی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں سوال کیا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار اور وزیر اعظم عمران خان کی چیمبر میں ملاقات کے دوران چیف جسٹس کے بیٹے نجم ثاقب ایڈوکیٹ کا کیا کام تھا؟ دو روز قبل وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی تھی۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان بڑھتی آبادی سے متعلق سمپوزیم میں شرکت کیلئے مقررہ وقت سے تقریباً 40 منٹ پہلے سپریم کورٹ پہنچے اور تقریب میں شرکت سے پہلے وہ چیف جسٹس پاکستان کے چیمبر گئے، جہاں ان کی جسٹس میاں ثاقب نثار سے ون آن ون ملاقات ہوئی۔

وزیراعظم عمران خان اور معزز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے درمیان تقریباً آدھے گھنٹے تک ملاقات جاری رہی، جس کے بعد دونوں شخصیات تقریب میں شرکت کیلئے ایک ساتھ ہال میں پہنچیں۔ اس کے بعد وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس نے بڑھتی ہوئی آبادی پر سمپوزیم کی تقریب سے خطاب بھی کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے بڑھتی ہوئی آبادی پر سمپوزیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ شکر ہے آپ نے آج مجھے یہاں بلایا، کورٹ روم نمبر ون میں نہیں بلایا۔ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں چیف جسٹس کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے پانامہ کیس کا فیصلہ دے کر نئے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ ہم پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کے لئے کوششیں کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت صرف اپنے لئے پانچ سال کا سوچتی ہے۔


ای پیپر