نیا کراچی ، نیا ووٹر، نیازاویہ
07 دسمبر 2018 2018-12-07

کراچی دنیا کے 80 مملک سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے کسی طور بھی 25 ملین سے کم نہیں ہے اور اس کی کثیر آبادی ہی دراصل اس کے دشوارگزار مسائل کی بنیاد ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ کراچی میں مختلف لسانی و ثقافتی لوگ رہائش پزیرجس کے باعث شہر کے مسائل منفرد ہیں کیونکہ ان کے مسائل ہی کو مختلف سیاسی و لسانی ، ثقافتی اور مذہبی رنگ دے کر مخصوص سیاسی مفادات کے حصول کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان تمام مسائل کو اشرافیہ کالاتعلق ہونا مزید سنگین بنا دیتی ہے ۔

پچھلے 30 برسوں میں ایم کیو ایم نے مہاجروں کی سپورٹ سے اور اپنے فعال، منظم اور مضبوط تنظیمی نیٹ ورک ، تشدد اور خوف کا استعمال کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے مختلف ستونوں کی مدد سے کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں اپنا رعب اور اثر قائم رکھا۔ ایم کیو ا یم کا سفر ابھی گرچہ اختتام کو نہیں پہنچا لیکن وہ بدترین انجام کو ضرور پہنچ رہا ہے، یہ بات ہمیں سبق دیتی ہے کہ ہم اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو ایک طرف رکھ کر کراچی کے امن و خوشحالی اور استحکام اور کامیابی کیلئے غور کریں۔ 2018 کے عام انتخابات پاکستان کی تاریخ کے سب سے پرامن انتخابات ثابت ہوئے ، پچھلے 30 برسوں میں ایسا نہیں ہوااور اسی باعث پاکستا ن کا سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو گیا ہے اور ایسی ہی ایک بڑی تبدیلی کراچی کے سیاسی منظرنامے میں بھی رونما ہوئی ہے۔ آپ کو پسند ہو یا نہیں ، اب ایک نیا کراچی ہے، کراچی سے پی ٹی آئی کی جیت اس بات کی عکاس ہے کہ کراچی کی بنیادی جماعتوں یعنی ایم کیو ایم اور پی ایس پی کراچی کے مسائل کو حل کرنے اور اجاگر کرنے میں ناکام ہوئی اور ابھی انہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ ان کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچی جا چکی ہے۔ تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر عدم دلچسپی پیدا ہو رہی ہے، اگرچہ پی ایس پی کے مقابلہ میں ایم کیو ایم کی پوزیشن قدرے بہتر ہے، لیکن ہمیں اس دھوکہ میں نہیں رہنا چاہیئے کیونکہ ایم کیو ایم بھی آہستہ آہستہ مسائل کے ادراک ان کے حل سے لاتعلق ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تنظیمی کمزوریاں ، اندرونی اختلافات ، فنڈز کی کمی اور غیر روایتی ووٹرز نے مل کر کراچی کے صف اول کی جماعت سے اس کی جیت چھیننے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ تمام علامات نقطہ بحث ہیں اور ایم کیو ایم اور پی ایس پی کی ٹوٹی ہوئی اناؤں کو تقویت دیتی ہیں۔ ان ہی باتوں کی وجہ سے ایم کیو ایم اور پی ایس پی کی لیڈرشپ اہم بنیادی مسائل سے دور ہو چکی ہیں اور تلخ زمینی حقائق سے راہ فرار اختیار کر رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور پی ایس پی دونوں جماعتیں ابھی تک موجودہ سیاسی صورتحال کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال نہیں سکیں اور اس بات کو سمجھنے سے قطعی قاصر ہیں کہ عوام نے ان کے پرانے قدیم نظریات اور لیڈرشپ کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور عوام اکتاہٹ کا شکار ہیں۔ 30 برسوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایم کیو ایم کو کراچی کے عوام نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ 2013 کے عام انتخابت میں پی ٹی آئی نے 8 لاکھ غیرروایتی ووٹرز کو گھروں سے باہر نکالا تھا لیکن انہیں اس وقت کے ایم کیو ایم کے مضبوط تنظیمی ڈھانچے نے ہرا دیا تھا۔ جبکہ 2018 کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم کے پاس وہ مضبوط ڈھانچہ موجو د نہیں تھا یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے روایتی ووٹرز کی جانب سے بائیکاٹ تھا۔ اس کے علاوہ مہاجر علاقوں کے ووٹرز نے الطاف حسین کے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان کو ووٹ دے دیا۔ سچائی یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی نے پی پی پی کو بھی ان کے روایتی گڑھ لیاری میں شکست سے دوچار کر دیا بے نظیربھٹو ، آصف زرداری اور ان کے سیاسی وارث بلاول بھٹو کو بدترین شکست ہوئی۔ لیاری میں جرائم کی کثرت اور پانی کی عدم دستیابی نے بھی لیاری کے عوام کو تبدیلی کا ساتھ دینے پر مجبور کر دیا۔

باقی ماندہ کراچی کا ردعمل بھی اس سے کچھ مختلف نہیں تھا اور لوگوں کے دل سے خوف نکل چکا تھا لہذا جو لوگ ووٹ ڈالنے آئے وہ روایتی ووٹرز نہیں تھے بلکہ نئے ووٹرز تھے جو پہلے گھروں میں رہتے تھے اور ایم کیو ایم کے روایتی ووٹر مایوسی کا شکار ہو کر یا تو گھر بیٹھ گئے یا پھر انہوں نے پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے خلاف پی ٹی آئی یا کسی اور جماعت کا ساتھ دیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کراچی جیسے میگا سٹی جہاں 21 میں سے 14 قومی اسمبلی کی نشستیں پی ٹی آئی کو دیں۔ اپنی تاریخ کے سب سے کم ووٹر ٹرن آؤٹ رہا اور پی ٹی آئی کے تین کامیاب امیدواروں نے اپنے حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹ میں 10 فیصد سے بھی کم حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ یہ حقیقت ہمیں امید دلا تی ہے کہ اگر پی ایس پی اور ایم کیو ایم اپنے معاملات درست کر لیں تو اپنا ووٹ بنک دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں اور سیاسی میدان میں باعزت طریقے سے واپسی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کیلئے کراچی کے سیاسی قلعہ کو فتح کرنا انتہائی اہم تھا کیونکہ ان کے دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ وہ ایک قومی سطح کی پارٹی ہے۔ ان کی انتخابی مہم کا نعرہ ’’وزیراعظم کراچی سے‘‘ تھا۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیئے کے عمران خان نے ایم کیو ایم کے روایتی مضبوط حلقہ سے کامیاب ہو کر ایم کیو ایم کے امیدوار کو بڑے مارجن سے شکست دی۔

اس بات کا تجزیہ کرنا انتہائی مشکل اور دشوار ہے کی ایم کیوایم اور پی ایس پی ماضی کی طرح فعال، منظم اور باصلاحیت تنظیمی ڈھانچے کے طور پر کام کرنے سے کیوں قاصر ہے جیسا کہ ماضی میں وہ اپنے تمام تر کارکنان کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے لے کر ایک ایک گھر تک پہنچنے اور ووٹرز کو باہر نکال کر پولنگ اسٹیشن تک پہنچاتے تھے۔ گلشن اقبال ، نیو کراچی ، گلستان جوہر جیسے علاقوں میں ہر اپارٹمنٹ، ہر کمپلیکس ، ہر گلی ، ہر کوچہ جا جا کر لوگوں کو آمادہ کرتے تھے جس کے باعث وہ ووٹر بھی باہر آتا تھا جو خاموش ووٹر ہوتا تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پولنگ ایجنٹ کو اسٹیشن کے اندر نہیں بیٹھنے دیا گیا جب ووٹوں کی گنتی کی جا رہی تھی لیکن یہ سارا نوحہ غصہ میں ہارے ہوئے فرد کی خوفزدہ چیخ کی مانند ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا یہ کہنا ہے کہ شہر کے باسیوں نے ایم کیو ایم سینا امید اور عمران خان کی سحر انگیز شخصیت اور تبدیلی کے نعرے ان کی جیت کی بنیادی وجہ ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کراچی کا پورے پاکستان کے کسی اور شہر سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں کراچی اپنی ساخت اور بناوٹ کے لحاظ سے وفاق کی صحیح عکاسی کرتا ہے، کراچی میں وفاق کی تمام اکائیوں کے لوگ رہائش پزیر ہیں اور اسی وجہ سے وفاق کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس شہر کے مسائل کے حل میں اپنا حصہ ڈالے۔ دنیا کے تمام بڑے شہروں کی طرح کراچی کو بھی امتیازی طرز حکمرانی چاہیئیاور ایک ایسے کلیدی نظام حکومت کی ضرورت ہے جو شہر اور عام آدمی کی مشکلات کو حل کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام صوبوں کو بہت زیادہ اختیارات ملے تھے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وفاق اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو جائے خاص کر جب وفاق میں کراچی کے انتہائی مستحکم کرادر کی بات ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو کراچی کا ٹھیکیدرا کہنے والے تمام فریقین اس صورتحال میں کہاں کھڑے ہیں؟ وہ شہر میں اپنی نئی سیاسی حیثیت کا نعرہ لگا رہے ہیں؟ کیا وہ اس نئی صورتحال میں فٹ ہو رہے ہیں؟

ہمیں اپنے ذہن میں بیٹھے ہوئے قدیم اور متروک نظریات سے باہر آنا ہو گا جو کہ محض احساس کمتری اور عدم تحفظ کی وجہ سے ہیں جس کے باعث نہ صرف اپنے سیاسی مخالفین سے بلکہ اپنے مخلص دوستوں سے دوری اور تنہائی کا سبب بنتے جا رہے ہیں اور ہماری یہ تنہائی ہمیں مزید تنہا کرتی جا رہی ہے۔ ہمیں اپنے ذہنی خلفشار و انتشار سے نکل کر باہر آنا ہو گا جو کہ صرف احساس محرومی اور عدم تحفظ کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ہمارے سامسی اثر رسوخ کو کم رہی ہیبلککہ ہمارے باہمی تعلقات کو بھی خراب کر رہی ہے۔ عملی طور پران لوگوں کیلئے جنہوں نے کراچی کی بنیادی پارٹی کو ووٹ دیا اور ان کیلئے بھی جنہوں نے کراچی کی پارٹی کو ووٹ نہیں دیا اور وہ جو یہ چاہتے ہیں کی تمام منظم اور مقبول سیاسی قوتیں ، گروپس اور جماعتیں آپس میں ملیں، اپنی اپنی نفرتوں کی دیواروں کو گرائیں اور ایک عظیم مفاہمت کی جانب قدم بڑھائیں۔ معاف کرنے اور بھول جانے کے عظیم جذبے کو سامنے رکھتے ہوئے دلوں میں جگہ پیدا کریں اور اس شہر اور اس شہر میں بسنے والوں کے عظیم تر مفاد اور بہتر مستقبل کیلئے آگے بڑھیں۔ یہ کوئی عام فہم سوچ نہیں ہے جو ہر دور اور سوسائٹی میں پھیلتی ہیبلکہ یہ ایک ایسی عظیم اور قیمتی سوچ ہے جس کے مطابق ہر اس شخص کو اہمیت دینی چاہیئے جو کراچی اور شہری سندھ کے بارے میں مثبت سوچ رکھتا ہے۔

ہم یہاں سے کہاں جائیں کیونکہ ممکنہ منازل محدود ہیں ، اختیار کئے جانے والے راستے اور نظریے کی صاف اور واضح وضاحت ضروری ہے، ہر معاملہ کو حقائق اور 2018 کے نتائج کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو سامنے رکھ کر اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا تنقیدی جائزہ ، خود احتسابی ، کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کے بعد ان کی سدباب کیلئے و اضح حکمت عملی مرتب کیا جانا ضروری ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو جانچ کر اپنے پاؤں چادر سے باہر نہ نکالیں ورنہ تنہائی کی جانب اندھیری راہ کا سفر خطرناک ہو گا۔


ای پیپر