مسئلہ کشمیر پر سہ فریقی مذاکرات کے لئے بیرونی دنیا کا اصرار
07 دسمبر 2018 2018-12-07

آزاد اور مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے ناروے کے سابق وزیرِا عظم کیجل میگنے بانڈوک نے کشمیریوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر برِا عظم ایشیا کا دیرینہ مسئلہ ہے اس کے حل کے لئے بھارت، پاکستان اور کشمیریوں کو میز پر آنا ہو گا۔ اس تنازعہ کو سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ان کاکہنا ہے کہ دلی مسلسل سہ فریقی مذاکرات کی مخالفت کرتی آئی ہے اور وہ اسے دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے تاہم میرا ماننا ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کو سہ فریقی مذاکرات کو یقینی بنا کر پائیدار بنیادوں پر حل کیا جا سکتا ہے۔

اب جد و جہدِ آزادئ کشمیر اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ خود بھارت کے سنجیدہ طبقے کشمیریوں پر بھارتی فوجیوں کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم و ستم پر سخت تشویش کا شکار ہو چکے ہیں۔ کشمیر بندوق کا مسئلہ نہیں ہے، لیکن دہلی میں بیٹھے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بندوق سے اس مسئلہ کو حل کریں گے۔ بنیادی طور پر کشمیر کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ کشمیر کی نئی نسل تعلیم اور نوکریاں چھوڑ کر بندوقیں پکڑ رہے ہیں، وہ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر بندوق اٹھا رہے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کا بچنا ناممکن ہے۔ ریاست میں اس وقت امن قائم کرنے میں تیزی آئی تھی جب واجپائی اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان بات چیت شروع ہوئی۔ لیکن آج بھارت مذاکرات پر آمادہ نہیں ہو رہا ہے۔ بھارت پاکستانی مداخلت کی بات کرتا ہے، اس سے قطع نظر کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے وہ انڈیا کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے، وہ آزادی چاہتے ہیں یا پاکستان سے الحاق، پاکستان ان کی اخلاقی و سفارتی مدد کرتا ہے مگر انڈیا کو ہر معاملے میں پاکستان کی ایجنسیاں ملوث نظر آتی ہیں۔ بھارت کشمیریوں کی بے چینی کو پاکستان کے ساتھ منسلک نہیں کر سکتا کیونکہ کشمیر کے نوجوان آزادی حاصل کرنے کے لئے جوک در جوک حریت پسندوں کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تمام بین الاقوامی اصولوں اور ضابطوں کے خلاف یہاں کے نہتے عوام کو زورِ بازو سے اپنی مبنی برحق جد و جہد سے دستبردار کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ بھارتی جنرل نے کشمیر میں ڈرون حملوں کی بات کی ہے۔ اتنی بڑی فوج کے سربراہ کا چند نوجوانوں کو زیر کرنے کے لئے اتنے وسیع پیمانے پر طاقت کے استعمال کی دھمکی مضحکہ خیز ہی نہیں بچگانہ بھی ہے۔ یہ بھارتی افواج کی ناکامی ہے کہ 10 لاکھ بھارتی فوج جدید اسلحہ سے لیس ہو کر بھی جیالوں کے عزم اور حوصلے کے آگے کمزور پڑ رہی ہے، اس سے بڑھ کر فوجی سربراہ کی تسلیمِ شکست کیا ہو گی۔ اس امر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر تنازعہ کی بنا پر صرف پاکستان ہی عقب افتادہ نہیں رہتا بلکہ بھارت پر بھی یہی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن بھارت سرکار بیرونی سازشوں کا ادراک نہیں کر رہی حالانکہ پاکستان مسلسل بھارت سے تنازعہ کشمیر انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کا مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ بھارتی فوج جس وحشیانہ انداز اور درندگی سے کشمیری عوام کا خون بہا رہی ہے اس پر اب عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے اور سہ فریقی مذاکرات پر زور دیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے جسے بھارت نے ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے وہی پرانے گھسے پٹے الزامات دہرائے ہیں۔ پاک و ہند تعلقات کی بہتری کے لئے جب بھی بات چیت کے لئے کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو بھارت کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر مذاکراتی عمل کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے۔ بھارتی حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ وہ تنازعات کے حل سے طویل عرصہ تک پہلو تہی نہیں کر سکتی مگر وہ ایک منصوبہ کے تحت بات چیت کے عمل کو کبھی کامیابی سے ہمکنار کرنے میں سنجیدہ نہیں رہی اور ایسی ہونے والی کوششیں ہمیشہ بے سود اور بے نتیجہ ثابت ہوتی ہیں۔ مسٹر کیجل میگنے بانڈوک کا سہ فریقی مذاکرات کی بحالی پر زور اس بات کی نشاندہی ہے کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے لہٰذا تمام فریقین سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ کا پر امن اور قابلِ عمل حل تلاش کرنا ہے۔ قیامِ امن کے عمل میں کشمیری جائز فریق ہیں، پاکستان اپنے عہد کا پابند ہے اور بھارت کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے راستہ میں رکاوٹ ہے۔ اس لئے تینوں فریقوں کی رضا مندی کے بغیر اس کا کوئی پائیدار حل ممکن نہیں ہے۔ جب کہ مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کی موجودہ حیثیت کو ختم کر کے اسے بھارت کا مستقل حصہ بنانا چاہتی ہے اور وہ کشمیر کے مسئلہ پر پاکستانی حکومت سے مذاکرات کرنے یا اس خطے کو آزادی دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

بھارت نے وزیر اعظم پاکستان کی مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کر دیا لیکن جواب میں کوئی ایسا أوقف بھی سامنے نہیں آیا جس سے واضح ہو سکے کہ وہ پاکستان کے ساتھ باہمی تنازعات کو حل کرنے کے لئے مستقبل میں کیا لائحہ عمل اپنائے گی۔اگر مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کر کے اسے بزورِ قوت بھارت کا مستقل حصہ بنانے کی خواہاں ہے تو اسے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان اور کشمیری اس کے اس فیصلے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور خطے میں انتشار مزید بڑھے گا جو بڑھتے بڑھتے جنگ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے کیونکہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان حساس تنازعہ ہے جس پر دونوں ممالک کے درمیان پہلے بھی جنگیں ہو چکی ہیں۔ اگر چہ 1972ء میں دونوں ملکوں نے شملہ میں ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے کہ دشمنی ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیر سمیت دیگر تمام تنازعات باہمی بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔ گزشتہ36سالوں سے یہ معاہدہ قائم ہے تاہم اس حوالے سے دونوں کے مابین محض چند ملاقاتیں ہوئی ہیں۔


ای پیپر