گناہ ٹیکس! حلال یا حرام؟
07 دسمبر 2018 2018-12-07

پاکستان تحریک انصاف کے نئے پاکستان کا ویژن اتنا خوبصورت ہے کہ میں ذاتی طورپر ان کا ہم خیال بلکہ ’’ہم خواب‘‘ بھی ہوں اور ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ اس پارٹی پر ہونے والی بے جا تنقید کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے اورپارٹی کو اپنے ایجنڈے پر کام کرنے دیا جائے جس سے عوام الناس کی مشکل کشائی ہو سکے لیکن پھر بھی آئے دن ایسا کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے کہ چپ رہنا بہت بھاری لگتا ہے۔ آخر کوئی کہاں تک مروت اور مصلحت سے کام لے۔ صحافتی ذمہ داریہ اور پیشہ ورانہ تقاضے بھی ہیں کہ بطور کالمسٹ ہم اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میرٹ پر حکومت کے اچھے اقدام کی حمایت اور غلط فیصلوں پر ان کی مذمت کریں۔ یقین کریں کہ اس بار تو حد ہو گئی ہے جب ہم نے یہ سنا کہ حکومت نے سگریٹ پر لگائے جانے والے نئے ٹیکس کا نام sin taxیعنی گناہ ٹیکس رکھ دیا ہے۔

پاکستان میں عوام مجموعی طور پر 45 قسم کے ٹیکس ادا کر رہے ہیں زکوٰۃ خیرات صدقات رشوت اور دیگر لوٹ کھسوٹ شامل نہیں ہے۔ لہٰذا 45 اور 46 سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ویسے بھی جو ٹیکس ایک دفعہ لگ گیا سو لگ گیا۔ ہمارا اعتراض گناہ ٹیکس پر نہیں اس کے نام پر ہے۔ ٹیکس تو ٹیکس ہوتا ہے جب لگ گیا تو دینا ہی پڑے گا ۔ ہماری معیشت میں ٹیکس کی حیثیت کسی صحیفۂ آسمانی سے کم نہیں جب ٹیکس کے سارے نام ختم ہو جاتے ہیں تو حکومت کی مجبوری بن جاتی ہے کہ کسی نئے نام سے نیا ٹیکس لگایا جائے۔ اس سلسلے میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کافی پروفیشنل آدمی تھے ۔ انہوں نے ایڈوانس ٹیکس کے نام سے ایسا ٹیکس متعارف کرا دیا کہ عوام دیکھتے رہ گئے بڑے بڑوں کو سمجھ نہیں آئی کہ ایڈوانس ٹیکس ہوتا کیا ہے یہ ہوتی ہے فنکاری کہ اسحاق ڈار کا لگایا ہوا ٹیکس ہم ادا کر رہے ہیں مگر پتا نہیں یہ کس چیز کا ٹیکس ہے۔ ہم نے اللہ کو نہیں دیکھا مگر پھر بھی ہمارا اس ذات پر مضبوط ایمان سے بالکل اسی طرح ہم ٹیکس کو جانے اور سمجھے بغیر اتنا جانتے ہیں کہ یہ واجب الادا ہے۔ جب ٹیکس کے بارے میں ہمارا معاشی عقیدہ اتنا اٹل ہے تو وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزیر خزانہ اسدعمر کو کیا ضرورت پیش آئی کہ وہ نئے ٹیکس کو گناہ ٹیکس کا نام دیں اس کو کوئی ایسا نام بھی تو دیا جا سکتا تھا جو ایڈوانس ٹیکس کی طرح سمجھ ہی نہ آتا۔

سگریٹ پر گناہ ٹیکس لگا کر حکومت نے اعتراف کر لیا ہے کہ وہ گناہ اور ثواب کے چکر میں پڑ گئے ہیں یہ تو وہی چکر ہے جس سے خادم رضوی نے سادہ لوح عوام کو ڈال دیا تھا۔ پاکستانی معاشرہ پہلے ہی مذہب اور فرقہ واریت کی بنیادوں پر تقسیم ہے جس سے مذہبی انتہا پسندی ، عدم برداشت،تشدد اور دہشت گردی جیسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جن کو کنٹرول کرنے کے لیے ریاست کے وسائل اور ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ایسے حالات میں عوام پر گناہ ٹیکس کا نفاذ کرنا ملک میں کھلم کھلا مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ یہ کام تو ضیاء الحق نے بھی نہیں کیا تھا کہ قومی محصولات کو گناہ ثواب کے ساتھ وابستہ کر دیا جائے۔ اب ہمیں انتظار کرنا چاہیے اس وقت کا کہ ہماری حکومت اس سے اگلے ٹیکس کا نام جنت الفردوس ٹیکس رکھ دے اور جرمانوں اور ہر جانوں میں اضافہ کے لیے انہیں دوزخ ٹیکس لگانا پڑے۔ بانی پاکستان نے تو واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ ریاست کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ آپ کا مذہب کیا ہے لہٰذا ایک مخصوص مذہبی Penaltyکو اپنے ریاستی معاشی نظام کا حصہ بنانا کہاں تک دانشمندانہ ہے۔ گناہ ٹیکس کے نفاذ سے حکومت نے آبیل مجھے مار والی پالیسی اختیار کی ہے اور خوامخواہ خود کو مشق ستم بنانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ کچھ شرارتی قسم کے تجزیہ نگار تو اب کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت ایک نئی ٹیکس ڈائریکٹری مرتب کرنے میں مصروف ہے جس میں شیطان ٹیکس اور حرام ٹیکس جیسی اصطلاحات لائی جا رہی ہیں۔ ہم نے اندازہ لگانے کی بڑی کوشش کی ہے کہ اس بات کا پتا چلایا جا سکے کہ گناہ ٹیکس جیسا Nomenclatureپارٹی کے کون سے لیڈر کی ذہنی اختراع ہے کیونکہ اسد عمر سے ہمیں یہ امید نہیں تھی لیکن ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے البتہ کچھ شرارتی تجزیہ نگار اس سلسلے میں خاتون اول بشریٰ بی بی کا نام لے رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں ہے۔ انہیں کیا پتا ہے کہ پاکستان میں تو پہلے ہی ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور پاکستان کا غریب طبقہ امیدوں سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں جنرل سیلز ٹیکس (GST) جو کہ فردختکار پر لگنا چاہیے (جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے) مگر یہ خریدار پر لگتا ہے۔ واردات یہ ہوئی ہے کہ جب حکومت نے مینو فیکچرر پر جی ایس ٹی لگایا تو انہوں نے شروع میں تو ادا کرنے سے انکار کر دیا بالآخر وہ اس شرط پر اس پر رضا مند ہوئے کہ جی ایس ٹی کی مد میں جتنا ٹیکس ان پر لاگو ہو گا وہ یہ اپنے کسٹمر سے وصول کریں گے جس پر تاجروں اور حکومت میں اتفاق رائے ہو گیا اس طرح جی ایس ٹی نے ہمارے جیسوں کی زندگی اجیرن کر دی۔ ہمیں اس وقت گناہ ٹیکس کی نہیں بلکہ ٹیکس نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے۔

یہ ایک عام فہم بات ہے کہ اگر حکومت پاکستان نے گناہ کرنے پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پھر عوام یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ جب ہم نیکی یا ثواب کا کام کرتے ہیں تو اس پر ہمیں حکومت کی طرف سے مالی شکل میں اجر و ثواب ملنا چاہیے۔ اگر حکومت یہ مطالبہ مان لے تو مسجدیں آباد ہو جائیں کی اور نماز ختم ہونے کے ساتھ ہی جو بھی نمازی باہر آئے گا ٹیکس اہلکار اسے معاوضہ ادا کریں گے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ آپ نماز پڑھ کر چونکہ اللہ کے قریب ہوئے ہیں اور یہ کام آپ نے ہمارے دور حکومت میں کیا ہے اس لیے آپ ہر نماز کے بعد حکومت کو ٹیکس دیں کیونکہ اس کے بدلے آپ کو جنت ملنی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت گناہ اور ثواب کے چکر میں پڑے بغیر بھی جب ٹیکس حاصل کر سکتی ہے ان کی مقدار بڑھا سکتی ہے اور نئے ٹیکس بھی لگاسکتی ہے تو مذہب کا سہارا یا مذہب کا لبادہ اوڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔

اب اگر کوئی غیر مسلم یہ کہے کہ اس کے مذہب میں تمباکو نوشی گناہ نہیں ہے لہٰذا اسے گناہ ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے تو حکومت کیا کرے گی۔ گھبرائیں نہیں حکومت کے پاس اس کا حل بھی موجود ہے اب ایک نئے ٹیکس کی راہ ہموار ہو جائے گی اور اس کا نام ہو گا مسلم ٹیکس ہندو ٹیکس کرسچیئن ٹیکس وغیرہ ۔

عقل اور جمہوریت دونوں کا تقاضا ہے کہ گناہ ٹیکس کا نام بدل کر اسے آپ تمباکو ٹیکس کہہ دیں یا اسحق ڈار کی طرح کوئی ایسا نام رکھ دیں جو کسی کو سمجھ ہی نہ آئے۔ گناہ اور ثواب کا تعلق ہماری آخرت سے ہے اور آخرت میں ہماری جزا و سزا کا فیصلہ ہماری ٹیکس ریٹرن نے نہیں کرنا اور نہ ہی وہاں جعلی ٹیکس ریفنڈ پر جنت ملنے کا کوئی امکان ہے۔


ای پیپر