’’کیا انگلی ایک طاقتور ہتھیار ہے ۔۔۔؟ ‘‘
07 دسمبر 2018 2018-12-07

’’فیس بک‘‘ کے طاقتور ترین ’’دانشوروں‘‘ میں سب سے پہلا وہ ہے جس نے Tention کے ان چند دنوں میں ہمارا دل بہلانے، زندگی سے لطف اٹھانے اور خود پہلوان بن جانے کے لیے ہمیں ایک تصور عطاء کیا ۔۔۔ اُنہوں نے بھارت کا جھنڈا زمین پر پھیلایا اور اُس پر کھڑے ہو کر تصویر اتروائی اور صبح جب ہماری آنکھ کھلی، ادھر ’’فیس بک‘‘ آن ہوئی اُدھر ہم نے یہ جھنڈے کی تذلیل والی تصویر دیکھی تو ’’کچھ کچھ‘‘ اچھا لگا ۔۔۔ ہمیں غصہ مودی پر ہے نکال دیا جھنڈے پر ۔۔۔ یقیناًجوں جوں لوگ اس تصویر کو ’’لائق‘‘ Like کر رہے ہوں گے ۔۔۔ ’’دانشور‘‘ کو مزہ آ رہا ہو گا اور کچھ کچھ تو زمین پر لیٹا بھارتی جھنڈا بھی انجوائے کر رہا ہو گا ۔۔۔ مگر اس تصویر لگانے والے ’’دانشور‘‘ کے گھر میں شام ڈھلے ہی مائیں بہنیں بیٹیاں 800 قسطوں پر مشتمل ڈرامہ ’’ساس بہو کی دوست نہیں تھی‘‘ چل رہا ہو گا کیونکہ میں نے ’’جنگ کا ماحول‘‘ بنتے دیکھا تو اس زاویہ نگاہ سے دوستوں کو پوچھا ۔۔۔ بھائی تنویر آپ کے ہاں تو اس ’’جنگی تیاری‘‘ کے دور میں بھارتی ڈرامے چل رہے ہوں گے۔۔۔؟

’’اوہ ۔۔۔ آں ۔۔۔ بس ۔۔۔ کچھ کچھ‘‘ ۔۔۔ ارے تنویر بھائی سیدھی بات کرو پوری شدت سے بھارتی ڈرامے، کپل شرما شو ’’Big Boss ‘‘ سب دیکھے جا رہے ہیں؟ وہ گھبرا گیا ۔۔۔ مظفر بھائی آپ کو کیسے پتہ ہے ۔۔۔؟ واقعی آپ نے تو ہمارے گھر میں گھس کے جھانک لیا ۔۔۔ یہی کچھ ہو رہا ہے ؟ ۔۔۔ وہ شرمندہ سر جھکائے بولا ۔۔۔

میں نے جب تنویر کو گھبرایا ہوا دیکھا تو اُس کے سینے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ دل نہایت شدت سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔ ارے جاہل میں نے یہ بات اندازے سے کہی کیونکہ ہمارے گھر ’’جنگ کے بادل منڈلانے کے باوجود‘‘ خواتین اُسی طرح بھارتی چینلز دیکھ رہی ہیں جیسے ان حالات سے پہلے دیکھا کرتی تھیں ۔۔۔

’’اچھا‘‘ ۔۔۔ وہ شرمندگی سے بولا ۔۔۔ مگر یہ بات سنتے ہی اُس نے کچھ ہمت پکڑی ۔۔۔

تنویر یہ ہماری تربیت کا فقدان ہے اور سبھی دوستوں نے اپنے اپنے گھر کی یہی کیفیت بتائی ہے مگر مایوس نہ ہونا جس طرح کرکٹ میں ہم ہر بار نئی ٹیم (بڑے سے بڑے سفارشیوں) پر مشتمل بھیجتے ہیں اور وہ ذلیل و خوار ہو کر آتی ہے تو ہم اپنی اور ٹیم کی اصلاح نہیں کرتے ۔۔۔ ہم اگلی دفعہ پھر نئی ٹیم (وہ بھی صرف سفارشیوں پر مشتمل ہوتی ہے یا خوش آمدیوں کا ٹولہ) کسی بہت بڑی ٹیم سے مقابلہ کے لیے روانہ کر دیتے ہیں ایک کھلاڑی دو اورز میں 14 رنز دے کر پانچ کھلاڑی آؤٹ کرتا ہے تو پورا میڈیا شور مچا دیتا ہے دیکھا نیا تجربہ، نیا خون ۔۔۔ ’’لو جاہلو ایک آدھ کھلاڑی تو اچھا کھیل گیا، ایک آدھ بار ایسا ہو گیا مگر تجربہ زیادہ ضروری اور قیمتی چیز ہوتی ہے ۔۔۔ اس پر کوئی توجہ نہیں دے گا اور اگلی بار پھر سے نئے سفارشیوں/ خوش آمدیوں پر مشتمل ٹیم بھیجنے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔ اس حوالے سے میرا ایک قطعہ ملاحظہ کریں ۔۔۔؂

’’پر‘‘ ٹوٹنے لگے ہیں بڑی تُند ہے ’’ہوا‘‘

نیکی تو کر کے دیکھئے مل جائے گی ’’جزاء‘‘

میں کر کے خوش ہوا جو ’’خوش آمد‘‘ تو ہنس دئیے

میری ’’کمینگی‘‘ مگر اُن کی بھی تھی ’’رضاء‘‘

ایسے ہی ہماری فلموں، ہمارے ڈراموں میں نئے خون کی بجائے ’’تجربہ‘‘ کو ترجیح دی جاتی ہے ۔۔۔ 60 سالہ ہیرو ۔۔۔ 61 سالہ ہیروئین۔۔۔ یہاں منطق دوسری ہے ۔۔۔ ہیں یہاں بھی سفارشی بھرتی ۔۔۔ دنیا میں فلمی فنکاروں کو ’’ہیوی‘‘ معاوضہ دے کر اُن کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں مگر ہمارے ہاں ’’ہیوی معاوضہ‘‘ لے کر جیب میں ڈالا جاتا ہے اور پیسے کے زور پر امیر زادوں لڑکوں لڑکیوں کو یا بوڑھے تجربہ کار لوگوں کو فلم میں ڈال لیا جاتا ہے اور وہ فلم چند ہفتے چلتی ہے پھر سنیما ہاؤس میں ’’باں باں باں باں‘‘ کی آوازیں آنے لگتی ہیں اور لوگ مناسب سمجھتے ہیں اور گھر میں بیٹھ کر بھارتی چینلز پر لگے ’’بکواس، بے ہودہ‘‘ منفی انداز میں جذبات ابھارنے والے ڈرامے دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔۔۔ ہمیں جنگ کی تیاری بھی کرنی ہے کیونکہ ہمارے ’’سڑک‘‘ پر طیارے اڑانے والے تجربے سے ہی بھارت اور بھارتی وزیر اعظم گھبرا گیا ۔۔۔ جیسے عطاء الحق قاسمی نے اپنی کتاب ’’گوروں کے دیس میں‘‘ میں ایک انگریز کے حوالے سے لکھا ۔۔۔

انگریز نے پاکستان سے جا کر جب اخبار میں اپنا سفر نامہ لکھا تو اُس نے لکھا کہ ۔۔۔

’’میں لاہور میں تھا صبح سویرے سیر کو نکلا تو میں نے دیکھا کہ لوگ درخت توڑ توڑ کر کھائے جا رہے تھے ۔۔۔ میں گھبرا گیا کہ یہ درخت خور قوم اپنے دانت تیز کر رہی ہے ۔۔۔ کسی لڑائی کی تیاری کے لیے۔۔۔؟‘‘

مودی نہ صرف گھبرایا بلکہ اُس کے گھبرائے ہوئے فوجیوں نے ہزاروں کی تعداد میں ’’پیٹ کی خرابی‘‘ کا بہانہ بنا کر طویل چھٹیاں Apply کر ڈالیں ۔۔۔ سب سمجھتے ہیں کہ یہ ’’بھارتی فوج‘‘ نہیں یہ خیر سے ’’میراثیوں کی فوج‘‘ ہے جنہوں نے فوج میں بھرتی ہوتے ہوئے شرط رکھی تھی کہ ہم سخت گرمی اور سخت سردی کے موسم میں چھٹی پر رہا کریں گے اور گرمیوں میں ململ کی وردی پہنا کرئیں گے ۔۔۔ اور سردیوں میں کمبل اوڑھ کر میدانِ جنگ میں جایا کریں گے ۔۔۔

شکر ہے ہماری فوج میں سفارشی بھرتی نہیں ۔۔۔ آپ کہیں گے تمہیں کیسے پتہ ہے ؟ تو جناب عرض کئے دیتے ہیں کہ میں حافظ مظفر محسن بقلم خود پاک فوج کا کمشن یافتہ ہوں اور اللہ کے فضل سے بغیر سفارش کے ہمیں فوج میں کمشن ملا تھا کیونکہ فوج کی سخت ترین ٹرئینگ سفارشی کے بس کی بات نہیں ۔۔۔ بیس بائیس میل بھاگ دوڑ سفارشی کرے گا تو اُس کا کلیجہ باہر کو آ جائے گا ۔۔۔ یہ ہمت والوں کا ہی کام ہے ۔۔۔

اس لیے قوم کو ایک فیصد بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں بہر حال ہم ’’فیس بک‘‘ کے ’’دانشوروں‘‘ کے شکر گزار ہیں اُنہوں نے ہمارے حوصلے بڑھائے ۔۔۔ کل ملتان میں قاری محمد عبداللہ کی بچوں کے ادیبوں، شاعروں کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں جہاں شعیب مرزا، سید بدر سعید ، عبداللہ نظامی، حسیب اعجاز عاشر، اختر سردار چوہدری، عبدالصمد مظفر وغیرہ بھی شریک تھے اس کانفرنس کے ایک سیشن کی صدارت جناب جاوید ہاشمی نے کی اُنہوں نے پونے گھنٹے کی تقریر میں ہمیں بتایا کہ بھارت پاکستان سے کبھی جنگ نہ کر سکے گا کیونکہ بھارتی فوجی کو موت نظر آتی ہے اور ہمارے بہادروں کو ’’شہادت‘‘ لیکن ہمیں ’’اندرونی بیرونی سازشوں‘‘ سے بہر حال ہوشیار رہنا ہے اگر ہم نے ’’اندرونی بیرونی سازشوں‘‘ کا قلع قمع کر دیا تو مودی ہماری انگلی کے اشارے پر ناچے گا۔۔۔ اس حوالے سے اک لطیفہ ملاحظہ کریں ۔۔۔

بیوی نے انگلی کے اشارے سے شوہر کو بلایا ۔۔۔

شوہر دوڑتا ہوا آیا ۔۔۔ ’’جی بیگم کوئی کام ہے ؟‘‘ ۔۔۔

بیوی مسکرائی اور بولی ۔۔۔

’’کچھ نہیں بس انگلی کی طاقت چیک کر رہی تھی‘‘ ۔۔۔؟


ای پیپر