تجاوزات اچھی ہوتی ہیں؟
07 دسمبر 2018 2018-12-07

میں ایک بڑے مشکل سوال سے دوچار ہوں،، یہ صورتحال بالکل ویسی ہے جیسی ایک ڈٹرجنٹ پاوڈر کے اشتہار میں دکھاتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں اور میں خود سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا تجاوزات اچھی ہوتی ہیں۔ میں دوستوں کے ہمراہ لاہور میں امیروں کی مارکیٹ سمجھی جانے والی لبرٹی میں داخل ہوا تو ایک خوشگوار حیرت کا سامنا تھا۔ وہاں سے سینکڑوں چھوٹے بڑے سٹال غائب ہو چکے تھے جن پر کپڑوں، چوڑیوں اور خواتین کے پرسوں سمیت تقریبا ہر شے ہی سیل پرائس پر دستیاب ہوتی تھی۔ میں نے دیکھا، پارکنگ بھری ہونے کے باوجود مارکیٹ میں بظاہر کوئی رش نہیں ہے یعنی تمام گاہک دکانوں میں جا رہے ہیں ،نہ بازار کا شورو غوغا ہے، نہ کوئی کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔ لبرٹی کے دونوں گروپ یعنی تحریک انصاف کے ساتھ چلے جانے والے صفدر بٹ اورمسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے رہ جانے والے سہیل سرفراز منج دونوں ہی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے سٹال مافیا ختم ہوا ہے۔ صفدر بٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد تجاوزات کا خاتمہ ہوا ہے کہ اس سے پہلے مسلم لیگ نون والے یہاں سے بھتہ لیتے تھے جو”اوپر“ تک جاتا تھا مگر دوسری طرف مسلم لیگ نون کے سرگرم کارکن حافظ جمیل کہتے ہیں کہ قبضوں اور بھتوں کا کام وہ کرتے ہیں جوہر مرتبہ حکومت کے بدلنے کے ساتھ ہی اپنی وفاداری بدل لیتے ہیں۔

لبرٹی کی باقی مگر باتیں بعد میں، پہلے میں آپ کو شاہ عالم مارکیٹ لے چلتا ہوں، وہاں بھی عدالت کے حکم پرتجاوزات کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی والے مشکل کا شکار ہیں، وہ عوام کے سامنے تو تجاوزات کے خاتمے کا کریڈٹ لیتے ہیں مگر تاجروں کے سامنے اپنی مجبوری کا اظہار کرتے ہیں کہ عدالت کے آرڈرز کے سامنے وہ بے بس ہیں۔ تحریک انصاف کے اندرون شہر سے ضمنی انتخابات میں امیدوار کھلے ڈلے انداز میں کہتے ہیں کہ ان کی اندرون شہر سے اتنی بری شکست کی ذمہ داری تجاوزات کے خلاف آپریشن پر بھی عائد ہوتی ہے۔ شاہ عالم مارکیٹ کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں محض چھوٹی موٹی تجاوزات ہی نہیں بلکہ لیٹرینیں، ٹیوب ویل اور گلیوں تک پر قبضے کر کے دو،دو اور چار ، چار مرلے کے غیر قانونی پلازے کھڑے کر لئے گئے، یہ پلازے کروڑوں روپوں میں فروخت ہوئے۔ جب ان غیر قانونی دکانوں کو ختم کیا جا رہا ہے تو تاجروں کا یہ سوال سو فیصد درست ہے کہ جب یہ پلازے تعمیر اورفروخت ہو رہے تھے، یہاں سے کروڑوں او ر اربوں روپے کمائے اور کھائے جا رہے تھے توبنانے اور کھانے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا، جنہوں نے کاروبار کے لئے آج سے دس، بیس یا پچاس برس پہلے باقاعدہ قیمت دے کردکانیں خریدیں، وہ دیوالیہ ہو رہے ہیں۔

آج سات دسمبر ہے، آج سے ٹھیک نو برس پہلے مون مارکیٹ علامہ اقبال ٹاون میں دوبڑے دھماکے ہوئے تھے جن میں اسی سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ جب ایک دھماکا ہوا اور لوگ جانیں بچانے کے لئے بھاگے تو دوسرادھماکا ہو گیا۔زیادہ تباہی اس وجہ سے بھی مچی کہ وہاں بجلی کی تاروں کے بڑے بڑے جال تھے جن سے شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی، مون مارکیٹ میں سٹالوں کی بھرمار تھی جنہوں نے آگ پکڑی اور بے شمار دکانیں جل کے راکھ ہو گئیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بیوٹی پارلر میں تیار ہونے والی دو دلہنیں بھی جل کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔ میری ملاقات مون مارکیٹ میں قومی تاجر اتحاد کے سربراہ راو مبارک اور دیگر سے ہوئی تو دیکھا کہ وہاں پانچ سو دکانداروں نے ایک ہزار سٹال قائم کروا رکھے ہیں، بجلی کی تاروں کا بھی وہی برا حال ہے۔ وزیر سیاحت میاں اسلم اقبال نے مارکیٹ کا دورہ کیا تھا اور تاروں کے خطرناک جال فوری طور پر ٹھیک کروانے کی ہدایت کی تھی اور مارکیٹ والے تب سے لیسکو والوں کا انتظا ر کر رہے ہیں۔ شاہ عالمی ہو یا لبرٹی یا یہ مون مارکیٹ ہو، تجاوزات اچھی نہیں ہوتیں، یہ بازاروں کے حسن خراب کرتی ہیں، چھوٹے چھوٹے سٹالوں کی وجہ سے دھماچوکڑی ہوتی ہے، خواتین کا بازارو ں میں گزر مشکل ہوتا ہے، تجاوزات بدتمیزی سے دہشت گردی تک میں معاون ہیں۔

لیکن ٹھہرئیے، تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے جو آ پ کو ان بازاروں میں اندر اترے بغیر اور وہاں مکالمہ کئے بغیر نظر اور سمجھ نہیں آسکتا۔ ہر ریڑھی اور ہر سٹال کے ساتھ ایک خاندان کا رزگار اور رزق جڑا ہوا ہے۔ شاہ عالمی میں نقصان بھی بڑا ہے کہ وہاں باپ یا دادا کی خریدی ہوئی دکان کے بارے بھی علم ہو رہا ہے کہ یہ انیس سو پینتیس کے کسی نقشے کے مطابق نہیں ہے یعنی کسی کی آنکھ ہی جس دکان میں کام کرتے ہوئے کھلی اسے علم ہوا کہ کروڑوں کی یہ دکان اب پکوڑوں کی بھی نہیں رہی۔ آپ میرے ساتھ لبرٹی مارکیٹ میں داخل ہوں تو وہاں سینکڑوں مایوس صورتیں موجود ہیں جو تھوڑا سا ڈھونڈنے پر مل جائیں گی۔ یہ مایوس صورتیں بتاتی ہیں کہ سٹال ہٹائے جانے سے پہلے وہاں تین ہزار افراد روزی روٹی کما رہے تھے ۔ جب ان کے سٹال وہاں لگے ہوں گے تو ماوں اور بیویوں نے خاندان والوں کو فخر سے بتایا ہو گا کہ ان کے بیٹے یا شوہرنے لبرٹی میں اپنا کاروبار شروع کر لیا ہے ، گھر کا چولہا جلنا شروع ہو گیا ہو گا، کئی نوجوانوں کا یہ بتاتے ہوئے رشتہ بھی طے پا گیا ہو گا اور بہت ساروں نے اپنے بچوں کو روزگار ملنے پر اچھے سکولوں میں بھی داخل کروا دیا ہو گا۔اب وہ تمام بدصورت سٹال وہاں سے ہٹا کر لبرٹی کو خوبصورت بنا دیا گیا ہے مگر مجھے وہ مایوس صورتیں بتا رہی تھیں کہ وہ ہزاروں روزانہ لبرٹی ہیں آتے ہیں،فٹ پاتھوں اور پارکنگ ایریا میں بیٹھتے ہیں اور شام کو خالی ہاتھ اور خالی پیٹ اٹھ کے واپس چلے جاتے ہیں۔میںجانتا ہوں کہ آپ یہ سیانا مشورہ دیں گے کہ انہیں تجاوزات پر انحصار کرنے کی بجائے کوئی دوسرا کام ڈھونڈ لینا چاہئے، آپ واقعی ٹیلنٹڈ ہیں اگر آپ اس تیزی سے تباہ ہوتی معیشت میں دوسرا کام ڈھونڈ سکتے ہیں۔

مجھے لاہور کے ایک سابق ڈی سی او سے اپنا ایک پرانا ڈائیلاگ یاد آ گیا، میں نے کہا، آپ گندے نالوں کے کناروں پر ناجائز مکان بنانے والوں کو اٹھاتے کیوں نہیں توانہوں نے مجھے لاجواب کر دیا کہ آپ ان کو قبضہ گروپ سمجھتے ہیں، کیا آپ اس بدبودار نالے پر رہ سکتے ہیں، ان کی مجبوریوں کو سمجھئے، وہ سر کہاں چھپائیں گے۔ میں نے سابق حکمران جماعت کے لاہور میں جنرل سیکرٹری سے کہا کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب سے ریڑھیاں اٹھوائیں جن کی وجہ سے شاہدرہ والی سائیڈ سے لاہور میں داخل ہوناعذاب ہے مگر ساتھ ہی درخواست کی کہ ان کی رجسٹریشن کر لی جائے اور ان کے لئے الگ ریڑھی بازار بنا دیا جائے مگر کچھ بھی نہ ہو سکا۔ حاصل کلام ایک فقرہ ہے کہ تجاوزات کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ شہریوں کو رزق اور روزگار کے مواقعے فراہم بھی کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے، یہ منطق قبو ل نہیں ہو سکتی کہ آپ ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے پرکئی کروڑ غریبوںکی زندگی حرام کر دیں۔ میں اتفاق کرتا ہوں کہ تجاوزات شہر کے حسن کو گہنا دیتی ہیں، یہ ریڑھیاں اور سٹال ٹریفک کے بہاو میںبھی رکاوٹ ڈالتے ہیں مگر آپ مجھ سے صرف اتنا اتفاق کر لیجئے کہ ہزاروں ، لاکھوں غریبوں کے لئے یہ تجاوزات اتنی ہی اچھی اور پیاری ہوتی ہیں جتنی کسی بھوکے کے لئے روٹی ہو سکتی ہے، کسی ننگے کے لئے کپڑے ہو سکتے ہیں، کسی مریض کے لئے دوا ہو سکتی ہے اور کسی کے لئے پوری زندگی ۔ آپ میری جذباتیت پر مسکرا رہے ہیں، آپ مسکرا سکتے ہیں کیونکہ یہ آپ کے تن کو نہیں لاگی جب آپ کے تن کو لاگے گی تو پھر ہنسی نہیں آئے گی، آپ کسی فٹ پاتھ پر بیٹھے اپنے روزگار کے اڈے کو دیکھ رہے ہوں گے، تصور میں گھر میں دوا کے انتظار میں بیٹھے والدین ،سکولوں کی فیس ہی نہیں توے پر روٹی کے لئے آٹے کے انتظار میں بیٹھے بچے ہوں گے تو آنسو ہی نہیں چیخیں بھی نکلیں گی۔


ای پیپر