کشمیر: حکمت عملی کیا ہے؟
07 اگست 2020 2020-08-07

5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے جس سہولت اور آسانی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آ ئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے اپنے دستور کے آرٹیکل 370 اور 35کو ساقط کر دیا، اس پر کس کو دوش دیا جائے؟ بھارت تو ازل سے ہمارا دشمن ہے ہی۔ اب اس دشمن پر انتہائی متعصب، مسلم کش ذہنیت رکھنے والی نریندر مودی کی حکومت ہے۔ وہی درندہ صفت شخص جس نے گجرات کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی تھی۔ وہ تو اسی نعرے کیساتھ انتہا پسند ہندو ذہنیت کے ووٹ لے کر وزیر اعظم بنا کہ اپنے متعصب ہندواتا نعرے کو عملی جامہ پہنائے گا۔ اس سے ہمیں کس بھلائی کی توقع ہو اور کیوں ہو؟ اس نے وہی کیا جس کے لئے ووٹ لے کر آیا تھا اور جس پر وہ خود بھی یقین رکھتا ہے۔ اگر کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو وہ خود پاکستان کے بارے میں پیدا ہوتا ہے جو ہمیشہ سے نہ صرف کشمیر کا دعویدار ہے بلکہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ یہ شانہ بشانہ کھڑے ہونا کس حد تک کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہے؟ کس حد تک ان کے دکھوں میں کمی لا رہا ہے؟ اور کس حد تک ان پر ہونے والے غیر انسانی مظالم کو روک رہا ہے؟

بھارت میں ہونے والے مسلم کش فسادات ، بابری مسجد، مسلمانوں کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حقوق کا استحصال ، معمول کی باتیں رہی ہیں۔ وہاں کے مسلمان غلاموں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں۔ لیکن کشمیر کے مسلمانوں کیساتھ گزشتہ تہتر سالوں سے جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مثال دنیا کے شاید ہی کسی دوسرے خطے میں ملے۔ ذیادہ سے ذیادہ اس کا موازنہ فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ ان سات دہائیوں میں کتنے کشمیری قتل کر دئیے گئے۔کتنے جیلوں میں پڑے رہے۔ کتنے گھروں سے اٹھا کر غائب کر دئیے گئے۔ شاید ہی ان کے صحیح اعداد و شمار سامنے آسکیں۔ 

بھارت یہ قضیہ خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا ۔ اس کی مرضی اور منظوری سے طے پایا کہ کشمیر میں رائے شماری کرا کے عوام کی منشا معلوم کی جائے گی کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا ہندستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم جواہر لعل نہرو بار بار استصواب رائے کی یقین دہانی کراتے رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برہمنی سوچ کی عیاری اور مکاری واضح ہوتی گئی۔ ہم کشمیر کی قراردادں پر زور دیتے رہے اور بھارت بڑی ڈھٹائی سے کہتا رہا کہ اب یہ قرادادیں پرانی ہو گئی ہیں۔ پھر سقوط ڈھاکہ کا سانحہ پیش آیا۔ ہمارے نوے ہزار قیدی بھارت کے کیمپوں میں پہنچ گئے۔ شملہ معاہدہ ہوا۔ اب بھارت یہ آڑ لینے لگا کہ اس معاہدے کے تحت کشمیر کا معاملہ کسی دوسرے فورم پر نہیں اٹھایا جا سکتا۔ بھارت ایک تاویل یہ بھی دینے لگا کہ شملہ معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کی قراردادیں ختم ہو گئی ہیں اور اب اس مسئلے کا حل کا ایک نیا میکانزم طے کر لیا گیا ہے۔ وہ دھڑلے کیساتھ کہتا ہے کہ امریکہ ہو یا کوئی اور، کسی کی ثالثی منظور نہیں۔ 

پاکستان بار بار سنجیدہ مذاکرات کی کوشش کرتا رہا اور بھارت کسی نہ کسی بہانے انکار کرتا رہا۔ اس سارے عمل کے دوران اس نے کشمیر پر غیر انسانی مظالم کا سلسلہ جاری رکھا۔ منظم انداز میں کشمیریوں کی نسل کسی ہوتی رہی۔ کشمیریوں نے ایک غیرت مند قوم کی طرح غلامی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ سات لاکھ بھارتی فوج پچھلی چار دہائیوں سے وہاں بیٹھی کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ لیکن کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو نہیں کچلا جا سکا۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد حریت کی یہ لہر اور بھی تیز ہو گئی۔ اس عرصے میں بھارت کا یہ الزام بھی ختم ہو گیا کہ مجاہدین آزادی سرحد پار سے آتے ہیں۔ غیر جانبدار مبصرین نے بھی تسلیم کیا کہ یہ سو فیصد کشمیری عوام کی اپنی تحریک ہے جس میں ہر طبقے کے مرد ، خواتین ، بزرگ اور جوان شریک ہیں۔

گزشتہ برس، 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر مکمل طور پر محاصرے کی کیفیت میں ہے۔ لوگ گھروں سے نہیں نکل سکتے۔ انسانی تاریخ کا طویل تریں کرفیو جاری ہے۔ کاروبار ختم، ادارے بند ہیں اور لوگ قیدی بن چکے ہیں۔ بھارت، جو خود کو سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، عوام کے ساتھ غیر جمہوری ہی نہیں غیر انسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ وہ اس زعم میں ہے کہ یہ مزاحمت ایک نہ ایک دن دم توڑ جائے گی۔ شاید وہ یہ بھول رہا ہے کہ تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔ انسانوں کو وقتی طور پر دبو چا تو جا سکتا ہے لیکن انہیں ہمیشہ کے لئے غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر وہ برطانیہ ایسا نہ کر سکا جس پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا تو بھارت یا کوئی مودی یہ کیسے کر پائے گا۔

ہم نے 5 اگست 2019کے غیرآئین، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی اقدام کے خلاف 5 اگست کو پاکستان بھر میں "یوم استحصال " منایا ۔ مشترکہ اجلاس کیے۔ قراردادیں منظور کیں۔ جلسوں اور جلوسوں میں ولولہ انگیز تقریریں کیں۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کا ایک نیا نقشہ جاری کر دیا جس میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھا دیا۔ اسی طرح کی ایک اور تبدیلی یہ آئی کہ اسلام آباد کی ایک بڑی شاہراہ ، "کشمیر ہائی وے "کا نام، سری نگر ہائی وے رکھ دیا۔

ان اقدامات کے بارے میں کچھ کہا بھی جائے تو کیا کہا جائے؟ یہ دکھ پھر تازہ ہو گیا ہے کہ جیسے ہم نے 73 سال گنوا دئیے، اب بھی ہم کشمیر کے حوالے سے کوئی ایسی ٹھوس حکمت عملی بنانے سے قاصر ہیں جو واقعی اس معاملے کی اہمیت اور نزاکت کو عالمی سطح پر اجاگر کرئے اور بھارت اپنی ہٹ دھرمی چھوڑنے پر آمادہ ہو جائے۔ یوم استحصال منائیں یا یوم احتساب، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سطحی جذ باتیت سے ہٹ کر آج کی دنیا کی سوچ یا ترجیحات کے حوالے سے کوئی قومی لائحہ عمل بنائیں۔ اس سوال کا سنجیدگی سے جائزہ لیں کہ کشمیر کے معاملے میں ہمارے اسلامی ممالک کیا کر رہے ہیں؟ وہ کیوں ہمارا ساتھ دینے کے بجائے بھارت کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں؟ اور پھر یہ بھی سوچیں کہ بنیادی انسانی حقوق، جمہوریت، آزادی اور امن و انصاف کے حوالے سے بہت حساسیت کا مظاہرہ کرنے والی دنیا نے کشمیر کی طرف سے کیوں آنکھیں بند کر رکھی ہیں؟ اور پھر یہ بھی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہم نے کشمیر کے معاملے کو کتنا اٹھایا ہے؟ دنیا کے سامنے کتنا واویلا کیا ہے؟ بھارت کا مکروہ چہرہ سامنے لانے کے لئے سفارتی محاذ پر کتنی تگ و دو کی ہے؟ ہم تو اس بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کے طور پر سلامتی کونسل کے لئے بھارت کے انتخاب کے موقع کو بھی استعمال نہ کر سکے۔رسمی ہی سہی ہم نے بھارت کی مخالفت نہ کی ۔ ہم غیر جانبدار بھی نہ رہے۔ ہم نے خاموشی سے اپناووٹ بھارت کے حق میں ڈال دیا۔ ادھر یہ کہ اقوام متحدہ میں معاملہ زیر بحث لانے کے لئے ہمیں اٹھارہ ووٹ بھی نہ ملے۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے برسوں سے کشمیر، ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں رہا۔ یہ داخلی سیاسی پالیسی اور عوام کے جذبات سے کھیلنے کا بہانہ بن گیا ہے۔ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ دنیا میں کشمیر یا کشمیریوں پر ٹوٹنے والے مظالم کو اجاگر کرنے کے لئے نہیں ، اپنے آپ کو فریب دینے کے لئے کرتے ہیں۔ پاکستان کا نقشہ اور کشمیرہائی وے کا نام بدلنے کے باوجود کوئی نہیں جانتا کہ کشمیر کے حوالے سے ہماری ٹھوس حکمت عملی کیا ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر مظلوم کشمیریوں کی چیخیں ابھرتی رہیں تو ہماری ایک منٹ کی خاموشی کس کام کی؟


ای پیپر