آرٹیکل 370 اور پاکستان
07 اگست 2019 2019-08-07

مئی 1991ء میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد ماہ جون میں منعقد ہونے والے انتخابات کے موقع پر میں بھارت گیا…اس چنائو کے نتیجے میں کانگریس سب سے بڑی پارلیمانی جماعت بن کر ابھری اور اس نے نرسیما رائو کو اپنا وزیراعظم نامزد کیا… تب بی جے پی کا خیال تھا کہ وہ انتخابی معرکہ سر کر کے برسراقتدار آ جائے گی… لیکن راجیو گاندھی کے اچانک قتل کی بنا پر پیدا ہونے والی ہمدردی کی لہر نے کانگریس کی جھولی میں مقابلتاً زیادہ نشستیں ڈال دیں… تاہم بی جے پی یو پی جیسی ریاست میں حکومت بنانے کے قابل ہو گئی… تب اس کے ایجنڈے میں سرفہرست اعلان بابری مسجد کو مسمار کرنے کا تھا… یہ مذموم حرکت آگے چل کر اس نے کر دکھائی… دوسرا وعدہ اس نے بھارت کی ہندو اکثریت سے یہ کر رکھا تھا کہ وہ آئین سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے کشمیر کو پوری طرح بھارت کے اندر مدغم کر دے گی…یوں اس کی متنازع حیثیت ختم ہو جائے گی… میں پہلا صحافی تھا جسے وزیراعظم بننے کے فوراً بعد نرسیما رائو سے انٹرویو کرنے کا موقع ملا… انہوں نے میرے تحریری سوالوں کے اردو رسم الخط میں اپنے ہاتھ سے لکھ کر جواب دیئے… جو اگلے روز نوائے وقت میں چھپ گئے… آف دی ریکارڈ گفتگو کے دوران میں نے نرسیما رائو سے پوچھا کیا واقعی آپ سمجھتے ہیں جیسا کہ بی جے پی نعرہ بلند کر رہی ہے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کر لیں گے… انہوں نے جواب دیا میرے خیال کے مطابق ایسا نہیں ہو سکتا…آج یا کل اس مسئلے کا دونوں ملکوں کے نزدیک قابل قبول حل نکالنا پڑے گا… شاید کبھی ایسا ہو جائے کہ بھارت اور پاکستان کے اندر ایسی حکومتیں آ جائیں جو اپنی اپنی جگہ کڑوا گھونٹ پی کر اس تنازعے کے حل کے لئے درمیانی راستہ ڈھونڈ نکالیں… انہوں نے مزید کہا آرٹیکل 370 کو آئین سے خارج نہیں کیا جا سکتا… کیونکہ ہم نے کشمیری عوام کو خودمختاری دینے کا وعدہ کر رکھا ہے… اسی دورے کے دوران میری دہلی میں ایک مسلمان رکن پارلیمنٹ کے گھر میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے ملاقات ہوئی… یہ وہ دن تھے جب کشمیر میں تحریک آزادی پورے جوبن پر تھی اور کشمیریوں کے شدت جذبات کا یہ عالم تھا وہ شیخ عبداللہ کا نام سننا پسند نہیں کرتے تھے… ان کے بیٹے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں حکومت کب کی ختم ہو چکی تھی اور وہ وادی کے اندر قدم رکھنے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے… ملاقات ہوئی تو میں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے پوچھا آپ کو بھارت دوست کشمیری سیاستدان سمجھا جاتا ہے… اگر بی جے پی برسراقتدار آ گئی تو کیا آپ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لئے اس کی ہمنوائی کریں گے یا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے… انہوں نے ہنس کر جواب دیا… دیکھئے میرے والد (شیخ عبداللہ) کہا کرتے تھے دفعہ 370 بھارت کے گلے میں چھچھوندر بن کر اٹکی ہوئی ہے جسے نگلا جا سکتا ہے نہ اُگلا… اور میں آپ کو بتائوں کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے بعد یہ دوسری چیز ہے جس نے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا ہوا ہے… ملاقات ختم ہوئی… میں باہر آنے لگا تو میزبان کی بجائے ڈاکٹر فاروق عبداللہ مجھے دروازے پر چھوڑنے آئے اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا… اگر آپ نے انٹرویو چھاپا تو اس میں میرے والد کا چھچھوندر والا تبصرہ شامل نہ کیجئے گا… اس کے بعد میرے کندھے کو دبا کر کہنے لگے … دیکھئے یہ بات بھی میں آپ کو آف دی ریکارڈ کہہ دوں کہ پاکستان ہم کشمیریوں کا سب سے بڑا سہارا ہے…میں نے نئی دہلی میں وہاں کے ایک ماہر آئین و قانون سے تبادلہ خیال کے دوران پوچھا آرٹیکل 370 میں کیا ایسی چیز پائی جاتی ہے کہ ہندو قوم پرستوں کے لئے سوہانِ روح بنا ہوا ہے لیکن بھارت کے آئین نواز حلقے اس کے ناگزیر ہونے پر یقین رکھتے ہیں… انہوں نے جواب دیااگر ہم اسے کتاب آئین سے خارج کر دیں تو ایسا خلا پیدا ہو گا جسے صرف سلامتی کونسل کی قراردادیں پُر کر سکتی ہیں… جو ہمیں کسی صورت گوارا نہیں… آرٹیکل 370 ہی تو وہ واحد ہتھیار ہے جس کی مدد سے ہم کشمیریوں کو داخلی خودمختاری دے کر اس خطے کو اپنے ساتھ رکھے ہوئے ہیں… یہ باقی نہ رہا تو جموں و کشمیر کے ہمارے ساتھ کسی قسم کے الحاق کا جواز ختم ہو جائے گا… میں بڑے اطمینان اور سرشار جذبے کے ساتھ پاکستان واپس لوٹا کہ ایک دن ضرور آئے گا اور عنقریب ایسا ہو گا جب وادی کشمیر پر آزادی کا سورج طلوع ہو گا… خواہ بھارت جتنی طاقت کا چاہے استعمال کر لے لیکن اس کا اپنا آئین، کشمیریوں کی لازوال قربانیوں سے بھرپور جدوجہد اور اس کے ساتھ پاکستان کی اخلاقی و عملی حمایت کشمیری عوام کو غلامی سے نجات دلا کر رہے گی…

آج صورت حال پلٹا کھا چکی ہے… بی جے پی کی ہندو قوم پرست حکومت نے 1992ء میں بابری مسجد کو مسمار کرنے کے بعد گزشتہ ماہ مئی میں تیسری یا چوتھی مرتبہ کہیں زیادہ بڑی اکثریت کے ساتھ اپنے اقتدار کو نئی جہت دی ہے… پہلے قدم کے طور پر کتابِ آئین سے آرٹیکل 370 کا صفایا کر دیا ہے… اس کے ساتھ ذیلی دفعہ 35اے کو بھی مٹا کر اپنے تئیں کشمیریوں کی قسمت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فیصلہ کر لیا ہے… اس نازک موقع پر پاکستان کا سہارا ہمارے ملک کے نام اور آن پر مرمٹنے والی اس عظیم اور بہادر قوم کے کسی کام نہیں آ یا… ایسا معلوم ہوتا ہے اپنی جنگ اکیلے انہوں نے ہی لڑنی ہے اور مر مر کے جینا ہے… چونکہ ان کے پیچھے حق و انصاف کی قوت ہے اس لئے ایک دن لازماً کامیاب ہوں گے… لیکن کیا ایسا مرحلہ آنے تک ہم انہیں منہ دکھانے کے قابل رہیں گے… ہماری حالت یہ ہے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا ہے … وزیراعظم عمران خان نے بڑے پس و پیش کے بعد ایوان کے اندر آ کر تقریر کی لیکن کسی قسم کی پالیسی گائیڈلائن دینے کے قابل نظر نہ آئے… اسی روز جناب آرمی چیف کی صدارت میں کور کمانڈرز کا اجلاس ہوا… اس کے اعلامیے کے طور پر بھی اس مبارک عزم کا اظہار تو ضرور کیا گیاکہ کشمیریوں کے ساتھ ہیں … آخری حد تک جائیں گے… مگر راہِ عمل کیا ہو گی اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا… اس کے بعد کل بدھ کی سہ پہر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت ختم کر دی جائے گی… کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر یوم سیاہ منایا جائے گا اور وزیراعظم عالمی سطح پر رابطے قائم کریں گے… سلامتی کونسل کا اجلاس بلوانے کی کوشش کی جائے گی… سوال یہ ہے عام درجے کے ان فیصلوں سے بھارت کو کیا فرق پڑے گا۔ کیا ان میں سے ایک اقدام بھی بھارتی فیصلے کو بدل سکتا ہے… مودی سرکار اور اس کی بی جے پی تو گزشتہ تین دہائیوں سے پے در پے اپنے انتخابی منشوروں میں اعلان کرتی چلی آئی ہے کہ وہ آرٹیکل 370 اور اس کی ذیلی دفعہ 35اے کو ختم کر کے دم لے گی… ایک غلط مؤقف کو دوٹوک الفاظ میں بڑے دھڑلے کے ساتھ دنیا اور اپنے عوام کے سامنے پیش کر کے اس پر عمل کر دکھایا ہے… اس کے مقابلے میں ہمارا اور مظلوم و مقہور کشمیری عوام کے جذبات کی عکاسی کرنے والا خالصتاً اصولی اور بین الاقوامی اصولوں کا آئینہ دار مؤقف منہ دیکھتا رہ گیا ہے… اس نازک ترین موقع پر ہمارے سامنے کوئی واضح اور ٹھوس لائحہ عمل نہیں… نہ دنیا کو بتانے کے لئے نہ پاکستانی اور کشمیری عوام کے سامنے رکھنے کی خاطر!جبکہ بھارتی سرکار نے اپنے پنجۂ استبداد میں لی ہوئی متنازع ترین ریاست کو اس طرح ہڑپ کیا ہے کہ ڈکار لینے کے لئے بھی تیار نہیں… وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے قومی دفاعی اور خارجہ پالیسی مرتب کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، سیکرٹری امور خارجہ ، اٹارنی جنرل، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر اور وزیراعظم کے مشیر خاص احمر بلال صوفی کے علاوہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان شامل ہوں گے… دوسرے الفاظ میں ایک اور ’جے آئی ٹی‘ بنا دی گئی ہے… منتخب پارلیمنٹ کو کوئی کردار نہیں دیا گیا… جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا پارلیمنٹ کے اندر عوام کی منتخب کردہ پارٹیوں کے نمائندوں پر مشتمل ان کے تناسب کے لحاظ سے کمیٹی تشکیل دی جاتی جو ہماری شہ رگ کو درپیش اتنے بڑے بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے عوام کی خواہشات اور ملک کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے باقاعدہ ایک ٹھوس اور قابل عمل پالیسی وضع کرتی… اس کمیٹی کے پاس جیسا کہ آئینی و جمہوری ملکوں کا دستور ہے اختیار ہوتا کہ وہ اپنے لائحہ عمل کو آخری شکل دینے کے دوران محکمہ خارجہ و قانون اور دفاعی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کرتی یعنی بریفنگ لیتی لیکن فیصلہ سازی کا اختیار بہرصورت کمیٹی میں شامل وزیرخارجہ سمیت تمام جماعتوں کے منتخب نمائندوں کے پاس ہوتا… لیکن وزیراعظم کی اعلان کردہ کمیٹی میں تو بقول سینیٹر رضا ربانی ماسوائے وزیر خارجہ قوم کا منتخب کردہ ایک شخص بھی نہیں… ماتحت اداروں کے لوگ ہیں جو منتخب حکومت پر جو پالیسی مسلط کریں گے اس سے منہ زور بھارتی حکومت کا کیونکر مقابلہ کیا جا سکے گا… جو ظالم اور سفاک صحیح مگر اسے اپنی قوم کی پوری نمائندگی حاصل ہے…

آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد بھارت کی آئینی اور بین الاقوامی قانون کی رو سے پوزیشن بس یہ رہ گئی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر پر اس کا قبضہ ننگی جارحیت کے علاوہ کچھ نہیں… اس کے پاس کوئی دستوری جواز باقی نہیں رہا… یہاں پر سلامتی کونسل کی قراردادیں غیر معمولی طور پر relevant بن جاتی ہیں جس کے دستخط کنندگان میں دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں کے علاوہ پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیںان پر عملدرآمد کیا جائے… اس تناظر میں دیکھیں تو پاکستان اور کشمیری عوام کا مؤقف پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے… اسے نئی اصولی اور اخلاقی قوت مل گئی… مگر کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی اس قابل ہے کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے… آپ امریکہ گئے وہاں پر آپ کو کشمیر کے معاملے پر ثالثی کا لولی پاپ دیا گیا… تاکہ پاکستان افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں ملنے والی شکست کو کامیابی کے پردے میں لپیٹ کر امریکہ کے حضور پیش کر دے … ٹرمپ صاحب اس میں کامیاب نظرآتے ہیں … مگر ثالثی کی اس پیشکش کے جواب میں بھارت کی جانب سے جو ٹھڈا دکھایا گیا ہے اس پر امریکہ یہ کہہ کر خاموش ہو گیا ہے کہ بھارتی دفعہ 370 کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتے ہیں… پاکستانی مؤقف کی جانب اشارہ تک نہیں کیا گیا… سعودی عرب خاموش ہے… امارات کی جانب سے ایسی سفارتی بدمزاجی کا مظاہرہ کیا گیا ہے کہ نام لینے کو جی نہیں چاہتا… وزیراعظم نے مہاتیر محمد کو فون کیا انہوں نے ہاں ہوں کر دی… صرف ترکی اور چین نے ہمارے زخم پر مرہم رکھنے کی کوشش کی ہے… لیکن کیا اتنی سی حمایت کے بل بوتے پر ہم بھارتی اقدام کی کایا پلٹ کر رکھ دیں گے… ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا… ہماری خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کو درپیش اتنے بڑے اور نازک بحران کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی حکمت عملی ہے نہ سٹرٹیجک پالیسی… اندرون ملک حالت یہ ہے کہ کرپشن کے نام پر مخالف سیاستدانوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے… آزادیٔ اظہار پر سخت پابندیاں ہیں… مریم نواز کے لاکھوں پر مشتمل جلسوں اور ریلیوں کے مقاطعے کا حکم ہے… کسی چینل کو انہیں دکھانے کا یارا نہیں… کوئی اخبار ایک کالم سے زیادہ بڑی خبر چھاپنے کی جرأت نہیں کر سکتا… یکطرفہ پراپیگنڈا کے ذریعے قوم کو ذہنی غسل دیا جا رہا ہے… عسکرزدہ جمہوریت کے سائے تلے ہماری معاشی پوزیشن اتنی کمزور ہے کہ سر آئی ایم ایف کے شکنجے میں دے رکھا ہے اوپر سے FATF کا سخت دبائو ہے … پائے ماندن نہ جائے رفتن ایسے میں ہم کشمیری عوام کی کیا مدد کریں گے اور اپنی شہ رگ کو بھارت کے بچڑ خانے میں جانے سے کیونکر روک پائیں گے…


ای پیپر