جموں کشمیر… جمہوریت کا قتل
07 اگست 2019 2019-08-07

5 اگست کا دن دنیا کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب انڈیا میں بی جے پی کی حکومت نے کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرتے ہوئے انڈین آئین سے آرٹیکل 35 ۔اے جو کہ ریاست کو خود مختار حیثیت دیتا ہے اسے ایک صدارتی آرڈر کے ذریعے ختم کر کے کشمیر کو ماورائے آئین زبر دستی انڈیا کا حصہ بنانے کا اعلان کر دیا گیا بھارتی وزیر خارجہ امیت شا نے جن حالات میں پارلیمنٹ میں یہ اعلان کیا اور اس پر اپوزیشن کی جانب سے جتنا شدید احتجاج سامنے آیا وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور اس کو بر قرار رکھنے کے لیے ریاستی ہائی کورٹ اور انڈین سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں بلکہ ایک کیس ابھی بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ مگر انڈیا نے جمہوریت اور آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے تمام تر امور کو بالائے طاق رکھ دیا ۔

عمران خان کے دورہ امریکہ پر صدر ٹرمپ کی طرف سے کشمیر پر ثالثی کی پیش کش اور صدارتی حکم سے ایک روز پہلے تک صدر ٹرمپ کا کشمیر پر اپنے بیان کا اعادہ کرنا بڑا معنی خیز لگتا ہے ۔ گزشتہ کئی دنوں سے کشمیری لیڈروں کی گرفتاریاں کرفیو کے احکامات اور رکھ ترا کی منسوخی کشمیر سے سیاحوں کا انخلاء تعلیمی اداروں کی بندش اور فوج کی بھاری تعداد میں گشت سے واضح ہو چکا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔ مودی حکومت اپنے گزشتہ دور میں بھی یہ دھمکی دیتی رہی کہ ہم کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر دیں گے جس پر اس وقت کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ جیسے ہی انڈیا یہ اعلان کرے گا کشمیری بغاوت کا اعلان کر دیں گے یاد رہے کہ نظر بند کشمیری لیڈروں میں دو سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ بھی شامل ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ انڈین اعلان کے 24 گھنٹے گزر جانے کے بعد ابھی تک کسی اپوزیشن راہنما یا کشمیری شہری نے سپریم کورٹ کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا کہ اس غیر آئینی حکم پر حکم امتناعی جاری کیا جائے حالانکہ انڈین سپریم کورٹ ایسا حکم جاری کرنے کی مجاز ہے اور ماضی میں سپریم کورٹ نے حکومت کے خلاف فیصلے بھی کیے ہیں کانگریس اپوزیشن جماعت اعلان کے وقت جتنا شور مچا رہے تھے انہیں چاہیے تھا کہ و ہ اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کرتے مگر یہ نہ ہوا۔ امکان یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں معاملہ سپریم کورٹ میں آ گیا تو حکومت دفاعی پوزیشن میں آجائے گی یہ صدارتی اعلان اس لیے بھی غیر آئینی ہے کہ جس ریاست کو زبردستی ضم کیا جا رہا ہے نہ تو وہاں عوام کی رائے لی گئی نہ اس ریاست کی اسمبلی نے ایسی کوئی تحریک پاس کی گویا ان کی قسمت کا فیصلہ ان کی مرضی اور رائے کے بغیر کیا گیا ۔ یہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس وقت کشمیر میں بڑا سخت کرفیو نافذ ہے وادی کو فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے ایک طرح کا غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے ۔ ٹیلی فون موبائل فون اور سوشل میڈیا سب بند کر دیئے گئے ہیں وادی میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہے اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں یہ سلسلہ کب تک یوں چل سکتا ہے۔ آخر کب تک انڈیا طاقت کے زور پر کشمیر کو اپنی کالونی بنا کے رکھے گا۔

کشمیر کی خود مختار حیثیت کے خاتمے کا فوری نتیجہ یہ ہو گا کہ یہاں مسلمان کشمیری اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے ہندوستان سے ہندوئوں کو لا کر آباد کیا جائے گا اور غیر کشمیریوں کو یہاں زمین خریدنے کی اجازت دیدی جائے گی اس سے پہلے کوئی غیر کشمیری یہاں گھر نہیں خرید سکتا تھا ۔ یہ بالکل فلسطین اور اسرائیل والا تجربہ دہرایا جا رہا ہے جس طرح فلسطینی اپنی ہی سر زمین سے بے دخل کر دیئے گئے تھے۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے کیا وادی میں طویل مدت تک عدم استحکام کی بنیاد رکھ دی گئی ہے جس سے کشمیر میں جاری خانہ جنگی میں شدت آجائے گی ۔

اب سمجھ آ رہی ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے کشمیر پر پے در پے بیانات کے پیچھے حقیقت یہ تھی کہ انڈیا نے امریکہ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کو افغانستان کے انخلاء کے عمل میں کردار ادا کرنے کا کہا جا رہا تھا۔ مگر ساتھ ہی پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا گیا اس سے افغان عمل کی کامیابی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خود بیان دینے کی بجائے اپنے ترجمان کے ذریعے ثالثی کی بات کی ہے جو کسی اخبار کے اداریے جیسی ہے کہ معاملات بات چیت سے حل ہونے چاہیے۔

اور کسی طرف ری ایکشن آئے نہ آئے کشمیری اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے جب تک آخری کشمیری زندہ ہے کشمیر میں مزاحمتی تحریک زور پکڑ جائے گی کشمیر میں چونکہ سیاسی عمل کی بساط لپیٹ دی گئی ہے اور تمام سیاسی پارٹیوں کے بڑے لیڈر جیلوں میں ہیں لہٰذا یہ خانہ جنگی صرف باغی گروپوں کی جانب سے نہیں ہو گی بلکہ اس میں سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہو جائیں گی محبوبہ مفتی نے تو کہہ دیا ہے کہ ہم نے انڈیا کے ساتھ رہنے کا فیصلہ غلط کیا تھا۔

اس سارے معاملے میں پاکستان کا کردار اہم ہو گا ۔ پاکستان کی ہر حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے لیے ان کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھی جائے گی ۔ یہ معاملہ چونکہ دنیا کی دو عالمی نیو کلیئر طاقتوں کے درمیان ہے لہٰذا دو ملکوں کے درمیان ممکنہ جنگ صرف کشمیر تک محدود نہیں رہے گی اس بات کا امریکہ کو بھی علم ہے امریکی دفتر خارجہ نے اپنے محتاط بیان میں کہا کہ وہ معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے سب سے پہلا اور اہم راستہ یہ ہے کہ سفارتکاروں کا بھر پور استعمال کر کے دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھایا جاے۔ انڈیا کے اندر سیاستدان کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے ۔ انڈیا کو سفارتی محاذ پر مجبور کیا جائے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے۔ اس سلسلے میں اسلامی ممالک کی تنظیم OIC کو استعمال کیا جائے اور OIC کے پلیٹ فارم سے انڈیا کا سفارتی بائیکاٹ کروایا جائے یہ بہت مشکل کام ہے کیونکہ مسلم ممالک خود تقسیم ہو چکے ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان امریکہ کو قائل کرے کے انڈیا کی وجہ سے خطے میں امن برباد ہو رہا ہے ۔ تیسرے نمبر پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ضمن میں عالمی تنظیموں کو مدد سے اقوام متحدہ کو استعمال کیا جائے اگر معاملہ اقوام متحدہ میں جاتا ہے تو وہاں کشمیریوں کے حق میں اکثریتی ووٹنگ بہت اہمیت اختیار کر جائے گی۔ پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر اپنے سفارتی مندوب دنیا بھر میں بھیجنے چاہیے تاکہ عالمی برادری کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ جنگ کا آپشن ابھی نا گزیر نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان جنگ افورڈ کر سکتا ہے ہمارا ویسٹرن بارڈر جوکہ 2600 کلو میٹر ہے وہ پہلے ہی غیر محفوظ ہے اور دہشت گردی کی جنگ میں ہماری فوج اب بھی مصروف ہے اگر ایسٹرن بارڈر پر جنگ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو فوج کے لیے بہت بڑا چیلنج ہو گا۔


ای پیپر