اللہ کا مہمان
07 اگست 2019 2019-08-07

ہم نے اپنی جمع پونجی والی جیب جھاڑی۔ ایک معقول رقم مل گئی۔اگلا فون اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں انجم صدیق کو کیا اورپوچھا۔ چند ماہ سے جو اضافی اخراجات میری گرہ سے ادا ہوتے رہے۔ ہیڈ آفس دبئی سے اس کی ادائیگی ہوئی یا نہیں ، چیک تو کریں۔ انجم صدیق نے ادائیگی ہوجانے کی خوشخبری سنائی اور جو رقم بتائی وہ اس رقم کے قریب قریب تھی جوجنید جمشید کے منیجر نے مجھے بتائی تھی۔یعنی میں جس کے لیے فکرمند تھا ، اس رقم کا بیٹھے بٹھائے انتظام ہوگیا۔ میں انجانے میں حج کے لیے رقم جمع کیے جارہا تھا اور مجھے علم ہی نہ تھا۔ اس اتفاق نے تو مجھے سْن کردیا۔ یاالٰہی !یہ کیا ماجرا ہے۔ اس گنہگار پر اتنا کرم۔ مطلوبہ رقم میرے پاس آچکی تھی لیکن دل میں وسوسے ختم نہ ہوپائے تھے۔ کیا واقعی ، اس رقم کی ادائیگی کے بعد میرا حج پر جانا یقینی ہوجائے گا ؟ کیا یہ کوئی فراڈ تو ہونے نہیں جارہا ؟ کیا مجھے فون کرنے والا واقعی جنید جمشید کا منیجر ہی تھا یا کوئی اور ؟ اگر وہی تھا تو کل تک رقم کراچی کیسے بھجوائی جائے کہ پہنچ بھی جائے اور اگر کام نہ ہو تو رقم بھجوانے کا کوئی ثبوت بھی ہو ؟ تھک ہار کر اس ذہنی کشمکش کو اگلے روز کے لیے رکھا اور گھر جاکر بتایا کہ یکایک حج پر جانے کی یہ صورت نکل آئی ہے۔ حیران لہجے میں مبارکباد یہ کہتے ہوئے ملی کہ اتنی جلدی ، یہ سب کیسے ممکن ہوگیا۔ساتھ جاتے تو اچھا تھا۔ چلیں !پہلے آپ ہوآئیں۔

اگلی صبح کا سورج طلوع ہوا تو رقم کا لفافہ پاس تھا۔ جنید جمشید کے منیجر کو ٹیلی فون کرکے استفسار کیا۔ شام تک یہ رقم کیسے بھجوائی جائے ؟ تنخواہ نقد ملتی ہے ، اس لیے جو پرانے ادارے کا اکاؤنٹ کھلوایا تھا وہ بھی بند ہوچکا ہے۔ انہوں نے جواب دیا ، آپ کو اپنا اکاؤنٹ بھجوا رہا ہوں ، اس پر کسی بھی بینک میں جاکر ڈرافٹ بنوا کر بھجوا دیں۔ استفسار کیا ، ڈرافٹ تیزترین کوریئرسروس کے ذریعے بھی آج نہیں پہنچ پائے گا ؟ اس میسج کا کوئی جواب نہ آیا۔ پریشانی کا ایک اور لمحہ شروع ہوگیا۔ کہیں ہاتھ آیایہ سنہری موقع چھوٹ نہ جائے ؟ کیا کروں ؟ اتنے میں موبائل فون کی سکرین چمکی۔ جنید جمشید کے منیجر نے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھیجی تھیں۔ جیسے ہی بینک کا نام دیکھا۔خیال آیا کہ پچھلے سال اس بینک کی مال روڈ لاہور کی برانچ میں ایک دوست کو نوکری ملی تھی تو اس نے اپنا ابتدائی ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے میرے سمیت کئی اور دوستوں کے اکاؤنٹ کھلوا دیے تھے۔ کبھی اس اکاؤنٹ کی چیک بک لی اور کبھی رقم جمع کرائی۔ اس بینک کا نام دیکھ کر امید کی کرن جاگی۔ سیدھا مال روڈ پر اس بینک میں پہنچا۔ دوست کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا وہ تو کب کے چھوڑ کر کسی اور بینک میں جاچکے۔ اس سے پہلے کے امید ، ناامیدی میں بدلتی۔ جس اسٹاف افسر سے پوچھا تھا ، ان کو بتایا کہ میرا یہاں اکاؤنٹ ہے ، کبھی چیک بک یا اے ٹی ایم کارڈ نہیں ملا۔ اب اتنے لاکھ روپے مجھے کراچی اسی بینک کی برانچ میں بھجوانے ہیں ، یہ بھی بتادیا کیوں بھجوانے ہیں ؟ مجھے اپنے کیبن میں بیٹھنے کا کہہ کر وہ اپنے افسر سے مشاورت کے لیے چلے گئے۔ کچھ دیر بعد واپسی ہوئی ،ایک درخواست لکھ کر مجھ سے دستخط لیے اور ایک سو روپے اور درخواست لے کر چلے گئے۔ اگلی باری میں مجھ سے رقم اور دوسری کراچی کے اکاؤنٹ کی تفصیل لی۔ اب کے واپسی ہوئی تو ہاتھ میں رقم منتقلی کی رسید تھی اور منہ پر الفاظ تھے۔رقم منتقل ہوگئی ، ثبوت بھی مل گیا۔ آپ کو حج پر جانا مبارک ہو۔ ایک اور اتفاق میرے چہرے پر پھیلی حیرانی پر مسکرا رہا تھا۔

یہ مجھ پر اترنے والی حیرتوں کے دن تھے۔ کراچی سے جنید جمشید کے منیجر نے رقم ملنے کی تصدیق کردی۔ اس پے درپے اتفاقات سے گزرتے ہوئے خیال آیا۔ حج پر جانے کی تیاری بھی کی جاتی ہے۔ والدین کو بتانا ہے ، دفتر سے چھٹی لینی ہے ، کتنے ہی اور کام پڑے ہیں ؟ دفتر جاکر اس رپورٹر کو بتایا ، جو اللہ تعالیٰ کے گھر حاضری کا پہلا وسیلہ بنا تھا۔ جواب میں اتنی بات سننے کو ملی۔ آپ سے کہا تھا ناں ، ارادہ کرلیں۔ اب وہاں جاکر میرے لیے بھی دعا کیجئے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنوں خوش نصیب بندوں میں شامل کرلے۔ ہم کیا کہتے ، بس اتنا ہی کہہ پائے۔ خوش نصیب تو آپ ہیں جو یہاں بیٹھے بٹھائے وسیلہ بن گئے۔ اصل میں رب تو مجھ جیسے گنہگاروں کا بھی ہے۔ پھر انہیں تین خواہشوں کی بارے میں بتایا تو سننے والے کے چہرے پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔

کراچی رقم کی منتقلی کے بعد اب کچھ کچھ یقین آنے لگا کہ بلاوا آگیا ہے۔ ابھی یہ یقین پوری طرح دل میں اترا نہیں تھا کہ جنید جمشید کے منیجر کا ایس ایم ایس ملا۔ ڈیڑھ لاکھ روپے مزید بھجوا دیں ، اخراجات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پیغام پڑھ کر تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اتنی رقم اب کہاں سے لاؤں ؟ پہلے منیجر کو ٹیلی فون کرکے دل کا غبار نکالا۔ انہوں نے سب کچھ سنا ، آخر میں بس اتنا کہا۔ یہ رقم سب کو دینا پڑرہی ہے ، آپ کو بھی کوئی بندوبست کرنا ہی پڑے گا۔یہ سن کر خود کو کوسنیلگے۔خواہش کرتے ہوئے حج کرنے کے لیے ٹھاٹ کے ساتھ پرائیویٹ ایجنسی سے جانے کی پخ کیوں لگائی ؟ حج ہی تھا ، سرکاری اسکیم میں بھی ہوجاتا۔ اب لاؤ، ڈیڑھ لاکھ روپے اور۔ کافی دیر سوچا۔ ایک جاننے والے سے رابطہ کیا۔ آپ نے کافی عرصہ پہلے ادھار رقم لی تھی ، ممکن ہوسکے تو اب ادا کردیں۔ وجہ بتائی تو انہوں نے ایک مخصوص رقم اگلے دن تک بھجوانے کی حامی بھرلی۔ اس بار پھر امید بندھنے لگی۔ ذہن کے گھوڑے مزید دہرائے ، جب کچھ نہ سجھائی دیا تو گھر والی کو فون کیا اور سارا ماجرا سنایا۔ جواب میں تسلی دی گئی کہ آپ ہمت کریں۔ جتنی پیسے چاہئیں۔ وہ میرے پاس ہیں ، مل جائیں گے۔ ایک بار پھر ناممکن ، ممکن ہوگیا۔ شکر کے ایک اور لمحے نے مجھ پر سایہ کرلیا۔ یہ کافی عرصہ بعد پتہ چلا کہ مجھے دی گئی رقم بچت کی نہیں تھی بلکہ میرے فون کے بعد گھروالی فوری طور پر بازار گئیں اور اپنی سونے کی چوڑیاں بیچ کر رقم کا بندوبست کیا۔ جزاک اللہ ۔

اللہ کے گھر جانے کی رکاوٹیں دور ہونے لگیں۔کمزور دل پھر بھی گومگو کا شکار رہا۔ حج پر جانے سے پہلے اہلخانہ کے اخراجات کے لیے رقم دے کر جانا ضروری ہے۔ تنخواہ وہاں کام آجائے گی ، یہاں کیا بنے گا ؟ کبھی خود پر غصہ بھی آنے لگتا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی عقل دے ہی دی تھی تو ہروقت ایسے ہی سوال کیوں ابھرتے ہیں ، جس سے حوصلہ ٹوٹے ۔ جس رب نے اتنے اسباب کیے ، اس کی بھی راہ نکالے گااور پھر ایک دن چیف ایڈیٹر دبئی سے لاہور آئے ۔ آفس پہنچتے ہی پہلے حج پر جانے کی مبارکباد دی اور ساتھ ہی ایک لفافہ یہ کہتے ہوئے تھمادیا۔ خود تو جارہے ہو۔ گھر میں بیٹی اور بچوں کو یہ میرے طرف سے خرچ دیتے جانا ۔ میں جانتا ہوں ، جو مجھے جانتے ہیں ، ان باتوں پر پڑھ کر شاید مسکرائیں لیکن سچی بات یہی ہے۔ یہ سب میرے ساتھ ہوتا رہا۔ مجھ جیسے گنہگار کے ساتھ۔ کئی برس دل میں رحمت کا یہ سامان چھپائے رکھا۔ اب دل کیا ، ظاہر کردوں۔ رب کہتا ہے ، جو میری طرف ایک قدم آئے گا ، میں دس قدم بڑھاؤں گا۔ بے شک توہی سچا ہے میرے رب ، میں نے دل وجان سے مان لیا۔

اسباب کی دنیا سے جان چھوٹی تو ایسے دنیاوی الجھاووں نے گھیر لیا کہ چاہنے کے باوجود حج کے بارے میں تسلی بخش تیاری ممکن نہ ہوپائی۔ رہی سہی کسر اس اطلاع نے نکال دی کہ جنید جمشید کا آفس کراچی میں ہے تو روانگی بھی وہیں سے ہوگی۔جب کراچی پہنچیں تو احرام سمیت اپنا سامان آفس سے وصول کرلیں۔ لاہور سے کراچی روانگی اور ایک دن کے قیام کا بندوبست کیا۔اس دوران پتہ چلا مولانا طارق جمیل بھی حج کے دوران ساتھ ہوں گے اور لاہور آئے ہوئے ہیں۔ ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنے بھائی کے گھر بلالیا ، جہاں ان کا قیام تھا۔ اپنی پریشانی بتائی کہ تیاری نہیں ہوپائی ، مولانا طارق جمیل نے تسلی دی اور کہا بے فکر ہوجاؤ ، وہیں ملاقات ہوگی۔ سب آسان ہوجائے گا۔ آخرکار وہ دن بھی آگیا جب لاہور ائرپورٹ سے شہرقائد کو طیارہ پکڑا۔ ائرپورٹ پر سامان کی چیکنگ کرانے کے بعد لاؤنج میں بیٹھاتو اس ہجوم میں سب کھو گیا۔ پیچھے رہ گیا میں اور میرا رب۔ باتوں کا دور چلا تو تھمنے میں نہ آیا۔ کب طیارے نے اڑان بھری ، کب کراچی پہنچا۔ سب ایک خواب سا لگا۔ کراچی پہنچ کر شاہراہ فیصل پر ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ ایک دوست اطلاع ملتے ہی پہنچ گیا۔ رات بھر دوستوں کی آمد رہی اور یہ سمجھانا مشکل ہوگیا ۔ اتنی جلدی ، اس عمر میں حج ؟ بس یہی جواب بن پڑا۔ نو سو چوہے جب پورے ہوگئے ، حج کو چل دیے۔ بھائی !شیطان نہ بنو۔ سونے دو ، صبح سویرے روانگی ہے۔


ای پیپر