ٹرمپ بمقابلہ بغل بچہ
07 اگست 2019 2019-08-07

کشمیر کے حوالے سے بھارتی آئین کی دفعہ370اور 35اے کومنسوخ کر کے بھارت نے خود کش دھماکہ کرنے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کو ثالثی کے پیغام کا بے وقوفانہ جواب بھی دیا ہے بھارت کی جانب سے اس عمل کا منصوبہ گزشتہ ایک دہائی سے بنایا جا رہا تھا ۔اس سے قبل اقوام متحدہ کی قراردادیں ہوں یا شملہ معاہدہ بھارت کا دھوکہ دہی اور بددیانتی پر مشتمل منفی رویہ دینا کے سامنے رہا ہے ۔ماضی میں دنیا کی عالمی طاقتیں کشمیر کے معاملے میں بھارت کے موقف تسلیم کرتی آئی ہیں لیکن اب صورتحال پاکستان کے حق میں مکمل طور پر مختلف ہے اگر پاکستانی حکومت سفارتی محاذ پر کشمیر کے مسئلے کا درست انداز میں دفع کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تاریخ پی ٹی آئی حکومت کو پاکستان کی محسن حکومت کے نام سے یاد رکھے گی ۔خارجہ پالیسی کے تھنک ٹینکس کو اس مرتبہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر اقدامات کرنا ہونگے۔ماضی میں صدر اوبامہ کی جانب سے صدارتی انتخابات سے قبل افغان امن اور کشمیر کی بات کی گئی تو سپر پاور کے موقف کو غلط ثابت کرنے کے لئے اپنے گھر کے اند رممبئی حملہ کروایا گیا ۔اب صدر ٹرمپ نے بات کی تو انھیں آئین میں ترمیم کے ساتھ ساتھ نہتے شہریوں پر کلسٹر بم استعمال کر کے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر کے جواب دیا گیا ۔آج بھارت کے اقدامات جہاں یہ ثابت کرتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی اور خطے کے امن کو ثبوتاث کرنے میں جہاںبھارت کا ہاتھ رہا ہے وہاں ہی امریکہ سمیت عالمی طاقتیں بھارت کی غلطیوں کو نظر انداز کر کے اسے بغل بچہ بنا کر سر چڑھاتی رہی ہیں ۔آج جب یہ بغل بچہ ہاتھ سے نکل کر بغاوت پر اتر آیا ہے تو امریکہ کو بھی پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی ہے ۔ بھارت کی جانب سے امریکہ کو جواب دینے کی تین وجوہات ہیں ایک تو بھارت یہ نہیں چاہتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکلے ، دوسرا یہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کی مدد سے نکلے اور تیسرا یہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن کے بعد دنیا کی نظریں کشمیر میں ہونے والے ظلم کی جانب مرکوز ہوں ۔بھارت نے جب عالمی طاقتوں کا رجحان تبدیل ہوتا دیکھا تو اپنے دیرینہ ساتھی اسرائیل کے مشورے سے فلسطین کی تاریخ کشمیر میں دہرانے کا ہتھکنڈا اپنایا۔بھارت کی حکمران جماعت نے اپنے ہی آئین میںتبدیلی کی کوشش کر کے سنگین غلطی کی ہے جسکا سفارتی نقصان تو ہو گا ہی لیکن اندرون خانہ جنگی سے ملک کا داخلی امن بھی تباہ ہو جائے گا ۔ بھارت نے آئین کی دفعہ 370اور 35اے کومنسوخ کرنے کی پوری تیاری کر لی ہے ۔بھارتی آئین کی دفعہ370 منسوخ ہونے سے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم ہو گئی ہے ۔اب بھارت کا کوئی بھی قانو ن ریاستی اسمبلی سے منظوری کے بغیر ہی مقبوضہ کشمیر پر لاگو ہوسکتا ہے ۔جبکہ دفعہ35اے کی منسوخی کے بعد کوئی بھی بھارتی باشندہ مقبوضہ کشمیر میں جائیداد بھی خرید سکے گا اور ملازمت بھی کر سکے گا ۔دفعہ 35اے کی منسوخی کے پیچھے خطرناک سازش عین وہی ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں کی تھی ۔مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کا منصوبہ 3نسلوں سے آزادی کی جنگ لڑنے والے کشمیری تو کامیاب نہیں ہونے دیں گے تاہم اہم بات یہ ہے مشکل کی اس گھڑی میں پاکستا ن کا کردار کیا ہونا چاہیے ؟پاکستان کے پاس ایک آپشن تو یہ ہے کہ جنگ کر کے ایٹمی طاقت کا استعمال کر ے اور خطے کے امن کو تباہ کر دے اور یہ آپشن پاکستان ہمیشہ سے استعمال نہیں کرنا چاہتا۔دوسرا آپشن یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کو بات چیت میں شامل کر کے بھارت کو لگام ڈالی جائے ۔دوسرا آپشن ہی بہترین آپشن ہے مگر پاکستان ایسا کیا کر سکتا ہے کہ عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی مسئلہ مانتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو بھی تیار ہو جائیں اور مسئلہ کشمیرکواولین ترجیحات میں بھی شامل کر لیں ۔ اگر پاکستان ایسا کرنا چاہتا ہے تو صرف امریکہ نہیں بلکہ چین ، روس ، ترکی ،فرانس اور سعودی عرب کو بھی ثالثی میں شامل کرنا ہو گا ۔ صرف او آئی سی ( آرگنائزین آف اسلامک کنٹریز)، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اورسارک(جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم) نہیں بلکہ انسانی حقوق ، عالمی امن اور انسانیت کی بات کرنے والی ہر بین الاقوامی تنظیم کو حرکت میں لانا ہو گا ۔دنیا کی عالمی طاقتیں حقیقت جاننے کے بعد کس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرتی ہیں یہ انکااخلاقی امتحان ہو گا لیکن پاکستان کا امتحان اس وقت یہ ہے کہ دنیا تک ان نہتے کشمیریوں کی آواز پہنچائے جو بے یار مدد گار کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں ۔تقسیم ہند کے وقت مقبوضہ کشمیر کے 3فریق تھے ۔ برطانوی حکومت ، پاکستان کی جماعت مسلم لیگ اور بھارت کی نمائندہ جماعت کانگریس ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو لے جانے والی پارٹی بھارت تھا۔اقوام متحدہ نے بھارت کی درخواست پر ہی کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دیتے ہوئے اپنی مرضی کے ملک سے الحاق کی قرارداد منظور کی تھی ۔ رائے شماری کے بعد فیصلہ پاکستان کے حق میں آیا تو بھارت روایتی دھوکہ دہی کے ذریعے اپنے ہی موقف سے پیچھے ہٹ گیا ۔لیکن اب وقت آ گیا مسئلہ کشمیر کو سفارتی بنیادوں پر حل کرنے کا ۔وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کشمیر کے لئے ہر حد تک جائیں گے ، کچھ ہو ا تو ہم ذمہ دار نہیں ۔جنرل باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس میں بھی حکومتی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے دنیا کو مشترکہ پیغام دیا گیا ہے کہ جنگ ہوئی تو کوئی نہیں جیتے گا ۔ادھر چین کی جانب سے سے بھی بھارتی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ قانون سازی کے باوجود کشمیر متنازع علاقہ ہی رہے گا ۔بھارتی اقدام اور خطے میں بڑھتی بدامنی کی صورتحال دیکھ کر ایسالگ رہا ہے کہ اب حبیب جالب کے ان اشعار کو حقیقت کا روپ دینے کا وقت آن پہنچا ہے ۔

کشمیر کی وادی میں لہرا کر رہو پرچم

ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سرخم

دیکھا نہیں جاتا اب کشمیر کا یہ عالم

کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم

ان جنگ پرستوں سے ہے سارا جہاں برہم

کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہور پرچم


ای پیپر