روایت اور حاملین روایت!
07 اگست 2019 2019-08-07

مدارس کے باب میں ، ارباب مدارس کا مقدمہ یہ ہے کہ مدارس اسلام کی علمی و دینی روایت کے امین ہیں ،اصولی طور پر یہ مقدمہ درست ہے ، تاریخ سے نابلد چند افراد کے سوا شاید ہی کوئی اس کا انکار کر سکے ۔ اس مقدمے کو تسلیم کرلینے کے بعد اصولی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سی روایت ؟ وہ روایت جس کا آغاز 1857کے بعد ہوا یا وہ روایت جو 1857سے پہلے چلی آ رہی تھی ۔ آج مدارس کی اہمیت و افادیت اور اس کے نصاب ونظام کا انحصار اس سوال کی بازیافت میں ہے ۔ اس مقدمے کی تنقیح و توضیح کے لیے تاریخ سے اعتناء لازم ٹھہرتا ہے، تاریخ ہی بتا سکتی ہے کہ 1857سے پہلے کی روایت کیا تھا اوراس کے بعد کس روایت نے جنم لیا نیزدونوں روایتوں میںفرق، حکمت عملی اور تبدیلی کی وجوہات کیا تھیں۔

فی الوقت بات کو آگے بڑھانے کے لیے، 1857سے قبل اور مابعد کی روایت کو کچھ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ماقبل روایت پورا ایک پیکج تھا ، ایک تہذیبی پیکج جس میں دین و دنیا کو یکجا کیا گیا تھا ، ایسی روایت جو اپنے عصر سے ہم آہنگ اور اپنے وقت کے تمام علوم کو متضمن تھی ۔جس میں تفسیر ، حدیث ،فقہ ، قانون ، سماجیات ، زبان ، ادب ، بلاغت، ابلاغ ، منطق ، فلسفہ ، جغرافیہ ، فلکیات اور الہیات سب شیڈز شامل تھے۔ اس روایت کا آغازمستقل بنیادوں پر شعوری طور پرہواتھا، یہ اتنی مضبوط تھی کہ صدیوں قائم رہی اور معلوم دنیا پر اس کا سکہ جما رہا ۔ اس کے بر عکس مابعد روایت رد عمل کا نتیجہ تھی،ایک وقتی اور عبوری کوشش کہ ہماری پاس روایت کا جو حصہ موجود ہے اسے ضائع ہونے سے بچا لیا جائے ۔ رد عمل کا رویہ کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا ، یہ محض وقتی ، حادثاتی اور ناپائیدار ہوتا ہے اور کوئی رجل رشید اس رویے کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ مابعد روایت کا آغاز انہی صفات سے منسوب ہے ۔

کہا جا سکتا ہے کہ روایت کے وہ تمام شیڈز جو ماقبل روایت میں موجود تھے مابعدروایت میں بھی موجود ہیں ،یہاں تک تو بات قابل قبول ہے لیکن کیا یہ شیڈز روح عصر سے ہم آہنگ بھی ہیں، یہ سوال دونوں روایتوں کو دو متضاد خانوں میں تقسیم کر دیتا ہے ۔اگر بصارت و بصیرت دونوں متوازن ہیں تو دودھ اور پانی بالکل الگ ہیں ، ایک وہ روایت ہے جو شعوری طور پر پروان چڑھی اور اپنے عصرسے مکمل طور پر ہم آہنگ تھی ، دوسری وہ جو حادثات اوررد عمل کا نتیجہ تھی اور اسی عبوری طورپر اپنایا گیا تھا ۔ ان مقدمات کے اثبات کے بعد ارباب مدارس پر لازم ٹھہرتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریںکہ وہ کس روایت کے امین ہیں ، صرف واضح ہی نہیں اپنے قول و عمل سے اسے ثابت بھی کریں ۔

ماضی کی دینی و علمی روایت کسی ایک فن یا علم کی کسی ایک شاخ تک محدود نہیں تھی ،کتنے ہی نئے علوم تھے جنہیں پہلی بار دنیا کے سامنے متعارف کروایا گیا تھا ۔ایک وسیع گلدستہ جس میں رنگا رنگ پھول کھلتے تھے، اس علمی روایت کی نشانیاں آج بھی یورپ کے مختلف علاقوں میں بکھری پڑی ہیں ، آج بھی یورپ کی مختلف یونیورسٹیوں میں پڑے عربی کے لاکھوں مخطوطے اس روایت کے امین ہیں ۔ لندن ، لینن گراڈ ، اسکوریال ،برلن ، پیرس اور آکسفورڈ کی لائبریریوں میں اس روایت کے نشانات بکھرے پڑے ہیں ۔یہ اس علمی روایت کی کشش تھی کہ یورپ کے مختلف خطو ں میں ، عربی طرز پر اکادمیاں اور سوسائٹیاں قائم ہوئیں ،لندن میں شاہ انگلستان کی سرپرستی میں ایک سوسائٹی قائم ہوئی اور لند ن کے بڑے بڑے اہل علم اس سوسائٹی کے ممبر بنے ۔

تیرھویں اور چودھویں صدی میں عیسائی حکمرانوں کی طرف سے، اس روایت سے پھوٹنے والے علوم وفنون کے تراجم کے لیے باقاعدہ ادارے قائم کیے گئے تھے ، جیسے ہی کوئی نئی تحقیق یا کتاب سامنے آتی فورا اسے لاطینی زبان میں ٹرانسلیٹ کر دیا جاتا تھا ،ایسا ہی ایک ادارہ بحر اسود کے کنارے توطرابزون میں قائم کیا گیا تھا ، جیسے ہی کوئی کتاب مارکیٹ میں آتی اس ادارے کے طلباء اسے ٹرانسلیٹ کر کے اپنے ملکوں کی طرف روانہ کر دیتے تھے ۔ یورپ کا احیاء اور اس کی نشاۃ ثانیہ اسی علمی روایت اور اس سے اخذ و استفادے کی صورت میں ہی ممکن ہوئی تھی ۔ یورپ جس زمانے کوقرون مظلمہ کا نام دیتا ہے اسے اگر تاریخ انسانی سے نکال دیا جائے تو تہذیب انسانی کا سلسلہ نسب کہیں گم ہو جاتا ہے ۔

ارباب مدارس جس روایت کو گلے لگائے ہوئے ہیں اس کا ہماری کلاسیکی روایت سے کوئی تعلق نہیں ،یہ تو محض ایک ردعمل تھا جسے بہت جلد شعوری عمل میں بدل جانا چاہئے تھا، افسوس مگریہ ہے کہ ستر سال گزرنے کے باجود ایسا نہ ہو سکا ۔ کہاں وہ زندہ جاوید علمی روایت اور کہاں یہ خانقاہی نظام۔ اگر اس خانقاہی نظام کو کلاسیکی علمی روایت کی بنیادوں پر اٹھایا جاتا توشاید آج مذہب ،سماج میں اتنا لاوارث نہ ٹھہرتا ۔1857سے قبل اور مابعد کی روایتوں کا فرق اور اس کے نفع و نقصان کے واضح ہونے کے باوجود ارباب مدارس کا مابعد روایت پر اصرار بہت سے خدشات کو جنم دیتا ہے ، اس رویے پر اصرار کی وجوہات کچھ بھی ہوں نتیجہ ایک ہی ہے کہ مذہب اور اہل مذہب معاصر دنیا میں اپنی اہمیت کھو بیٹھے ہیں ۔

کلاسیکی علمی روایت کے نہج پر چلے بغیر کیا کوئی فرد یا ادارہ موجودہ عصر میں کوئی کردار ادا کرسکتا ہے ، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہرگز نہیں ، اگر آج دینی مدارس کے پڑھے کچھ اہل علم ، علمی و دعوتی دنیا میں کوئی نمایاں مقام رکھتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ انہوں نے اپنی ذاتی محنت سے اپنے روایتی علم کو روح عصر سے ہم آہنگ کیا ہے ، انہوں نے موجودہ دور کا اسلوب اور لہجہ اپنایا ہے ، مجھے کوئی ایک شخصیت دکھا دیں جس نے محض روایتی علوم کی تحصیل کے بعد کوئی دعوتی یا علمی کارنامہ سرانجام دیا ہو، شاید ایسا ممکن نہیں ۔

دینی مدارس کے پانچوں وفاقوں میں اس وقت لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں ، یہ بہت بڑا ہیومن ریسورس ہے جسے اگرروح عصر سے ہم آہنگ علوم وفنون اور اس دور کے اسلوب و لہجے سے لیس کر دیا جائے تو یہ مذہب کی بہت بڑی خدمت کر سکتے ہیں۔افسوس مگر یہ ہے کہ روایت کی طرح ان تمام بورڈز کے انتظامی ایشوز پر بھی ابہامات موجود ہیں، ایک تعلیمی بورڈ کیسا ہونا چاہئے ،اس کا منشور کیا ہو، اس کی ہیئت اور شناخت کیسی ہونی چاہئے ،اس کی پالیسی اور مقاصد کا تعین کن بنیادوں پر کیا جائے ، نصاب سازی کے اصول وضوابط اور طریقہ کار، نصاب پر نظر ثانی ،امتحانات کا نظام ، اسناد کی قبولیت اور اس جیسے دیگر مسائل ۔ا رباب مدارس کو اس ضمن میں بھی اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کی ضرورت ہے ۔پہلے بھی لکھ چکا کہ دینی مدارس کے باب میں اتنا لکھا جا چکا کہ ایک اچھی خاصی لائبریری وجود میں آ سکتی ہے لیکن اس لکھے کا مخاطب کون ہے یہ تعین اب فرض عین ہو چکا ۔اگر آج حاملین روایت اپنی روایت کے احیاء کے لیے آگے نہیں بڑھتے تو کل انہیں کسی ایسے فرد یا ادارے سے شکوہ نہیں ہونا چاہئے جو روایت کے نام پر کسی اور منصوبے پر گامزن ہو۔


ای پیپر