طاہر اشرفی کے خلاف دہشتگردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج
07 اگست 2019 (20:29) 2019-08-07

اسلام آباد:وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے علما کونسل پاکستان کے چیئرمین علامہ حافظ محمد طاہر محمود ( اشرفی ) اور دیگر کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرلیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق ایف آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ طاہر اشرفی کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے تاہم جلد ہی ان کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق حافظ محمد طاہر اشرفی نے غیرملکی این جی او سے 2 کڑور 25 لاکھ 8 ہزار 360 روپے وصول کیے۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ انہوں نے غیرملکی این جی او نارویجن چرچ ایڈ سے رقم وصول کی جس کی وزارت خارجہ امور، اکنامکس افیئر ڈویڑن اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رجسٹریشن نہیں تھی۔علاوہ ازیں ایف آئی اے نے دعویٰ کیا کہ طاہر اشرفی نے جرمنی سے 43 لاکھ 44 ہزار 516 روپے بذریعہ اکاو¿نٹ نمبر 342101004396000 سے وصول لیے تھے اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ طاہر اشرفی نے خود کو ’علم و امن فاو¿نڈیشن‘ کا سربراہ قرار دے کر جرمن ایمبیسی سے رقم حاصل کی تھی۔

ایف آئی آر کے مطابق مولانا طاہر اشرفی نے غیرملکی اور غیر رجسٹرڈ این جی اوز سے مشکوک بینک اکاو¿نٹ کے ذریعے منی لانڈرنگ کی اور حاصل کی گئی رقم کو غیرقانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔مولانا طاہر اشرفی پر الزام عائد کیا گیا کہ دہشت گردوں کی معالی معاونت میں بھی وہ ملوث پائے گئے۔ایف آئی اے دہشتگردی ونگ نے حافظ محمد طاہر محمود ( اشرفی ) اور دیگر کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 471/468/420/109 اور اے ٹی اے 1997 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دعویٰ کیا کہ طاہر اشرفی اور دیگر کے خلاف تحقیقات کے دوران مذکورہ الزامات درست ثابت ہوئے اور متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا مقدمہ درج کر لیا گیااس ضمن میں تحقیقاتی ادارے نے حکومتی اور نجی اداروں سے مزید گرفتاریوں کا خدشہ ظاہر کیا۔


ای پیپر