عشرہ ذوالحجہ کے فضائل و مسائل
07 اگست 2019 (17:56) 2019-08-07

”آقائے دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ عشرہ ذی الحجہ میں کیے گئے نیک عمل سے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ اجروالا عمل کوئی نہیں“

مفتی عبیداللہ مجددی

ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن (پہلاعشرہ) پورے سال میں سب سے زیادہ برکت والے دن ہیں۔ ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ ان میں نیکیاں کمانے کے کئی مواقع ہیں۔ یہ ایسے مبارک ایام ہیں کہ جن کاایک ایک لمحہ اور ایک ایک سیکنڈ انتہائی قیمتی ہے، ان ایام میں بارگاہ الٰہی سے ایسی خصوصی پیشکش (اسپیشل آفر)کی گئی ہے جو سال کے بقیہ دنوں کیلئے نہیں ہے، یہ نیکیوں میں مقابلہ کرنے کا وسیع میدان اور سنہرا وقت ہے۔ یہ نفع کما لینے کا ایسا موسم ہے کہ ان دنوں میں کئے گئے اعمال صالحہ کے بارے میں اللہ کی جانب سے بہت زیادہ پسندیدگی کا اعلان کیاگیا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سرور دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” عشرہ ذوالحجہ میں کئے گئے اعمال صالحہ اللہ کو اس قدر زیادہ محبوب ہیں کہ اتنا کسی اور دن میں پسند نہیں، صحابہ ؓ نے دریافت کیا، حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنا جان ومال لے کر نکلااور (مال اور جان خرچ کرتے ہوئے) خالی ہاتھ واپس ہوا (شہید ہو گیا)“(صحیح بخاری)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ہی مروی ہے کہ: ”آقائے دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ عشرہ ذی الحجہ میں کیے گئے نیک عمل سے زیادہ پاکیزہ اورزیادہ اجروالا عمل کوئی نہیں۔ “(سنن دارمی )

نیز حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آقائے لاجواب ﷺ نے ارشاد فرمایا ”حق سبحانہ وتعالیٰ کو ان دس دنوں سے زیادہ محبوب اور کوئی دن نہیں، لہذا تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح، تحمید اور تہلیل کیا کرو“(طبرانی)

حضرت سعیدبن جبیرؓ اِن ایام میں سرور دو عالم ﷺکا معمول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:”ان دنوں میں آپ ﷺ نیک اعمال کے لئے سخت محنت فرماتے تھے۔“(سنن دارمی)

ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کے ایام کی فضیلت بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں، اِن ایام کے مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:”قسم ہے فجرکی، اور دس راتوں کی، اور طاق کی اور جفت کی، اور رات کی جب وہ چلنے لگے۔“(سورة الفجر)

یہ بھی مدنظر رہے کہ یہ ایسے ایام ہیں جن میں دین اسلام کی مقرر کردہ تمام عبادات (نماز، روزہ، زکوة، جہاد اور حج وعمرہ وغیرہ) ادا کی جا سکتی ہیں، بالخصوص حج وقربانی اور حج کے تمام اعمال (تلبیہ، قیام منی و عرفات اور مزدلفہ، یوم عرفہ اور رمی وغیرہ) ایسے اعمال ہیں جو سارے سال میں صرف انہی ایام میں مخصوص مقامات میں ہی اداکئے جا سکتے ہیں۔ یوں ہمہ قسم کی عبادات کا ان دنوں میں اکٹھے ہوجاناان ایام ( ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں)کا ایسا شرف واعزاز ہے جو کسی اور دن کو حاصل نہیں۔ یہی مضمون آقائے دو جہاں ﷺ کے ایک فرمان ذی شان سے بھی عیاں ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دنیاکے افضل ترین ایام ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔“(صحیح الجامع الصغیر)

ذوالحجہ کے پہلے نو دنوں میں روزہ رکھنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آقائے کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو ذوالحجہ کے ابتدائی عشرہ کی عبادت سے زیادہ کسی دن کی عبادت پسند نہیں، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے مساوی ہے“(سنن ترمذی)

احادیث میں جیسے ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کے فضائل منقول ہیں، ایسے ہی ان دنوں میں سے خاص ایام کے فضائل الگ الگ بھی منقول ہیں۔ چنانچہ ۹ذی الحجہ (یوم عرفہ)کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ نے ارشادفرمایا:”عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن حق سبحانہ وتعالیٰ لوگوں کو جہنم سے آزادی نہیں دیتے۔ ا±س دن اللہ تعالٰی قریب ہوتے ہیں، اور ا±ن (عرفہ میں ٹھہرے ہوئے لوگوں )کی وجہ سےفر شتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں، اور فرماتے ہیں یہ لوگ کیا چاہتے ہیں “(صحیح مسلم)

نیزآقائے دو جہاںﷺ نے۹ذی الحجہ (یوم عرفہ) کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”عرفہ(۹ذی الحجہ) کے دن کے روزہ کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یہ روزہ گزشتہ اورآئندہ سال کے لئے کفارہ ہو جائے گا۔ “(صحیح مسلم)

نوٹ:۹ ذی الحجہ کے روزہ کی یہ فضیلت حجاج کے علاوہ ا±ن افرادکے لئے ہے جوعرفہ کے علاوہ مقامات میں ہوں جو لوگ حج کیلئے عرفات میں موجود ہوں ا±نہیں حضور کی سنت کے مطابق روزہ نہیں رکھناچاہئے تاکہ وہ ذہنی وجسمانی طور پر مکمل یکسوئی اور قوت کے ساتھ اپنے ذکروعبادات میں مشغول رہیں۔

٭ یہاں یہ بھی مدنظر رہے کہ ہر علاقہ کے لوگ اپنے اپنے علاقہ کی چاندکی تاریخ کے مطابق ۹ذوالحجہ کا روزہ رکھیں گے۔ جیساکہ عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر بھی ہر علاقہ والے اپنے ملک کی چاندکی تاریخ کے مطابق کرتے ہیں۔ دیگر ممالک کے جو لوگ اپنی تاریخ کو نظرانداز کرکے سعودیہ کے مطابق روزہ رکھیں گے وہ اس فضیلت سے محروم رہیں گے۔

حضوراکرم ﷺ نے دس ذوالحجہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب دنوں سے عظیم ترین دن قربانی (دس ذوالحجہ )کا دن ہے، پھر اس کے بعدوالادن۔“(سنن ابوداو¿د)

یہ وہ دن ہے جس دن حجاج نے حج کے اکثراعمال اداکرنے ہوتے ہیں، جمرہ عقبہ کوکنکریاں مارنا، قربانی کرنا، سرکے بال کاٹنا، طواف زیارت اور سعی کرنا، یہ سب اعمال حجاج اداکرتے ہیں اور دیگر مسلمان اس دن نمازعیدالاضحیٰ اداکر کے قربانی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔

درج بالااور دیگر نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن سال کے باقی سب ایام سے افضل اور بہتر ہیں۔ لہذا مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان دس دنوں میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ صمدیت میں عجزوانکسارکا اظہار کرتے ہوئے پکی اور سچی توبہ کرے، اور پھر حسب منشاءو طبیعت اعمال صالحہ میں منہمک ہو جائے۔ خاص طور پر درج ذیل عبادات کی ادائیگی کی کوشش کرے۔

روزہ:

فی نفسہ روزہ رکھنا بہت ہی باعث فضیلت اور تقرب خداوندی حاصل کرنے کا سبب ہے، اور احادیث میں اس کے کئی فضائل وارد ہوئے ہیں۔ جیساکہ ایک حدیث قدسی میںنبی مکرم ﷺ نے ارشادفرمایاکہ:”اللہ تعالیٰ کا فرماناہے کہ: ابن آدم کے تمام اعمال ا±س کے اپنے لئے ہیں لیکن روزہ نہیں،کیونکہ (اس میں ریاءنہیں، اس لئے ) وہ میرے لئے ہے، اور میں ہی اس کا اجروثواب دوںگا“(صحیح بخاری)

نیزکریم آقا ﷺکا ہر سال ذوالحجہ کے ابتدائی ۹دن روزہ رکھنے کا معمول آپ کی ازواج سے منقول ومعروف ہے۔ (سنن ابوداو¿د) اور ایک حدیث میں ذوالحجہ کے پہلے نو دن کے روزوں میں سے ہر دن کے روزہ کو ایک سال کے روزہ کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے ان ایام میں ہمت کر کے روزے رکھنے چاہئیں۔

٭ ان ایام میں سب سے زیادہ باعث فضیلت ۹ذوالحجہ کے دن کا روزہ رکھنا ہے، جسے نبی پاک ﷺنے گذشتہ ایک سال اورآئندہ ایک سال کے لئے کفارہ قراردیا ہے۔ اورحضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”سال بھرمیں مجھے کوئی روزہ عرفہ (۹ذوالحجہ) کے دن کے روزہ سے زیادہ محبوب نہیں“(مصنف ابن ابی شیبہ)اس لئے ۹ذوالحجہ کے روزہ کی فضیلت سے محروم نہیں ہونا چاہئے۔

٭ ان ایام کے روزوں کے مسائل دیگر نفلی روزوں کے مسائل کی طرح ہی ہیں۔

٭ آج کل کچھ لوگ عرفہ کے دن اپنے ملک یا اپنے شہر میں کسی ایک مقام پر اکٹھے اور جمع ہونے کو ثواب اور عرفات میں حجاج کے اجتماع کی مشابہت قرار دیتے ہیں، اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں بلکہ یہ بے بنیاد، من گھڑت اور خلاف اسلام فعل ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔

ذکروتسبیح:

ان مبارک ایام میں پہلی تاریخ سے بارہ ذوالحجہ تک’تسبیح‘یعنی”سبحان اللہ“اور’تحمید‘یعنی”الحمدللہ“ اور’تہلیل‘یعنی”لاالہ الااللہ“کی کثرت انتہائی ثواب کا کام ہے۔ اور حدیث میںان ایام میں درج بالاتسبیحات کی کثرت کا حکم دیا گیا ہے۔

٭ یہاں یہ بھی مدنظررہے کہ آج کل ہماری دنیاوی امور میں مشغولیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ جس کی وجہ سے ہم دینی اعمال وعبادات اور فرائض کی ادائیگی میںبہت زیادہ غفلت کامظاہرہ کرنے لگ گئے ہیں، ہمیں خواب غفلت سے نکل کر اپنے دینی اعمال وعبادات اور دینی اقدار کو اپنی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بناناچاہئے۔ تاکہ دنیاوآخرت کی فلاح وبہبود ہمارا مقدر ہو سکے۔ ذوالحجہ کے ابتدائی دنوں میں کئے جانے والے اذکار سے بھی آج غفلت عام ہے، اس لئے ہمیں اپنے گھروں، دکانوں، بازاروں اور مساجد میں ان اذکارکو مناسب بلندآواز سے پڑھنے کااہتمام کرنا چاہئے تاکہ حق سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت کااظہار اور اللہ تعالیٰ کی تعظیم کااعلان ہو۔ البتہ خواتین یہ اذکار پست آوازمیں کریں گی۔

بال اورناخن کاٹنا:

جو شخص قربانی کرنے کاارادہ رکھتاہو، ا±س کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ اپنے ناخن اوربال وغیرہ یکم ذوالحجہ سے پہلے پہلے صاف کرلے،اورذوالحجہ کاچاندنظرآنے کے بعدقربانی کرنے تک پھرناخن اوربال نہ کاٹے۔حضرت ام سلمہ ؓسے منقول ہے کہ حضورﷺنے فرمایا:”جب تم ذوالحجہ کاچانددیکھواورتم میں سے کوئی قربانی کرناچاہتاہے تو وہ اپنے ناخن اوربال نہ کاٹے“(صحیح مسلم) اس طرح قربانی کرنے والے کی حجاج کے ساتھ مشابہت میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور یوں یہ شخص حج کے بعض اعمال میں شریک ہو جاتا ہے۔

٭ یہ حکم محض استحبابی ہے، فرض یا واجب نہیں۔

٭ اگر قربانی کا ارادہ رکھنے والے کسی شخص نے اپنے ناخن یابال کاٹ لئے وہ گنہگار نہ ہوگا۔

٭ البتہ اگرزیرناف بالوں اورناخنوں کو چالیس دن سے زیادہ ہو رہے ہوں تو اس کے لئے یہ حکم نہیں بلکہ ا±س پر واجب ہے کہ وہ فی الفورصفائی کرے۔

٭ خواتین کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

تکبیرتشریق:

٭ تکبیرات تشریق یہ ہیں:”اللہ± اکبر،اللہ اکبر،لالہ الااللہ،واللہ اکبر،اللہ اکبروللہ الحمد“

٭ ۹ذوالحجہ کی فجرسے لے کر13ذوالحجہ کی عصرتک پانچ دنوں میںہرنمازکے بعد ہلکی بلند آواز میں ایک مرتبہ تکبیرتشریق پڑھنے کی خاص تاکیداورفضیلت ہے۔ابن شہاب زہریؒ فرماتے ہیں کہ:”رسول اللہ ﷺ سب ایام تشریق میں تکبیرپڑھتے تھے۔“ اورحضرت عمرؓ یوم عرفہ(۹ذوالحجہ)کی فجرسے ایام تشریق کے آخری دن کی عصر کی نماز تک تکبیر تشریق پڑھتے تھے۔ (کنز العمال) اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒ نے حضرت علی ؓ کا بھی یہی عمل نقل کر کے۹ذوالحجہ کی فجرسے لے کر13ذوالحجہ کی عصر تک ہرفرض نمازکے بعدایک مرتبہ تکبیرتشریق پڑھنے کوواجب قراردیاہے۔(کتاب الاثار)

٭ یہ تکبیر ہرفرض اور جمعہ کی نمازکے بعد مرد وعورت، مقیم ومسافر، حاجی وغیر حاجی، تنہا اور جماعت سے نماز پڑھنے والے ہر ایک شخص پرواجب ہے، اور مسبو ق ولاحق مقتدی پربقیہ نمازسے فراغت پرتکبیرکہنا واجب ہے۔ احتیاط کاتقاضایہ ہے کہ عیدالاضحیٰ کی نمازکے بعدبھی تکبیرتشریق پڑھی جائے۔

٭ فرض نمازکاسلام پھیرنے کے فوراًبعدتکبیرپڑھنی چاہئے۔

٭ سلام کے فوراًبعداگرکوئی یہ تکبیر پڑھنا بھول جائے تو جب تک نمازکے خلاف کوئی کام مثلاً بات چیت نہیں کی اور یادآگیا تو تکبیرکہہ دینی چاہئے۔

٭ ایام تشریق کی کوئی فوت شدہ نماز اسی سال ایام تشریق کے اندرہی قضاءکرے تواس نمازکے بعد بھی یہ تکبیر کہنا واجب ہے۔ البتہ اگرایام تشریق سے پہلے کی کوئی نمازان دنوں میں قضاءکرے یاایام تشریق کی فوت شدہ نمازان دنوں کے گزرجانے کے بعد قضاءکرے تو پھر تکبیرنہ کہے۔

٭ اگرکسی نمازکے بعد امام یہ تکبیرکہنا بھول جائے تو مقتدیوں کو چاہئے کہ فورا ًخود تکبیرکہہ دیں، امام کے تکبیرکہنے کاانتظارنہ کریں۔

٭ ہرفرض نمازکے بعدصرف ایک مرتبہ تکبیرکہنے کاحکم ہے،اورصحیح قول کے مطابق ایک سے زیادہ مرتبہ کہناخلاف سنت ہے۔

حج و عمرہ:

ذوالحجہ کے پہلے دس ایام میں سب سے اعلیٰ وافضل کام حج وعمرہ کرناہے،اورخاص طورپرحج توایسی عبادت ہے جوان ایام کے علاوہ سال بھرمیں ادانہیں کی جاسکتی۔قرآن وحدیث میں حج کی فرضیت اوراس کے فضائل ومسائل متعددمقامات پرمختلف اندازسے بکثرت وارد ہوئے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا:”ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے گناہوں کفارہ ہے، اورحج مبرورکاجنت کے علاوہ کوئی بدلہ نہیں“(صحیح بخاری)

نیزحضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہےکہ:”رسول اللہﷺ نے فرمایا: حج وعمرہ پے درپے کیاکرو،کیونکہ یہ دونوں فقرومحتاجی اورگناہوں کواس طرح دورکرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے، سونے اورچاندی کی گندگی کودورکرتی ہے،اورحج مقبول کاثواب جنت ہی ہے۔“(سنن ترمذی)

نیزکریم آقاءﷺ نے خانہ کعبہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:”جو شخص بیت اللہ کی زیارت کے لئے آیااور ا±س نے یہاں کوئی بے حیائی اور فحاشی والی حرکت نہ کی تووہ یہاں سے ایسے (گناہوں سے پاک) واپس جائے گا جیسے ا±سے ا±س کی ماں نے جناتھا۔ “(صحیح مسلم)۔

اس لئے حق داروں کے حقوق اداکرنے کے بعداگرفراغت ومالی وسعت ہوتوہرممکن کوشش کرکےحج وعمرہ کرتے رہناچاہئے۔

قربانی:

قربانی شعائراسلام میں سے ہے جو لوگ حج پر نہ جا سکیں اور سونا، چاندی، نقدی، مال تجارت (ایسا مال جو بیچنے کی نیت سے خریدا ہو اور تاحال بیچنے کی نیت باقی ہو) اور ضرورت سے زائد مال( ایسامال جوساراسال استعمال میں نہ آئے یوں ہی پڑارہے) سب مجموعی طورپریااِن میں سےکوئیایک،یاصرف ساڑھے سات تولہ سوناجس کسی کی ملکیت میں قربانی کے تین دنوں10,1112 ذوالحجہ )میں سے کسی دن بھی موجودہوا±س شخص کے ذمہ قربانی کرناواجب ہے۔

حضورﷺ دس سال مدینہ منورہ رہے اورہر سال آپﷺ نے قربانی کی۔ (سنن ترمذی)آپ ﷺ نے قربانی کے فضائل بھی بیان فرمائے ہیں، چنانچہ فخر دو جہاںﷺ نے ارشادفرمایا:”قربانی کے جانورکے ہر بال کے عوض ایک نیکی قربانی کرنے والے کوملتی ہے“(مسنداحمد،سنن ابن ماجہ)نیزفرمایا:”قربانی کا جانورقیامت کے دن اپنے سینگ،بال اورک±ھروں کے ساتھ آئے گا۔ اورقربانی کے جانورکاخون زمین پرگرنے سے پہلے ہی خداکے نزدیک مقام قبولیت کوپہنچ جاتاہے، لہذاخوش دلی سے قربانی کیاکرو!“(سنن ابوداو¿د، ترمذی)نیز فرمایا:”10ذوالحجہ کے دن اللہ تعالیٰ کو(قربانی کے جانورکا) خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ کوئی عمل نہیں“(سنن ترمذی) نیز حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:”10 ذوالحجہ کے دن قربانی کے لئے مال خرچ کرنے سے زیادہ افضل کسی عمل میں مال خرچ کرنانہیں“(سنن الدارقطنی)

ان سب فضائل کے علی الرغم جوشخص وسعت کے باوجودقربانی نہ کرے،اس کے بارے میں بڑی سخت وعیدبیان کرتے ہوئے آپ ﷺنے ارشادفرمایا:”جوشخص وسعت کے باوجودقربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے“(سنن ابن ماجہ)

٭ایک گھرمیں جتنے افرادصاحب نصاب ہوں ،ا±ن سب کے ذمہ الگ الگ اپنی اپنی قربانی کرناواجب ہے۔

٭والدکے ذمہ اپنی اولادکی،شوہرکے ذمہ اپنی بیوی کی اوراولادکے ذمہ اپنے والدین کی قربانی لازم نہیں۔البتہ جانبین میں سے کوئی ایک دوسرے کی قربانی باہمی رضامندی واجازت سے کرسکتاہے۔

٭قربانی کے جانورشریعت نے مقررکئے ہیں،جن کی تفصیل درج ذیل ہے:گائے،بیل،بھینس اوربھینساکم ازکم دوسال کے ۔ اونٹ اوراونٹنی کم از کم پانچ سال کے ۔اوربکرا،بکری،بھیڑ،دنبہ کم از کم ایک سال کے ہوناضروری ہیں۔البتہ بھیڑاوردنبہ اگرچھ ماہ سے زیادہ کاہواوراس قدرصحت مند ہوکہ اسے سال والے بھیڑ،دنبوں میں چھوڑدیاجائے توفرق محسوس نہ ہوتاہوتواس کی قرباکی بھی گنجائش ہے۔

عیدالاضحی:

جب آپﷺمکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے، اس وقت اہل مدینہ سال بھرمیں دودن لہولعب اورکھیل کودکیاکرتے تھے۔ حضورﷺ نے اسے دیکھ کرارشادفرمایاکہ:”اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے بہتر اوراچھے دن عطاکئے ہیں اوروہ عیدالفطراورعیدالاضحیٰ کے دن ہیں“اس دن اللہ تعالیٰ کے تقرب اورشکرانے کیلئے قربانی کرنا مشروع ہے۔ نیز حضورﷺ نے ارشادفرمایا:”عیدالاضحیٰ کے ایام اہل اسلام کیلئے عیدکے دن ہیں اورکھانے پینے کے دن ہیں“۔

٭عیدالاضحیٰ کے دن نمازعیداداکرناہرعاقل،بالغ،صحت منداورشہریاقصبہ میں مقیم مسلمان پرواجب ہے۔

٭عیدکے دن سارے جسم کی صفائی کرنا،غسل کرنا،عمدہ لباس پہننا اورخوشبولگانامستحب ہے۔

٭نمازعیدکی ادائیگی کاانتظام عیدگاہ میں کرنامسنون ہے۔

٭عیدالاضحیٰ کے دن قربانی کے گوشت سے کھانے کی ابتداءکرنا مستحب ہے۔

٭عیدالاضحیٰ کے دن نمازعیدکیلئے جاتے ہوئے اورواپسی پربلندآواز سے تکبیرات پڑھنامستحب ہے۔

بہرکیف یہ ایام بہت بابرکت اورعظیم ایام ہیں، ہر مسلمان کو انہیں غنیمت سمجھتے ہوئے قیمتی بنانے کی فکرکرنی چاہئے۔ ان اوقات کو ضائع کر دینا مناسب نہیں،بلکہ نیکی کے کاموں میں دوسروں پرسبقت لے جانے کی تگ ودوکرنی چاہئے۔

٭٭٭


ای پیپر