آزادی کے 72سال ,کیا کھویا.... کیا پایا؟
07 اگست 2019 (17:48) 2019-08-07

ہم نے بحیثیتِ قوم کئی چیلنجز کا سامنا کیا ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے

ہمایوں سلیم

پاکستان اللہ عزوجل کی مہربانی سے 14اگست1947 ءکو دنیا کے نقشے پر ابھرا، جس کے پیچھے بے شمار لوگوں کی قربانیاں کار فرما ہیں۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ جس کی رو سے برصغیر میں دو بڑی اقوام آباد ہیں جو اپنی نظریاتی فکر میں جُدا جُدا ہیں۔ اس لئے ہمارے آباءہمارے لئے الگ ریاست چاہتے تھے جہاں ہم اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں، جہاں ہماری ترقی پر غلامی کا پہرہ نہ ہو۔ پاکستان کو وجود میں آئے 72 سال ہو گئے اور ان 72سالوں میں ہم نے بہت کچھ پایا اور بہت کچھ کھویا ہے مگر اس سب کے باوجود ہماری اصل منزل ابھی دور ہے، وہ منزل جس کے حصول کے لئے آزادی حاصل کی گئی تھی۔ وہ آزادی جس کا خواب ہمارے دوقومی نظریہ کے ہیروز نے دیکھا تھا۔ پاکستان کا شمار ایسے ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے جنہیں ترقی کی راہ میں ہر لمحہ چلنچز کا سامنا رہتا ہے، خواہ یہ اندرونی ہوں یا بیرونی۔ ان 72 سالوں میں پاکستان مختلف ادوار سے گزرا، کئی حکومتیں آئیں اور گئیں۔ مارشل لاءبھی لگایا گیا، مشرقی پاکستان بھی ہم سے جُدا ہوا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان دنیا کا ساتواں ایٹمی قوت رکھنے والا مللک بنا، کشمیر کا ایک حصہ آزاد ہوا جو اب آزاد کشمیر ہے۔ آزادی کے اس سفر میں ہم بہت سے بحرانوں کا شکار رہا مگر جو بڑی کامیابی ہمیں ملی وہ پاکستان کے بقا کی خاطر کوششوں کی ممکنہ کامیابی ہے وہ ملک جس کے متعلق تاج برطانیہ اور ہندوستان کے حکمرانوں کا دعوٰی تھا کہ اسے ہندوستان میں ضم ہونے سے کوئی بچا نہیں پائے گا .... بقا کی یہ لڑائی آج بھی جاری ہے۔

ہمارے عدالتی نظام پر حکمران طبقے کی اجارہ داری رہی جس کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہ ہو سکے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر رہنماو¿ں نے اسے ختم کرنے کیلئے اقدامات کا اعلان کیا مگر اس سے خاطرخواہ بہتری نہیں آئی، پچھلے کچھ سالوں میں اس ضمن میں کچھ اقدامات کئے گئے جس نے عام آدمی کی عدالت تک رسائی کو آسان کیا مگر آج بھی عام انسان انصاف کی خاطر بھٹک رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے بل بھی پاس کیا گیا مگر آج بھی کھولے عام انسانیت کی تذلیل جاری ہے۔ تعلیم حکمرانوں کی کبھی بھی پہلی ترجیح نہیں رہی اس کے لئے سرمایے کی تقسیم بھی ضرورت سے کم ہے، پچھلے بیس پچیس سالوں میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوا ہے موجودہ شرح خواندگیتقریباً 57 ہے 48 فیصد دیہاتی تناسب اور 72 فیصد شہری خواتین میں بھی تعلیم کو فروغ ملا ہے اور اب وہ ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ تعلیمی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے مگر تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے اور اس کے ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کوششیں بھی جاری ہیں ،لیکن تعلیمی نظام نوجوان کو صرف نوکری کے حصول کے لیے تیار کرتا ہے اس کے اندر کے سائنسدان، سرمایہ کار، تاجر پیدا نہیں ہو رہے۔

پاکستان کی آبادی جو 22 کروڑ کے لگ بھگ ہےجو ملکی وسائل سے بہت زیادہ ہے۔ آبادی پچھلی چار دہائیوں سے جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس طرح ملکی ضروریات کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ صحت کے میدان میں بہتری ہوئی ہے، اب لوگ ٹونے ٹوٹکے کی بجائے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، صحت کا معیار بھی بہتر ہوا ہے، سرکاری ہسپتالوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور جہاں بہترین ڈاکٹر موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے ڈاکٹروں کی تعداد کم ہے، اس لئے بعض اوقات موجود ڈاکٹر اپنے فرائض ٹھیک طرح سے سرانجام نہیں دے پاتے۔ ایک لمحہ¿ فکریہ یہ بھی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں کرپشن نے بھی ڈھیرئے جمائے ہوئے ہیں، آئے دن ڈاکٹروں کی ہڑتال، ناقص ادویات، ڈاکٹروں کی عدم موجودگی نے عوام کو دلبرداشتہ کر دیا ہے، عوام پرائیویٹ ہسپتالوں کی آسمان سے چھوتی ہوئی فیسں دینے پر مجبور ہیں۔ گو کہ اس ضمن ہر حکومت نے بہتری کی کوششیں کیں مگر وہ ناکافی رہیں اس لئے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ اگرچہ پاکستان کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے مگر ابھی بھی بےروزگاری، مہنگائی، بنیادی ضرورتوں سے محرومی بہت زیادہ ہے، جس سے خاص طور پر نچلا طبقہ پس کر رہ گیا ہے، ان کا معیار زندگی بد سے بدتر ہو رہا ہے۔ اس وقت بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق 15 لاکھ کے آس پاس نوکریوں کی ضرورت ہے۔ بہت سے اداروں میں میرٹ کی بالکل پروا نہیں کی جاتی، جہاں صرف سفارش یاں رشوت چلتی ہے اس طرح نااہل لوگ نظام کو سنبھال رہے ہیں اور قابل لوگوں کو جب ان کا حق نہیں ملتا تو وہ منفی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

دہشگردی، جس پر اب قریب قریب قابو پا لیا گیا ہے، نے بھی خطے کے امن و امان کو خراب کیا ، بہت سے لوگوں کی جانیں گئیں،کئی دردناک حادثات پیش آئے، پاکستان کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی، لوگوں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا، یہاں سرمایہ کاری کرنا چھوڑ دی گئی، اس سے سیاحت، تجارت ،کھیلوں کو نقصان پہنچا۔ لیکن بفضل خدا حالات نارمل ہو چکے ہیں، نئی حکومت کی پالیسیوں کے باعث سرمایہ کاری ہونا شروع ہو چکی ہے، سیاحت کو پُرکشش بنانے کے لئے، کھیلوں کے میدان آباد کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کیلئے عوام اور حکومت نے افواج پاکستان کا ساتھ دیا، مل کر دہشت گردوں کا قلعہ قمعہ کیا ، کئی آپریشن کیے گئے جن میں آپریشن ضرب عظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس آپریشن سے خطے میں امن و امان بحال ہوا۔ دنیا پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا رہی ہے، اب عالمی برادری پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری نے خطے میں خاص اہمیت حاصل کی ہے۔ امید ہے اس سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ پاکستان میں بےشمار قدرتی وسائل موجود ہیں لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہمارے پاس سرمایے اور ٹیکنالوجی کی کمی ہے، اس کے علاوہ توانائی کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں وقت کی ضرورتوں کے مطابق بہت پچھے ہے جس میں بہتری کی اشد ضرورت ہے، اسی کے ذریعے معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے دفاعی میدان میں بہت زیادہ ترقی کی ہے، عالمی برادری نے بھی اسے سراہا ہے۔ پاکستان کی ایئر فورس کو بہترین مانا جا رہا ہے۔ پاکستان اپنا میزائل بحری جہاز اور 250 جے ایف 17 لڑاکا طیارہ متعارف کرا چکا ہے۔ ہمارے حکومتی نظام میں ماضی میں فوج کی بڑی مداخلت رہی ہے جس سے ملک میں جمہوریت صیح طرح سے فروغ نہیں پا سکی، تین بار فوجی سربراہ کی حکومت رہی جس نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ، مشرف دور میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کرایا جس کے فروغ کیلئے پچھلے دس سالوں میں کوششیں ہوئیں۔ حکومتی معاملات میں فوجی مداخلت کو ختم کیا جانا چاہیئے کیونکہ اس سے ادارے متاثر ہوتے ہیں، اور جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں ملتا۔

فارن پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی فارن پالیسی میں ہمیشہ ملکی مفادات پہلی ترجیح رہی مگر اسے بہت سے بحران کا سامنا بھی رہا ہے مسئلہ کشمیر اس سلسلے میں پیش پیش رہا ہے۔ موجودہ حکومت خارجہ محاذ پر اب تک بہترین کام کر چکی ہے، اس کی واضح مثالیں پاک بھارت حالیہ کشیدگی میں وزیراعظم عمران خان اور حکومت کا سنجیدہ انداز، اور وزیراعظم عمران کا دورہ امریکہ ہے۔ اس کے باوجود ہمیں خارجہ پالیسی میں مناسب تبدیلیاں کرنے کی ضرروت ہے۔ اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جانا چاہئے تاکہ دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ حاصل ہوا اورہم دنیا میں باعزت مقام حاصل کر سکیں۔ اب ماضی کے مقابلے میں صوبائی خود مختاری میں بھی بہتری آئی ہےَ اس سے امید کی جاتی ہے کہ ماضی کی ناانصافیوں کا ازالہ ہو سکے گا اور تمام صوبوں کی خوشحالی اور ترقی کے لئے منصوبوں اور سرمایہ کی تقسیم درست کی جائے گی تاکہ تمام صوبوں کو ترقی کے یکساں مواقع مل سکیں۔ پاکستان میں نوجوان طبقے کی تعداد کروڑں میں ہے۔ ان کی عمر 15 سے 29 سال ہے۔ نوجوان ہمیشہ توجہ کا مرکز رہے ہیں، ان سے ہی بہتری کی امید کی جا تی ہے، وہ ہر میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں مگر ان کی تربیت پر عدم توجہ کی وجہ سے یہ طبقہ بے رہروی کا شکار ہو رہا ہے بہت سے نوجوان ملک چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں جس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ان کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں اور انہیں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تا کہ یہ طبقہ ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ عوام اور تمام اداروں کو چاہئے کہ ہر حال میں قانوں کی پابندی کریں، کیونکہ قانون کی بالادستی ہی کسی قوم کے ترقی یافتہ اور مہذب ہونے کی علامت ہے۔

وطن عزیز میں ذرائع ابلاغ میں تو انقلاب نما بہتری آئی ہے جس نے لوگوں کے شعور کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مارشل لاءکے دور میں میڈیا نے لوگوں کو تحریک دی مگر یہاں کچھ سیاسی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں جو عوام کے لئے نقصان دہ ہیں۔ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے یہاں لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا درست احساس دلانے کی ضرورت ہے جو صرف ملک و قوم کی بھلائی کے لیے سودمند ہو جس سے لوگوں کی کردار سازی ہو سکے، لوگوں کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جا سکے تاکہ عوام اس کی روشنی میں فیصلے کریں۔

ہمیں آزادی کے 72 سالوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے سیکھ کر مستقبل کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، عوام اور حکومتوں کو مل کر پاکستان کی خاطر کام کرنا ہے، ہر ایک فرد کو اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے کوشش کرنی ہے، ہمیں اپنے مسائل کا حل خود ڈھونڈنا ہے۔ ہمیں اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی ترقی کے لئے کوشش کر نی تاکہ ہم ان تمام مسائل کا حل نکال سکیں۔ اس سلسلے میں اداروں کو اپنا کام ایمانداری سے کرنا ہے اور میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کر نا ہو گی۔ جب تک ہر ایک فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے انفرادی سطح پر بھی کوشش نہیں کرے گا تب تک وہ منزل جس کی خاطر یہ ملک حاصل کیا گیا اس کا حصول ممکن نہیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ہم کانٹے سے کہوٹہ تک کا سفر طے کر چکے ہیں، یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن اس سے آگے ابھی اور منزلیں ہیں، اور مقاصد ہیں، جنہیں ہم نے حاصل کرنا ہے، اس لئے دوسروں کو الزام دینے کے بجائے ہم میں سے ہر ایک کو دن رات خلوص نیت کے ساتھ محنت کرنی ہے تاکہ پاکستان ایک خوش حال ملک بن سکے، یاد رکھیں، یہ کسی ایک فرد، گروہ، ادارے یا سیاسی جماعت کا نہیں، بلکہ من حیث القوم ہم سب کا کام ہے، اس لئے ہم سب نے ہی اسے سر انجام دینا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر