سیاسی رسہ کشی کی فضا اور یوم آزادی
07 اگست 2019 (17:45) 2019-08-07

سیاسی رسہ کشی کی فضا اور یوم آزادی

ہم سب کو ایک مضبوط، محفوظ، ترقی پسند اور کرپشن سے پاک ملک کی فضا میں سانس لینے کی کاوشوں کا حصہ بننا ہوگا!

حافظ طارق عزیز

ہمیں آزادی حاصل کئے72 سال ہو چکے ہیں، وطن عزیز میں مسلسل جمہوری عمل کا تیسرا دور شروع ہے، اور ہم ایک مضبوط، محفوظ، ترقی پسند اور کرپشن سے پاک ملک کی فضا میں سانس لینے کی کاوشوں میں مصروف ہیں، عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے آمازمائے ہوئے سیاسی رہنماو¿ں اور جماعتوں کو مسترد کر چکے ہیں، ان کا یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ ایک جمہوری روایات پر مبنی اور معاشی طور مستحم ملک چاہتے ہیں جس میں وہ باعزت زندگی بسر کر سکیں۔ حکومت ملک کو تنزلی سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ وہ جن سے اقتدار چھن گیا حکومت کو ناکام بنا کر دوبارہ بندر بانٹ کا کھیل رچانے کے لئے محو عمل ہیں۔

عوام ان طالع آزما جاگیرداروں، بزنس مینوں اور صنعتکاروں کو مسترد کر کے اس بات کا فیصلہ کر چکے ہیں کہ اب وہ مزید بیوقوف نہیں بننا چاہتے، لیکن یہ لوگ ذاتی مفادات اور لوٹ مار کی راہیں بند ہونے پر پاکستان کے خلاف ہی نعرے لگانے لگ پڑے ہیں۔ عرصہ دراز سے حکومت کے مزے لوٹنے والے مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد پر چرھائی کرنے کے اعلانات کر چکے ہیں، یہ وہ ہی مولانا صاحضب ہیں جنہوں گزشتہ سال یعنی 2018ءمیں جش آزادی کے مقوقع پر اعلان کیا تھا کہ ہم 14اگست کو جشن آزادی نہیں منائیں گے، جان کی امان پاوں تو عرض کروں اس سے پہلے آپ نے کب جشن آزادی منایا؟ جس ”گناہ“ میں شریک نہ ہونے پر آپ کے بزرگ نازاں تھے اس پر آپ جشن منا بھی کیسے سکتے ہیں؟ وصل لیلائے اقتدار کی آس میں تڑپتے قائدین انقلاب کا تو ایک ہجوم ہے، اس کے ہجر میں یوں برہم بزرگ پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ جب تک کشمیر کمیٹی کی سربراہی تھی، وفاق میں وزارتیں تھیں، ریاستی وسائل تھے، سرکاری اقامت تھی، گاڑی تھی، پٹرول تھا، نوکر چاکر اور ملازم تھے، تب تک سب ٹھیک تھا۔ جیسے ہی مراعات کا یہ بحر الکاہل خشک ہوا مولانا صاحب نے ریاست ہی کو نشانے پر لے لیا۔ حالانکہ ان سے زیادہ کس کو علم ہو گا کہ یہ پاکستان ہمارے بڑوں نے کن قربانیوں کے عوض لیا ہے۔ لندن کے ایک صحافی مسٹر رالف کی ”پاک بھارت پارٹیشن “کتاب میں لکھے وہ الفاظ پڑھ لیں جس میں انہوں نے صحیح معنوں میں ظلم و ستم کی داستان رقم کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے اُنہی دنوں کراچی سے دِہلی تک کا سفرکیا۔ جب میں کراچی سے براستہ لاہور عازمِ دِہلی ہواتو مجھے راستے میں سفاکی کا کوئی منظر نظر آیا ، نہ ہی میں نے کوئی لاش دیکھی ۔ لاہور پہنچ کر مشرقی پنجاب میں ہونے والی دہشت و سفاکیت کے آثار نمایاں نظر آنے لگے کیونکہ اُسی دِن لاہور میں خون سے لَت پَت ٹرین پہنچی تھی، یہ ٹرین 9 ڈبوں پر مشتمل تھی جس پر آسانی سے ایک ہزار مسافر سما سکتے تھے۔ اِس ٹرین کے مسافروں کو بٹھنڈاکے جنکشن پر بے دریغ تہِ تیغ کر دیا گیا تھا ۔ ہماری گاڑی اتوار کی صبح دہلی کے لیے روانہ ہوئی ۔ پاکستان کی سرحد عبور کرنے کے بعد جابجا ایسے مناظر بکھرے پڑے تھے جو لاہور کی لُٹی پھُٹی ٹرین سے کہیں زیادہ ہولناک اور دہلا دینے والے تھے ۔ گِد ھ ہر گاو¿ں کے قریب سے گزرنے والی ریلوے کی پٹری پر اکٹھے ہو رہے تھے، کُتّے انسانی لاشوں کو بھنبھوڑ رہے تھے اور فیروزپور کے مکانات سے ابھی تک شُعلے اُٹھ رہے تھے ۔ جب ہماری ٹرین بھٹنڈا پہنچی تو مجھے ٹرین سے ذرا فاصلے پر انسانی لاشوں کا ایک ڈھیر نظر آیا ۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے پولیس کے دو سپاہی وہاں مزید لاشوں سے لَدی بَیل گاڑی لائے جو لاشوں کے ڈھیر پر پھیلتی گئیں۔ اُس ڈھیر پر ایک زندہ انسان کراہ رہا تھا ۔ سپاہیوں نے اُسے دیکھا لیکن وہ اپنی لائی ہوئی لاشیں ڈھیر پر پھینک کر سِسکتے اور کراہتے انسان کو وہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ لاشوں کے ڈھیر سے تھوڑے فاصلے پر ایک بوڑھا کسان دَم توڑ رہا تھا، اُس کے دونوں ہاتھ کاٹ دیئے گئے تھے اور گلے سے خون جاری تھا اور ایک کُتا زمین پر اور ایک گِدھ درخت پر اُس کی موت کا بیتابی سے انتظار کر رہے تھے ۔“

یہ تھی قربانیاں جو ہمارے بڑوں نے دیں اور یہ قربانیاں دونوں طرف ان حکمرانوں نے لیں جن کے منہ میں دونوں طرف حکمرانی کے طوق تھے اور جو قربانی دے اپنی جائیدادیں چھوڑ کر وطن عزیز میں آئے۔ ہمارے حکمرانوں نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟ یہ بھی ایک الگ تاریخ ہے یہاں کے ارباب اختیار لینڈ لارڈ کیسے بن گئے کس کس طرح زمینیں تقسیم کی گئیں، کس کس طرح ہمارے ساتھ الحاق کرنے والی ریاستوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا سلوک کیا، اس پر کبھی پھر اظہار ہوگا، لیکن جو یہاں آئے انہیں آج بھی ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.... پہلے سیاستدان آپس میں لڑتے رہے پھر سکندر مرزا،ایوب خان ، ضیاءالحق اور پرویز مشرف نے عوا م کا بھرکس نکال دیا اور رہی سہی کسر ان سیاستدانوں نے نکال دی اور عوام کے اربوں ڈالر ان حکمرانوں نے بیرون ملک بھجوا کر ملک کو کھوکھلا کر دیا۔ یہاں جس کا مزاج برہم ہوتا ہے وہ پاکستان کو سینگوں پر لے لیتا ہے۔ بلیک میلنگ کی سیاست کا کلچر عام ہو چکا۔ ایک چلاتا ہے؛ کالاباغ ڈیم بنایا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ دوسرا چیختا ہے: مجھے کیوں نکالا، ایسے تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ تیسرا دہائی دیتا ہے میں کیسے ہار گیا اس طرح تو پھر تصادم ہو گا۔ پیغام واضح ہے: ہمارے مفاد، ہمارے مزاج اور تجوری کا خیال رکھا گیا تو پاکستان زندہ باد ورنہ ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

ملکی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم نے معاشی بحران پر قابو پانے کیلئے ازخود متحرک ہو کر اور باربار اسی مقصد کی خاطر غیر ملکی دورے کئے۔علاوہ ازیں تبدیلی وبہتری کے جس ایجنڈے پر عملدرآمد کی عوام حکمرانوں کے وعدوں کے پیشرفت کے منتظر ہیں مگر جہاں پیشرفت کے آثار کی بجائے سخت حالات کا مسلسل عندیہ مل رہا ہو ایسے میں ایوان کے اندر اور ایوان کے باہر حکومت کیلئے مصلحت کی ردا اوڑھنے اور محاذ آرائی کی کیفیت سے حتی المقدور گریز کی پالیسی ہی موزوں نظر آتی ہے مگر دیکھا جائے تو یکے بعد دیگرے حکومتی صفوں کے کچھ عناصر پورے ہوش وہواس میں گرما گرمی کے ماحول کو ٹھنڈا ہونے نہیں دیتے۔ بالکل اسی طرح جیسے مریم نواز اور مولانا فضل الرحمٰن چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح حکومت گھٹنے ٹیک دے اور انہیں اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرنے کا موقع مل جائے۔ لیکن اب کی بار ایسا ہوتا نظر انہیں رہا کیونکہ حکومت کی کرپشن کےخلاف پالیسی بڑی وضع اور سخت ہے۔

وطن عزیز سیاسی رسہ کشی کا شکار تو ہمیشہ ہی سے ہے اور ایک حد تک دیکھا جائے تو یہ رسہ کشی مضبوط اور مستحکم سیاسی معاشرے اور جمہوریت کے لیے ضروری بھی ہے، لیکن فقط ان معنوں میں جیسے صحت مند جمہوری اقدار والے ماحول میں ہونی چاہیے۔ چوں کہ پاکستان کا باوا آدم ہمیشہ سے اور ہر مسئلے میں نرالا ہی چلا آرہا ہے تو یہاں مذہبی اختلاف کی طرح سیاسی اختلاف بھی دوسرے کی اصلاح کے لیے نہیں بلکہ اپنی فتح اور دوسرے کی شکست کے لیے ہوتا ہے۔ ایسے اختلاف کو کوئی بھی صحت مند نہیں مانے گا۔ یہ بات تقریباً یقینی ہوتی ہے کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والوں کو بہت سی چیزوں کی اچھائی اور برا ئی اس طرح نظر نہیں آتی جس طرح اصل میں ہوتی ہے، حکومت جن بہت سی چیزوں کو اچھا اور بہترین تصور کرتی ہے وہ نہ صرف عوام کے لیے بہترین نہیں ہوتیں بلکہ خود اس کی سیاست کے لیے بھی مناسب نہیں ہوتیں۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب اپوزیشن کے دل میں عوام کا درد اٹھتا ہے، وطن سے محبت انگڑائی لیتی ہے۔اپوزیشن حکومت کو پہلے مشورہ دیتی پھر تنبیہ کرتی پھر قانونی دائرے میں رہ کر اس کا راستہ روکتی ہے۔ وہ حکومتیں جو پیٹ پوجا کے لیے نہیں بنتیں جن کا مقصد اقرباپروری نہیں ہوتا، جو صرف وطن کی ترقی کا سوچتی ہیں وہ اپوزیشن کی اچھی بات پر غور کرتی ہیں، اسے گراں قدر سمجھ کر قبول کرتی ہیں، اپنی اپوزیشن کی تجویز کا خیر مقدم کرتی ہیں ، بلکہ اس کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ حکومت ایک فیصلہ کرتی ہے، اپوزیشن اس فیصلے کو غور سے اور قریب جا کر دیکھتی ہے، وہ سمجھتی ہے حکومت کا یہ اقدام بہت زبر دست ہے، اسے فوراً عمل میں آنا چاہیے۔ وہ حکومت کے اس فیصلے کی تعریف کرتی ہے، اس کا ساتھ دیتی ہے۔ پاکستان میں تصویر کے ان دونوں رخوں کا کوئی تصور نہیں ہے کیونکہ یہاں ملک سے زیادہ عزیز ضد، انا اور ذاتی مفادات ہوتے ہیں۔

ہمیں یہ روش ترک کرنا ہوگی کیونکہ.... قدرت نے پاکستان کو معدنی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ جیولوجیکل سروے کے مطابق ہمارے ملک میں 6 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے میں معدنی ذخائر موجود ہیں جن میں کوئلے، تانبے، سونے، قدرتی گیس، تیل، ماربل، قیمتی پتھر، گرنائیڈ، نمک اور چونے کے ذخائر قابل ذکر ہیں۔ بلوچستان کے علاقے ریکوڈیک میں دنیا کے پانچویں بڑے تانبے کے 22 ارب پاﺅنڈ اور سونے کے 13 ملین اونس کے ذخائر پائے جاتے ہیں جن کی مجموعی مالیت 500 ارب ڈالر ہے۔

موجودہ حکومت فی الحال مشکلات کا شکار ہے، ملک پر قرضوں کا بوجھ ہے، تاجر برادری ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں، کیونکہ انہیں آج تک اس بات کا عادی بنانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ وقتی مفاد اور چھوٹی چھوٹی منفعتوں کی عادی قوم بھی ٹیکس کے نام سے خوف زدہ ہے، کرپشن کے دلدادہ عناصر غریب عوام کو ٹیکس کی ”صعوبتوں“ سے ڈرا رہے ہیں۔ اُمید ہے پی ٹی آئی کی حکومت ان منصوبوں پر کام کرتی رہے گی، پھر پاکستان دنیا بھر میں کینو کی پیداوار میں پہلے، چنے کی پیداوار میں دوسرے، کپاس، چاول، کھجور اور خوبانی کی پیداوار میں چوتھا بڑا ملک ہے۔ اسی طرح پاکستان مچھلی، دودھ اور گنے کی پیداوار میں پانچویں، گندم کی پیداوار میں چھٹے، خشک میوہ جات، پیاز اور آم کی پیداوار میں ساتویں، قیمتی پتھروں اور سنگ مرمر کی پیداوار میں آٹھویں، چینی اور حلال گوشت کی پیداوار میں نویں جبکہ سیمنٹ اور چاول کی پیداوار میں بارہویں نمبر پر ہے۔ اقوام متحدہ کی فوڈ اور ایگری کلچر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ گھی پیدا کرنیوالا ملک ہے جب کہ ملک میں دنیا کے سب سے بڑے نمک کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ پاکستان دنیا میں معدنی ذخائر رکھنے والا امیر ترین لیکن اسے استعمال کرنے میں غریب ترین ملک ہے۔ ملک میں دنیا کے کوئلے کے چوتھے بڑے جبکہ سونے (100ارب ڈالر) اور تانبے (27ارب ڈالر) کے پانچویں بڑے ذخائر موجود ہیں لیکن 7 دہائیاں گزرنے کے باوجود بدقسمتی سے ہم ان قدرتی نعمتوں کو زمین سے نکال کر فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ جب پاکستان میں یہ سب کچھ ہے تو ہم نئے پاکستان میں اس بات کی اُمید کر سکتے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب یہاں جمہوریت کا راج ہوگا، معیشت مضبوط ہوگی، عوام خوشحال ہوں گے اور ٹیکس دینے سے ڈریں گے نہیں بلکہ ایسا کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔

بس اس کے لئے ہمیں سچے جھوٹے، کھرے کھوٹے، مخلص اور مکار، ایماندار اور بے ایمان میں تمیر کرنا ہو گی۔ اور اس بات کی حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ چودہ اگست ہماری اجتماعی خوشیوں کا دن ہے۔ یوم آزادی کے اس موقع پر کچھ وقت کے لیے آئیں اس باہمی چپقلش کی کیفیت کو ختم کریں، سیاسی اور ذاتی مصلحتوں سے جان چھڑائیں اور سوچیں کہ ہمیں کیوں بہتری کی امید رکھنی چاہئے؟ ہمیں کیوں روشن کل کا خواب دیکھنا چاہیے؟


ای پیپر