بھارت کے خلاف کشمیریوں کے حق میں یکجہتی کی ضرورت
07 اگست 2019 2019-08-07

ایک خوش پوش آدمی نے ایک عمدہ قسم کے ہوٹل میں کھانا کھایا اور ڈکارلے کربیرے سے کہا :

”تمہیں یاد ہے کہ پچھلے برس میرے پاس پیسے نہیں تھے اور تم نے مجھے اٹھا کر سڑک پر پھینک دیا تھا ؟

بیراقدرے شرمندگی سے بولا: حضور! مجھے افسوس ہے لیکن یہ ہوٹل کے مالک کا حکم تھا۔ میں نہایت مجبورتھا۔“

خوش پوش نے زیرلب مسکراتے ہوئے کہا : شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ آج پھرتمہیں وہی زحمت اٹھانی پڑے گی کیوں کہ آج بھی میرے پاس ہوٹل کے بل کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ “

بھارتی وزیراعظم مودی کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ ایک بار پہلے بھی چھیڑ خانی کرکے پاکستان کی چوکس افواج کو آزما چکا ہے، اپنے جہاز بھیج کر اور پھر اپنے پائلٹ ابھی نندن کوواپس لے چکا ہے۔ اب دوسری بار اس نے نہ صرف یہ کہ کشمیر کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ معصوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ مودی کو دوبارہ اٹھا کر باہر پھینکے جانے کا وقت قریب ہے۔

بھارتی حکومت کشمیریوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے حیلے کررہی ہے۔ آرٹیکل 370شق سے بھی وہ کشمیر کو مکمل اپنے قبضے میں لے کر یہاں ہندوﺅں کو آباد کرنا چاہتا ہے بھارت یوں تو ایک عرصے سے کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے مگر مودی سرکار نے جلتی پر تیل ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف آرٹیکل 370شق کے ذریعے کشمیر کو وہ اسرائیل بنانے کے درپے ہے تو دوسری نہتے کشمیریوں اور آزادی کے دیوانوں پر کلسٹر بم پھینک کر انہیں تباہ کررہا ہے، ساری دنیا کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی افواج کے مظالم دیکھ رہی ہے اب تو سوشل میڈیا کا دور ہے کسی سے کچھ بھی چھپایا نہیں جاسکتا۔

مودی سرکار کا ایک ایک ستم زمانے پر آشکار ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے علمبردار نجانے کیوں سوئے ہوئے ہیں اب انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظرنہیں آتیں؟؟ بھارت کے موجودہ ظالمانہ عمل نے ساری دنیا کے سامنے اس کی ”جمہوریت“ کو بے نقاب کردیا ہے۔

اس وقت بھارتی تسلط میں جموں آزاد کشمیر سے دنیا کا رابطہ کیا ہوا ہے۔ لوگوں کو گھروں میں محصور کردیا گیا ہے وہاں رابطے منقطع کردیئے گئے ہیں تاکہ حقیقی خبریں لوگوں تک نہ پہنچ سکیں۔ لیکن آخر کب تک ؟

بھارتی مظالم کے خلاف پاکستان کا دوٹوک مو¿قف سب کے سامنے ہے۔ کورکمانڈر کانفرنس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح انداز میں کہا ہے کہ وطن کی حفاظت کے لیے ہم ہردم تیار ہیں۔ کشمیریوں کی حمایت میں یہ ایک اہم اور بڑا اعلان ہے کہ پاک فوج کشمیریوں کی جائز جدوجہد کے شانہ بشانہ ہے، کورکمانڈر کانفرنس میں کشمیریوں کی مکمل حمایت کی گئی ہے۔ پاکستان نے آرٹیکل 370اور 35اے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اس سلسلے میں پاکستانی عوام ہی نہیں ساری دنیا کے مسلمان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرتے ہیں۔ بھارتی اقدام کے خلاف خود بھارت کے اندر بھی احتجاج ہورہا ہے۔ اس موقع پر پاکستانی حکومت کو عملی سطح پر بھی اقدامات کا آغاز کرنا چاہیے، اور اپنے حلیف ممالک کو ساتھ ملاکر اقوام متحدہ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ روس، امریکہ، برطانیہ اورفرانس جیسے ممالک کو بھی کشمیر کی موجودہ تشویشناک صورت حال کو دیکھنا چاہیے، وہاں جس طرح کا ظلم ہورہا ہے اس کے لیے بھارت پر دباﺅ ڈالنا چاہیے۔ موجودہ صورت حال میں تمام سیاسی جماعتوں کو بھارت کے خلاف متحد دکھائی دینا چاہیے۔ اور ایسی بدکلامی اور بیان بازی سے اجتناب کرنا چاہیے کہ جس سے ہماری دشمن کے خلاف ناچاقی یا نااتفاقی کا اظہارہو۔ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ساری قوم کو یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حافظ محمد سعید جیسے کشمیر دوست رہنما کو بھی غیرمشروط رہا کرکے ان سے بھی مشاورت کرنی چاہیے بلکہ ایسے تمام قومی رہنماﺅں کو حکومت ایک جگہ اکٹھا کرکے مل کر کوئی پالیسی بنانی پڑے گی۔ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو بھی متحد ہونا پڑے گا کہ بقول :

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر


ای پیپر