اب ہم اورکیا کریں؟
07 اگست 2019 2019-08-07

مُودی سرکار نے انتہائی گھٹیا پن کامظاہرہ کیا، نہرو سمیت اپنے بڑوں کے اعلانوں اوروعدوں کا باقاعدہ کریا کرم کر دیا،اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور جنیوا کنونشن سمیت عالمی قوانین پر مُوت دیا ، بھارت کے آئین میں ترمیم کرکے آرٹیکل370 نکالتے ہوئے اپوزیشن تو ایک طرف رہی خود ان کشمیریوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جوہندوستان کی کٹھ پتلی کے طور پر ناچتے رہے، کشمیریوں پر بدترین مظالم ڈھانے میں ہندو اکثریت کے آلہ کار رہے ، بوڑھے عبداللہ فاروق،چالاک عمر عبداللہ کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی بھی چیخ اٹھی، کہا کہ انہوں نے پاکستان پر ہندوستان کو ترجیح دے کرغلطی کی اور اگر ہندوستان کچھ کشمیریوں کے مفاد میں ہی کر رہا تھا تو اسے جموں و کشمیر کو فوج سے بھرنے اور اپنی کٹھ پتلیوں کونظربند کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

ہاں ، ہاں، بھارتی آئین کا وہ آرٹیکل 370 ختم ہو رہا ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تھی، اس کا جھنڈا اور دستور الگ تھے، بھارت کا صدر مقبوضہ کشمیر کا آئین معطل نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی وہاں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتا تھا، جی ہاں، بھارت مقبوضہ کشمیرکانیم خود مختار سٹیٹس ختم نہیں کر سکتا تھا اور اس کی ایک ہی صورت تھی کہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی اس کی سفارش کرتی مگر وہ اسمبلی تو کب کی ختم ہو چکی، خود انڈیا کی سپریم کورٹ کہتی ہے کہ یہ معاملہ کب کا ختم ہوچکا۔ آپ مجھے صدمے کی حالت میں سمجھئے او رمیری اول فول کو معاف کیجئے۔ مُودی نے وہ کچھ کیا جو وہ ہرگز نہیں کر سکتا تھا یعنی اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین ، جمہوریت، اخلاقیات اور سیاسیات سب کی ایسی تیسی کر دی۔ ایک سائنسدان نے اپنے سٹوڈنٹس کو بتایا کہ اگر کسی مکھی کا جسم بڑا اور پر چھوٹے ہوں تو وہ سائنسی اصولوں کے مطابق اڑ نہیں سکتی کہ چھوٹے پر بڑے جسم کا بوجھ نہیںاٹھا سکتے اور پھر ایک مکھی اس نے دکھائی، بتایا ،اس کے پر چھوٹے اور جسم بڑا ہے مگر یہ بہت اونچا اڑتی ہے، سٹوڈنٹس نے حیران ہو کر پوچھایہ کیسے ممکن ہے، سائنسدان نے کہا اس لئے کہ اسے ہمارے سائنسی اصول کا علم ہی نہیں ہے مگر مودی وہ سائنسدان ہے جسے ان تمام سائنسی اصولوں کا علم ہے۔مُودی نے جو سائنسی اصول لگایا ہے اسے طاقت کا اصول کہتے ہیں اور یہ تمام اصولوںپر حاوی ہوتا ہے۔ایک مکتبہ فکر توواضح طور پر کہتا ہے کہ اخلاقیات محض کمزوروں کو ڈھکوسلا ہے ورنہ اس کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیں کہ وہ امریکا جو پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پرثالثی کروانے جا رہا تھا اس نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ بھارتی آئین میں کھلواڑ بلکہ بلاد کار کو ہندوستان کا داخلی مسئلہ قرار دے دیا ہے۔دنیا میں آج طاقت کی دو قسمیں ہیں، پہلی معاشی طاقت ہے ، اس کا استعمال بے حد و حساب ہوتا ہے اور یہی پوری دنیا کو یہی چلا رہی ہے اور دوسری فوجی طاقت ہے، اس کا استعمال کہیں ، کہیں ہوتا ہے مگراس کی اہمیت سے انکا رنہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ یہ کہیں کہ نظرئیے اورسچائی کی بھی طاقت ہے تو میں اسے بھی تسلیم کر لوں گا کہ کمزور لوگوں کے پاس یہی طاقت ہوتی ہے جس کی بنیاد پر وہ طاقت ور ہونا چاہتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ایک بہت لمبی تقریر کی اور ایسی ہی ایک تقریر وزیراعظم عمران خان نے بھی کر دی جس میں ہر بات ہی شامل تھی یعنی اس میں امن کی دعوت بھی تھی، مذاکرات کی خواہش کا نوحہ بھی تھا، لہو کے آخری قطرے تک جنگ کی دھمکی بھی تھی، یہ فقرہ بھی تھا کہ اگر جنگ ہمارے خلاف جاتی ہے تو پھر ہم کیا کریں گے اورپلوامہ جیسے کسی واقعے کی خبرداری بھی تھی۔ میں حیران ہوں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاتے ہوئے حکومت اتنی تیاری کے ساتھ آئی تھی کہ وفاقی وزیر پارلیمانی امور جو قرارداد پیش کر رہے تھے اس میں بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم کرنے کا ذکر ہی نہیں تھا یعنی جس بات پر قیامت برپا ہے وہ قرارداد کا حصہ ہی نہیں تھی ۔ وزیر موصوف کے سٹاف نے انہیں انٹرنیٹ سے کوئی پرانی قرارداد کاپی پیسٹ کر کے دے دی تھی جس میں بھارت کے روایتی مظالم کی مذمت تھی اور دوسرے اس اجلاس سے وزیراعظم بھی غیر حاضر تھے۔ میں نہیں جانتا کہ وزیراعظم کی کشمیر کے ایشو پر پارلیمنٹ کے مشترکا اجلاس سے زیادہ بڑی کیا مصروفیت ہوسکتی ہے مگر پھر اس کے لئے بیس منٹ کے لئے ملتوی کیا گیا اجلاس گھنٹوں بعد ہی ہو سکا تھا۔ میں اس پر بھی حیران ہوں کہ ہم بھارت کو کیا جواب دیں گے کہ ہم اپنے وفاقی دارالحکومت کی ہائی سکیورٹی سڑکوں پر ایسے پوسٹرز اور ہورڈنگز آویزاں دیکھ رہے ہیں جن میں مہا بھارت اور اکھنڈ بھارت کی بات کی گئی ہے اور کہا گیا کہ آج جموں و کشمیر لیا ہے کل بلوچستان لیں گے۔ یہ مرجانے کی حد تک افسوسناک صورتحال ہے۔

ہاں ! ہمارے پاس ایٹم بم بھی ہے اگرچہ اس کی بنیاد رکھنے والا پھانسی پا چکا اور ایٹمی دھماکے کرنے والا جیل میں ہے مگر اس کے باوجود کیا ہم اپنے وزیراعظم کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کی گئی تقریر کے بعد سوچ سکتے ہیں کہ اسے استعمال کریں گے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ ایک تاجر کبھی اچھا سیاستدان نہیں ہوسکتا تو مان لیجئے کہ ایک کھلاڑی بھی ملک و قوم کا محافظ نہیں ہوسکتا کہ یہ مقدس و محترم کام کھیل کُود ہرگزنہیں ہے۔ چلئے ہمارے تما م ادارو ں کے اجلاس بھی ہو گئے،یہ نکتہ بھی آگیا کہ بھارتی آئین کے اس آرٹیکل کے ہم ویسے ہی مخالف تھے، پارلیمنٹ میں تقریریں بھی ہو گئیں اور یہ دعوے بھی ہو گئے کہ شہباز شریف نے اچھی تقریر کی ، عمران خان نے کمال کر دکھایا یا بلاول نے کوئی چھکے مارے، ہم نے کچھ تھکے ماندے مظاہرے بھی کر لئے، ٹوئیٹر پراندرونی اور بیرونی تمام معاملات پر ٹرینڈ بھی چلا لئے، امن کی بات بھی کر لی ، جنگ کی تیاری بھی ظاہر کر دی اور پلوامہ جیسے واقعات سے خبردار بھی کر دیا مگر دوسری طرف بھارت نے جو کرنا تھا کر لیا۔ آئین میں ترمیم ہی نہیں کی بلکہ جموں و کشمیر کو جیل میں بھی بدل دیا۔ اب اگر پندر ہ اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر کوفلسطین بناتا ہے، وہاں دولت مند بھارتی زمینیں خریدتے ہیں، کاروبار جماتے ہیں، سرکاری ملازمتوں پر قبضے کرتے ہیں تو کشمیری ، کشمیر میں ہی اقلیت بن جائیں گے اور یہ بھارتی آئین کے عین مطابق اور امریکی تشریحات کے مطابق ہندوستان کا داخلی معاملہ ہو گا۔

میرا خیال ہے کہ اب جو کچھ کرنا ہے وہ بیمار اوربوڑھے علی گیلانی نے ہی کرنا ہے۔ وہ ایک بنددروازے کے پیچھے کھڑے ہیں ، اسے کھٹکھٹا رہے ہیں، آوازیں دے رہے ہیں ، وہ ہماری آنیاں جانیاں دیکھیں اور بتائیں کہ ایک سکڑتی ہوئی جی ڈی پی ، کم ہوتے ہوئے گروتھ ریٹ، ٹارگٹ بنی اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل منقسم قوم اور بے روزگاری کے خطرات میں جکڑے ہوئے عوام اب اور کیا کریں؟


ای پیپر