Source : Yahoo

پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاونٹس سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت
07 اگست 2018 (20:12) 2018-08-07

اسلام آباد: پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاونٹس سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک کا پیسہ واپس لائیں گے،ایف آئی اے نے جن لوگوں کی نشاندہی کی ہے ان میں سے ایک ہزار لوگوں کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، پتہ چل جائے گا کہ ایمنسٹی سکیم سے کس نے فائدہ نہیں اٹھایا۔

منگل کے روز چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بیرون ملک اکاو¿نٹس کے حوالے سے کیس کی سماعت کی تو گورنر اسٹیٹ بینک نے پیش ہوکر کہا کہ بیرونی ملک پاکستانیوں کے بینک کھاتوں اور جائدادوں کے بارے معلومات اکھٹی کی ہیں لیکن معلومات کو خفیہ رکھا جارہا ہے۔انھوں نے مزید وقت دینے کی استدعا کی اور کہا کہ طریقہ کار طے کیا جارہا ہے کچھ وقت دیا جائے لائحہ عمل دینگے۔

چیف جسٹس نے کہا بہت زیادہ پیسہ باہرچلا گیا ، پاکستانیوں نے دبئی، سوٹزرلینڈاوردیگر ممالک میں اکاونٹس اور جائیدادیں بنا رکھے ہیں۔چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا عدالت اتنی مجبور ہوگئی ہے کہ ملک سے باہر جو پیسہ چلا گیا ہے اس کا پوچھ نہ سکے؟ملک کی ٹاپ بیوروکریسی عدالت میں آکر اپنی مجبوری کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا ایسا نہیں ہونے دینگے، ملک کا پیسہ واپس لائیں گے،ایف آئی اے نے جن لوگوں کی نشاندہی کی ہے ان میں سے ایک ہزار لوگوں کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، پتہ چل جائے گا کہ ایمنسٹی سکیم سے کس نے فائدہ نہیں اٹھایا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پتہ چل جائے گا کہ جس نے فائدہ نہیں اٹھایا اس نے کوئی گھٹ بٹ کی ہے،ان ہزار لوگوں کے لئے ہم بیان حلفی کی شرط رکھ لیتے ہیں جیسے ہم نے انتخابی امیدواروں کے لئے رکھی تھی، ڈیٹا ہمیں ملا ہے اس سے کافی امید ملی ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت تین ستمبر تک ملتوی کر دی۔


ای پیپر