Source : Yahoo

لاہور‘پنجاب کی تمام سرکاری یونیورسٹیز سے بھرتیوں کا 5سالہ مکمل ریکارڈ طلب
07 اگست 2018 (19:59) 2018-08-07

لاہور : پنجاب بھر کی سرکاری جامعات میں 2013 سے 2018 تک ریکروٹمنٹ کا پانچ سالہ مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ یونیورسٹیز فوری طور پر انٹرنل آڈٹ کا اہتمام کریں اور بغیر اخباری اشتہارات کی گئی تمام تقرریوں کی تفصیلی رپورٹ ایک ماہ کے اندر فراہم کریں‘یونیورسٹیزمیں آئندہ کوئی بھی نئی بھرتی اخبارمیں اشتہار دئیے بغیر نہیں ہوگی .

جامعات کے خزانہ دار و ڈائریکٹرز فنانس چیک لسٹ کےساتھ اخبار اشتہار منسلک کئے بغیر کسی نئے بھرتی ہونیوالے اہلکار کو پے سلپ جاری نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی انہیں تنخواہ کا اجرا کیا جا ئےگا‘ خلاف ورزی پر تمام ذمہ داری خزانہ دارو ڈائریکٹرز فنانس پر عائد ہوگی۔منگل کو ہائر ایجو کیشن کمیشن (ایچ ای سی ) کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ میں انتباہ کیا گیا کہ ایچ ای ڈی کی جانب سے کی گئی متعدد انکوائریوں میں الزام درست ثابت ہونے سمیت اس بات کا انکشاف ہوا کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور ‘یوای ٹی لاہورلاہور کالج فارویمن یونیورسٹی‘بہاﺅالدین یونیورسٹی ملتان‘اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،ایجوکیشن یونیورسٹی لاہورسمیت صوبہ بھر کی اکثر جامعات میں نہ صرف بغیر مشتہر کئے وسیع پیمانے پر بھرتیاں کی گئیں بلکہ جن افراد کو بھرتی کیا گیا ان میں سے اکثر مطلوبہ اہلیت اور قواعد و ضوابط پر بھی پورا نہیں اترتے۔یونیورسٹیز کی جانب سے اس انداز میں کی گئی تقرریاں نہ صرف سراسر ناجائز ،غیر قانونی بلکہ بدعنوانیوں، بے ضابطگیوں، بے قاعدگیوں کے زمرے میںآنے سمیت آئین پاکستان کے ٓرٹیکل 25 اور 27 کی صریحا خلاف ورزی بھی ہے ۔ مراسلہ میں کہا گیا کہ ٓڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھی بارہا بھرتیوں میں کی جانیوالی سنگین بے قاعدگیوں و بدعنوانیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے نہ صرف انہیں منسوخ کرنے بلکہ اس کے ذمہ داران کےخلاف مقررہ قواعد کی پامالی پر سخت کاروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

سرکلر میں کہا گیا کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ان بد عنوانیوں اور بے قاعدگیوں پر الگ سے کاروائی کا ٓغاز کرنے سمیت کنٹرول میکا نزم کا اجرا کردیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس پر اسکی اصل روح کے مطابق عملدرٓمد یقینی بنایا جائے۔ کسی بھی بھرتی سے قبل چیک لسٹ مرتب کی جائے جس میں بھرتیوں کے ضمن میں اعلان کردہ تمام قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔سرکلر کے مطابق خزانہ دار/ ڈائریکٹر فنانس اس امر کے پابند ہونگے کہ وہ نئے بھرتی ہونیوالے یونیورسٹی ملازمین کو پے سلپ کے اجرا اور تنخواہ کی ادائیگی سے قبل قومی اخبارات میں شائع شدہ بھرتی کے اشتہار کی کاپی ہر صورت ساتھ منسلک کریں گے اورا گر ایسا نہ کیا گیا تواس بے قاعدگی کے ذمہ دار متعلقہ یونیورسٹیز کے خزانہ دار اور ڈائریکٹر فنانس ہوں گے۔

مراسلے کے مطابق یہ شرائط اور قواعد و ضوابط تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز پر لاگو ہونگے تاکہ یونیورسٹیز میں مجوزہ رولز کےخلاف منظور نظرو من پسند افراد کی پرکشش عہدوں پر تقرریوں اور ترقیوں کا سلسلہ روکا جاسکے۔ اسی طرح تمام یونیورسٹیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ضمن میں فوری طور پر انٹرنل ٓڈٹ کا اہتمام کریں اور بغیر اخبار اشتہارات کی گئی تمام تقرریوں کی تفصیلی رپورٹ ایک ماہ کے اندر فراہم کریں۔

سرکلر میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری کئے گئے ہدایت نامہ میں کہا گیا کہ ماضی میں جتنی بھی ایسی بغیر اخبار اشتہار خلاف ضابطہ بھرتیاں کی گئی ہیں انہیں متعلقہ یونیورسٹیوں کی سنڈیکیٹ اور گورننگ باڈیز کے روبرو پیش کیا جائے تاکہ امتیازی سلوک و ناروا رویوں کے علاوہ منظور نظرکے خاتمہ سمیت اختیارات کا ناجائز و غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے من پسند افراد کو نوازنے کی پالیسی کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔

اسوقت پنجاب بھر کی سرکاری جامعات میں گریڈ ایک سے گریڈ20تک کی مختلف کیڈرزکی متعدد خالی آسامیوںپر قوائد وضوابط کیخلاف اور ریکروٹمنٹ پالیسی سے ہٹ کر بھرتیاں کی گئی ہیں،جس کا اعلی حکام نے سختی سے نوٹس لیا ہے اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں علیحدہ سے ایک فہرست بھی مرتب کی جارہی ہے جس کے پہلے فیز میں ان تمام جامعات سے 2013 سے 2018تک کا ریکارڈ طلب کیا گیاہے جبکہ دوسرے فیز میں 2008 سی2013 او رتیسرے فیز میں 2003 سے 2008 تک کا ریکارڈ طلب کیا جائیگا۔


ای پیپر