اذیتوں ،تکلیفوں اور مشکلات کا شکار پنجاب پولیس
07 اگست 2018 2018-08-07

کبھی ایسے نہیں ہوا کسی الیکشن سے قبل پولیس میں وسیع پیمانے پر تبادلے کردیئے گئے ہوں۔ یہ تبادلے کوئی ”مفت“ میں نہیں ہوتے، ان پر کروڑوں روپے کے اخراجات اُٹھتے ہیں جن کا سرکار یا ملک وقوم کو کوئی فائدہ ہونے کے بجائے اُلٹا نقصان اس صورت میں ہوتا ہے کہ جب یہ تبادلے واپس ہوتے ہیں جوکہ سفارشوں یا دیگر ذرائع یعنی رشوت وغیرہ کے لیے ہونے ہی ہوتے ہیں تو اس کے مالی ودیگر نقصانات بھی سرکار کو ہی ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک وہ تبادلہ ہونا ہی نہیں چاہیے جو چند روز بعد یا اُسی روز کسی ناجائز وجہ سے کینسل کرنا پڑتا ہے، الیکشن سے قبل مختلف محکموں خصوصاً محکمہ پولیس وغیرہ میں سینکڑوں تبادلوں کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں ہوتا۔ کم ازکم حالیہ الیکشن میں تو نہیں ہوا۔ پنجاب میں نون لیگ نے دوبارہ اکثریت حاصل کرلی ہے، ایک افسر کو ایک جگہ سے اُٹھاکر دوسری جگہ بھیج دیا گیا، کچھ افسران بلکہ نون لیگی وفادار افسران کو تو پہلے سے بہتر جگہ پر بھیج دیا گیا، زیادہ تر افسران کے تبادلے ان کی ”سیاسی وابستگیوں “ کو پیش نظر رکھتے ہوئے کئے جاتے ہیں، حالانکہ زیادہ تر افسران کی سیاسی وابستگیاں ہمیشہ اُن حکمرانوں کے ساتھ ہوتی ہیں جن کے بارے میں اُنہیں یہ احساس یا مُشک آجاتی ہے کہ وہ آنے والے ہیں، سوچنے والی بات یہ ہے ایک پولیس افسر جو خانیوال وغیرہ میں ڈی پی او ہے الیکشن کی وجہ سے اُسے کسی دوسرے ضلع میں بھیج دیا جاتا ہے وہاں جاکر سابقہ حکمرانوں کے ساتھ اُس کی وابستگی اگر سچی ہے تو اس کا بدلہ چکانے کی وہ کوشش نہیں کرے گا ؟۔ مجھے نہیں پتہ اس حوالے سے بڑے پولیس افسروں، نگران حکمرانوں یا ” اصل باوردی حکمرانوں“ کی سوچ اور معیار کیا ہے؟۔ الیکشن کے حوالے سے ہونے والے تبادلوں کی ”زد“ میں ایک ایسا ڈی پی او بھی آیا جس کا تبادلہ شاید ”انعامی طورپر“ اس لیے کیا گیا کہ نون لیگی حکومت یا حکمرانوں کی جی بھر کر اُس نے ہرجائز ناجائز خدمت کی۔ وفاداری کے حوالے سے دوہاتھ آگے نکل گیا تھا، سابقہ آئی جی مشتاق سکھیرا کا وہ ”چمچہ¿ خاص“ بلکہ ”دیگچہ¿ خاص “ تھا۔میرا خیال تھا جتنی نون لیگی حکمرانوں کی کاسہ لیسی اُس نے کی اُس کی بنیاد پر شاید نگران حکومت بنتے ہی وہ طویل رخصت لے لے گا اور جائز ناجائز طریقے سے کمائے ہوئے مال سے کوئی فیکٹری وغیرہ لگالے گا۔ مگر ”اصل حکمرانوں“ کے ساتھ اُس کے خصوصی مراسم اس کے کام آگئے اور وہ پہلے سے بہتر جگہ پر ڈی پی او لگ گیا، اُس کے مقابلے میں بے شمار ایسے پولیس افسران کے تبادلے کردیئے گئے جن کی کوئی سیاسی وابستگی کوئی ثابت ہی نہیں کرسکتا۔ وہ پنجاب میں ہمیشہ اپنی اہلیت اور میرٹ کے مطابق ہی تعینات ہوتے رہے، ظاہر ہے تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار چونکہ اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اپنے پاس رکھا ہوا تھا تو خالصتاً میرٹ اور اہلیت کے مطابق تعینات ہونے والے ان افسران کے ساتھ اس تاثر کا جُڑنا ایک قدرتی امر تھا کہ ان کی تقرریوں وتبادلے شہباز شریف نے کیے ہیں، حقیقت اس کے برعکس ہوتی تھی ، شہباز شریف محض اس تاثر کو برقرار رکھنے کے لیے مجبوراً اُنہیں تعینات کرتا تھا کہ تقرریاں اور تبادلے میرٹ پر ہوتے ہیں اور صاف ستھرے افسران کو ہی تعینات کیا جاتا ہے، ....ایک اور بات پر مجھے بڑی حیرانی بلکہ پریشانی ہوتی ہے کہ افسرانہ تقرریاں اور تبادلوں کے حوالے سے اکثر اوقات صرف سیاسی وابستگیوں کوہی ایک بڑی خرابی کیوں سمجھا جاتا ہے؟۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ”فوجی وابستگی “ کو ”عین عبادت“ سمجھا جاتا ہے۔ ہم اس حقیقت سے منہ کیوں موڑ لیتے ہیں کہ فوجی حکمرانوں نے بھی ملک وقوم یا ”ملک وہجوم“ کو تقریباً اتنا ہی نقصان پہنچایا جتنا سیاسی حکمرانوں نے پہنچایا ، یہ بھی ایک المیہ ہے بڑے افسران جو کردار کے لحاظ سے نہیں صرف عہدے کے لحاظ سے بڑے ہوتے ہیں اپنی ذاتی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے یا دوسروں کو نقصان پہنچا کر خوش ہونے کی جو ان کی فطرت ہوتی ہے اس کے مطابق بے شمار ایسے ”کارنامے“ انجام دیتے ہیں جن کے حوالے سے انہیں ہلکا سابھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کارناموں کا شکار ہونے والوں کو کتنی اذیت سے گزرنا پڑے گا۔ اصل میں اِس قسم کی اذیت سے گزرنے کا خود اُنہیں کوئی تجربہ نہیں ہوتا، موجودہ آئی جی کلیم صاحب اصل میں اِسی قبیلے کے ”امام “ ہیں۔ چارج سنبھالتے ہی انہوں نے پولیس میں نچلی سطح پر اتنے تبادلے کردیئے اب تاریخ میں وہ صرف اسی حوالے سے رکھے جائیں گے کہ پنجاب میں ایک ایسا آئی جی بھی کچھ عرصے کے لیے آیا تھا جو ماتحتوں کے لیے عذاب بن کررہ گیا تھا۔کیا کہیے اُن پولیس افسران کو جواپنے ماتحتوں کی اذیت کو باقاعدہ انجوائے کرتے ہیں۔ دوسرا ”کارنامہ“ کلیم امام کا یہ ہے فیلڈ میں انہوں نے زیادہ تر اپنی طرح کے اذیت پسند اور مردم بیزار افسران کو تعینات کیا، جو اپنے گھروالوں سے ملنا پسند نہیں کرتے مظلوم عوام سے ملنا

کیسے گوارا کریں گے ؟۔ سی سی پی او لاہور خصوصاً سپیشل برانچ پنجاب کے دفاتر میں اس وقت اتنی بددلی اور بدبو پھیلی ہوئی ہے اس کے اثرات شاید ہی کبھی ختم ہوں گے۔ پنجاب پولیس فورس اس وقت سخت بددلی کا شکار ہے جس کی وجہ سے جرائم میں روز بروز اضافہ ہوتا چلے جارہا ہے ۔ تھوک کے حساب سے انسپکٹرز اور ڈی ایس پیز کو دوردراز اضلاع میں پھینک دیا گیا ہے جس سے وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کا خیال تھا الیکشن کے بعد انہیں اپنے اپنے اضلاع میں واپس بھجوادیا جائے گا ۔”نگران آئی جی پنجابکا فی الحال ایسا کوئی ارادہ دکھائی نہیں دیتا،اس وجہ سے اُنہیں پہلے سے ملنے والی ملامتوں میں اتنا اضافہ ہوگیا ہے جتنا شاید زندگی بھر ان کی جائز کمائی میں بھی نہیں ہوا ہوگا۔اب ان کی بدولت وہ جتنی چاہیں اپنے موجودہ عہدے پر برقرار رہنے کی جائز ناجائز کوشش کرلیں۔ حتیٰ کہ جتنی چاہیں عدلیہ وفوج کی بیساکھیاں بھی استعمال کرلیں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ انہیں سوچنا چاہیے ان کی ”اصل کمائی“ ماتحتوں کی خدمت اور دعائیں ہیں جس سے وہ آج تک جہاں بھی رہے محروم ہی رہے۔ ”مرحوم“ ہونا انہیں شاید یاد نہیں، جنہیں مرنا یاد ہوتا ہے وہ دوسروں کا جینا حرام نہیں کرتے۔ آئی جی صاحب اپنا کچھ تو حلال کرلیں۔ انہوں نے تو ایسے ماتحتوں کے تبادلے بھی کردیئے تھے جو بے چارے کینسر ودیگر موذی امراض میں مبتلا ہیں اور زیرعلاج ہیں، بُرے وقت سے انہیں ڈرنا چاہیے جوبُرے کی رسی درازکے اصول کے مطابق ان کی زندگی میں ابھی تک شاید آیا ہی نہیں، اب کچھ انسپکٹرز کو ذاتی پسند، سفارشوں یا دیگرناجائز وجوہات پر انہوں نے واپس ان کے اضلاع میں بھجوادیا ہے، کاش یہ پالیسی وہ سب کے لیے اختیار کرتے۔ دیگر اضلاع سے آنے والے انسپکٹرز اور ڈی ایس پیزاپنے نئے علاقوں اور شخصیات سے واقف ہی نہیں ہیں، آگے محرم آرہے ہیں، اس حوالے سے بھی بہت مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جس کا ”آئی جی“ بلکہ اب ”گئی جی “ صاحب کو ادراک ہی نہیں ہے۔ کچھ ”اعلیٰ افسروں“ کے ساتھ بھی انہوں نے بڑی زیادتی کی، اس معاملے میں اُنہیں سابق آئی جی موٹروے ذوالفقارچیمہ ، اور مشتاق سکھیراکا مکمل تعاون اور مشاورت بھی حاصل رہی، مگر قدرت کا اپنا اک نظام ہے ، جن افسروں کو پنجاب سے انہوں نے دربدر کروایا قدرت نے انہیں زیادہ بڑے اور اہم مقام پر فائز کردیا ،....انتہا یہ ہے جب وہ اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے سب سے پہلے اُنہیںمبارکبادکا فون بھی اُسی ”امام“ نے کیا جس کی وجہ سے پنجاب سے وہ دربدر ہوئے تھے کچھ عرصہ پہلے تک یوں محسوس ہوتا تھا منتقم مزاجی اور اذیت پسندی میں سابق آئی جی مشتاق سکھیراسے آگے کوئی نہیں ہوسکتا۔ امام صاحب ان سے آگے نکلنے کی کوششوں میں ہیں۔....


ای پیپر