عمران کے پاس جیت کے سوا کوئی چارہ نہیں
07 اگست 2018 2018-08-07

تحریک انصاف نہیں عمران خان اگلی منتخب حکومت بنانے جا رہے ہیں، یہ میرا نہیں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ووٹ پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ عمران خان کو ملا ہے اور توقعات کا سارا بوجھ عمران خان کے کندھوں پر ہے۔ ہوش سنبھالنے سے آج تک یہی سنتے آئے ہیں کہ پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، اب دعا یہی ہے کہ ہماری اس نازک موڑ سے جان چھوٹ جائے۔ نئی منتخب حکومت سے لوگوں نے جو توقعات قائم کر رکھی ہیں، ان میں پروٹوکول اور کرپشن کا خاتمہ سر فہرست ہے کیونکہ ابھی تک بہت سے لوگ عمران خان کو دھکیل دھکال کر وزیراعظم ہاﺅس رہائش پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کبھی سپکر ہاﺅس کو پارلیمنٹ کی ملکیت قرار دیتے ہیں تو کبھی سیکورٹی کا بہانہ بنا کر منسٹر کالونی میں رہائش کی مخالفت کی جاتی ہے آج اگر وہ 9 گاڑیوں کے قافلے میں سفر کر رہا ہے اور روٹ لگانے کی مخالفت کر رہا ہے تو اس کے مخالفین اس پر بھی اس کو معاف کرنے کو تیار نہیں ، بشمول آغا اقرار الحسن میرے کئی دوست یہ تسلیم نہیں کرتے کہ عمران خان وزیراعظم ہاﺅس میں رہائش نہیں رکھے گا۔ اس عمومی رائے کے برخلاف میرا یہ ماننا ہے کہ عمران خان نہ صرف رہائش تبدیل کر کے دکھائے گا بلکہ وہ کسی حد تک حکمرانوں کے چال چلن بھی درست کر دے گا، ابتدائی تجزیے میں وہ 20 سے22 وزراءکی کابینہ سے زیادہ آگے نہیں بڑھے گا اور نہ ہی پورے پانچ سال اراکین اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کے نام پر ”فنڈز کی رشوت“ دے گا۔ اللہ جنت نصیب کرے ابا مرحوم کہا کرتے تھے کہ جس دن پاکستان میں ترقیاتی کاموں کے فنڈز اور نوکریوں میں ایم پی اے ، ایم این اے کے کوٹے اور مداخلت ختم ہو جائے گی یہ تمام لوگ جو الیکشن سے پہلے ٹکٹوں پر اور پھر الیکشن میں سیٹوں پر لڑتے ہیں، یہ سب سیاست سے توبہ کر لیں گے اور ایک دوسرے کی منتیں کیا کریں گے کہ پچھلی دفعہ ہم نے الیکشن لڑا تھا اب آپ کی باری ہے، مفت میں پیسے کا زیاں کون کرے؟ مجھے لگتا یہ ہے کہ وہ تو یہ وقت نہیں دیکھ پائے لیکن امید یہ ہے کہ میرے سامنے یہ سب کچھ ہو کر رہے گا۔
سیینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان قانون سازی کے محاذ پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر پائیں گے کیونکہ 65 سے زائد نشستوں پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کے لوگ بیٹھے ہیں اور وہ قانون سازی میں ہر ممکن رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان حالات میں عمران خان کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے صرف گورننس کا میدان ہو گا کہ وہ اہل وطن کی گورننس سے متعلق شکایت کو کس حد تک دور کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں؟ ویسے تو آئندہ عام انتخابات پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اگر بلاول بھٹو کی راہ میں زیادہ رکاوٹیں نہ کھڑی کی گئیں تو وہ ایک بہتر سیاست دان کے روپ میں سامنے آ سکتے ہیں جن کے لیے زیادہ مشکل لڑائی پارٹی سے باہر نہیں اندر ہو گی اور اس کے لیے انہیں اپنے نانا کی راہ کا انتخاب کرنا ہو گا کہ جن کے متعلق ان کے دشمن بھی مالی بددیانتی کا الزام نہیں لگا سکے تھے لیکن اگر وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑے رہے تو پھر پی پی پی کے بجائے (ن) لیگ کی واپسی ہو جائے گی۔
عمران خان کو پانچ سال کی لمبی پلاننگ کی نسبت چھ، چھ ماہ کے اقدامات کی صورت میں اپنی حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی کہ لمبی چوڑی اپوزیشن اس کی تاک میں ہے، پھر اس کی فطرت میں مل بانٹ کر کھانے کی عادت نہیں لہٰذا یہ امیدیں بھی لگائی جا رہی ہیں کہ وہ اپنے کسی نہ کسی اتحادی کو ناراض کر بیٹھے گا اور یوں حکومت ہر لحظہ جانے کے خوف میں مبتلا رہے گی،اسے پہلے دن سے اس صورتحال کا سامنا ہے جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو دو، دو سال کے بعد درپیش تھی، یہ الگ بات ہے کہ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے لیے رکاوٹیں اتنی زیادہ سیاسی نوعیت کی نہیں تھیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعت اور لیڈران جوابدہی کے بنیادی تصورات سے عاری حکومتیں کرنے کے عادی اور خواہاں ہیں جس کے بطن سے وہ تمام خرابیاں جنم لیتی ہیں جنہوں نے ستر سال سے نظام کا بیڑہ غرق کر رکھا ہے۔
معیشت کی بہتری، گڈ گورننس اور کرپشن کے خاتمے سے تعلیم ، روزگار اور صحت کے لیے زیادہ کام کرنے کی معاشی گنجائش بھی بنے گی اور نظام کی کارکردگی بھی بہتر ہو گی۔ عمران خان وفاق میں اسمبلی کو توڑ کر نئے انتخابات اور نئے مینڈیٹ کے حصول کے لیے بھی سوچ سکتا ہے کیونکہ بندھے ہاتھوں سے اتنی بڑی لڑائی جسے آپ کوروں اور پانڈووں کی لڑائی سے بڑا بھی سمجھ سکتے ہیں ، لڑی اور جیتی نہیں جا سکتی ، یہ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کی لڑائی ہے جس میں عمران خان کے پاس جیت کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے!
اللہ پاکستان کو کامیاب اور اس کی خیر چاہنے والوں کی حفاظت کرے۔


ای پیپر