Big Development in Pakistan Peoples Party and PMLN
07 اپریل 2021 (20:32) 2021-04-07

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کے ہمراہ تین قومی اور 15صوبائی اسمبلی کے اراکین کی عدالت آمد سے ثابت ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر پھوٹ پڑ گئی ہے۔

انہوں نے کہا جہانگیر ترین کا 53اراکین صوبائی اسمبلی اور ڈیڑھ درجن اراکین قومی اسمبلی کے ہمراہ ہونے کے دعوے کا مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم اکثریت کھو چکے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے صفوں میں اس انتشار سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تحریک عدم اعتماد کی حکمت عملی درست تھی۔

 انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے پی ٹی آئی میں انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان کی حکومت گرانے کی بجائے اسے بچانے کو ترجیح دی۔

 مسلم لیگ(ن) نے جان بوجھ کر استعفوں کا شوشہ چھوڑا تاکہ پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑے اور پی ٹی آئی حکومت بچ جائے۔ فیصل کریم کنڈی نے سوال کیا کہ لندن میں بیٹھ کر پیپلزپارٹی پر ڈیل کے الزامات لگانے والے بتائیں کہ ن لیگ نے کس ڈیل کے بعد پی ڈی ایم میں پھوٹ ڈالنے کی سازش تیار کی گئی؟

واضح رہے اس سے قبل جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ میری تحریک انصاف سے راہیں جدا نہیں ہوئیں ، میں دوست تھا، مجھے دشمنی کی طرف کیوں کھیل رہے ہیں؟ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ مجھ پر ایک نہیں بلکہ دو تین مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ہمارے لئے افسوس کا مقام ہے کہ ہم تحریک انصاف سے ہی انصاف مانگ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میری وفاداری کا امتحان لیا جا رہا ہے۔  ایک سال سے مجھ پر یہ شوگر کمیشن چل رہا ہے لیکن اس کے باوجود میری تحریک انصاف سے راہیں جدا نہیں ہوئی ہیں۔ میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوں اور  رہوں گا۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ انتقامی کارروائی جو بھی کر رہا ہے، وقت آگیا ہے اسے بے نقاب کیا جائے۔میرے  اکاؤنٹ کیوں منجمد کی گئے؟ اس سے فائدہ کون حاصل کر رہا ہے؟ میرے خلاف ظلم بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک سال سے انکوائری چل رہی ہے لیکن میں چپ کر کے بیٹھا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں آخر یہ انتقامی کارروائی کیوں ہورہی ہے، وجہ کیا ہے؟ ملک کی 80 شوگر ملوں میں سے انھیں صرف جہانگیر ترین نظر آیا۔


ای پیپر