صوابی میں جج کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا
سورس:   فائل فوٹو
07 اپریل 2021 (20:15) 2021-04-07

پشاور: صوابی میں انسداد دہشت گردی کے جج آفتاب آفریدی اور ان کے خاندان کے 3 افراد کے قتل کیس میں 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

ڈی پی او صوابی محمد شعیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول جج جسٹس آفتاب آفریدی کے قاتلوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جبکہ گرفتار ہونے والوں میں عزیز عرف عزیزو سکنہ ڈاک کلے اور داؤد سکنہ ماشو بانڈہ شامل ہیں اور ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

ڈی پی او کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش تمام حقائق اگل دیئے اور بتایا کہ واردات میں تین گاڑیاں استعمال ہوئیں جبکہ ایک گاڑی پائلٹ کر رہی تھی ایک میں شوٹر تھے اور ایک گاڑی بیک آپ کر رہی تھی۔

ڈی پی او محمد شعیب نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے تمام ملزمان کی شناخت کر لی ہے اور گرفتاری تک ان کے نام صغیہ راز میں رکھے جا رہے ہیں جبکہ واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ تھا، دونوں خاندانوں کی آپس میں سات آٹھ سال سے دشمنی چلی آ رہی ہیں۔ صوابی پولیس نے موقع کی شہادت کو مد نظر رکھ بہترین تفتیش کے ذریعے صرف دو دن میں ملزمان کو گرفتار کیا اور معاملہ حل کیا۔

خیال رہے کہ 4 اپریل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تعینات جج جسٹس آفتاب آفریدی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سوات سے اسلام آباد جا رہے تھے کہ صوابی کے انبار انٹرچینج نزد دریائے سندھ پل کے قریب نامعلوم ملزمان نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں جسٹس آفتاب، ان کی اہلیہ بی بی زینب، بیٹی کرن اور اس کا 3 سالہ بیٹا محمد سنان شہید ہو گئے تھے۔

بشکریہ(نیو نیوز)


ای پیپر