Dr Azhar Waheed, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 اپریل 2021 (11:17) 2021-04-07

حْمیر اَنور کہ ہمارے فیس بک پیچ کے مستعد ایڈمن ہیں، ایڈمنسٹریٹو صلاحیتیں بھی خوب پائی ہیں۔ کافی دنوں سے قارئین کی طرف سے چند سوالات مجھے ارسال کر چکے ہیں اورمجھے متعدد بار یاد بھی کروا چکے ہیںلیکن مصروفیت کے سبب سوالات ایڈریس نہ ہو سکے۔ آج جب کالم لکھنے کا دن آیا تو خیال وارد ہوا کہ انہی سوالات میں سے ایک سوال کو موضوع بنا لیا جائے۔ کالم کے پیرائے کی خوبی یہی ہے کہ الٰہیات سے لے کر سیاسیاست اور شخصیات تک دنیا کا ہر موضوع ‘کالم کا موضوع ہے۔ روزگارِ زمانہ مضامینِ واصفؒ بھی کالم کی صورت میں تحریر ہوئے۔

 سوال ایک نوجوان کا یوں ہے کہ خد ا کی ذات عظیم بے نیازہے تو وہ انسان سے اپنی تعریف کیوں کروانا چاہتا ہے؟ یہ سوال اپنی ہیئت میں بے باک ضرور ہے‘ گستاخ نہیں۔ بے باکی اور گستاخی میں فرق اس لیے کر سکتا ہوں کہ یہ سوال اُٹھانے والا نوجوان باادب ہے، اور فکرِ واصفؒ سے گونہ تعلق رکھنے والوں میں ہے۔اس فکر سے تعلق رکھنے والے نوجوان بالعموم مؤدب پائے گئے۔ مرشدی واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ بے باکی میں تعلق قائم رہتا ہے اور گستاخی میں ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک متجسس ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دینا اَز بس ضروری ہوتا ہے۔ دین ِ اسلام دین ِ فطرت ہے ، اس لیے اِس میں ہر سوال کا جواب موجود ہے۔اِس کوچہ فکر و فہم میں ایسے کم فہم اور کم ظرف بھی ہوتے ہیں جن کے پاس جب کسی سوال کا جواب بن نہیں پڑتا تو جھٹ سے سائل کو واجب الکفر اور واجب القتل قراردینے لگتے ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان نسل بددل ہو کر لبرلز کی گود میں جا بیٹھتی ہے۔ تصوف کی بنیاد ہی درِ علمؒکی صدائے’’سلونی سلونی‘‘ پر ایستادہ ہے۔ 

سوال دلچسپ ہے‘آخر وہ ذات جو بے نیاز ہے اور عظیم ہے، اپنی ذات میں حمید ہے‘ وہ ہم ایسے ناقص انسانوں سے اپنی تعریف کیونکر چاہتی ہے؟  یہاں اس سوال میں اہم نکتہ قابلِ غور یہ ہے کہ سائل تعریف اور حمد میں امتیازکرنے سے قاصر ہے۔ حمد کا ترجمہ جس نے بھی تعریف کیا ‘ اس سے غلطان ہوا۔ اس میں کچھ قصور تو ہماری نوزائیدہ اْردو زبان کا بھی ہے ، عربی ایسی بلیغ زبان کہ جس میں گھوڑے کے لیے سیکڑوں الفاظ موجود ہیں، شیر کے لیے سات سو الفاظ ہیں اور بارش کے لیے درجنوں الفاظ ہاتھ باندھے کھڑے ہیں کہ بارش کے انداز اور  رفتار کے مطابق مجھے چنا جائے ‘ وہاں’’غیاث‘‘ کے لیے بھی ترجمے میں بارش کا لفظ ہی آئے گا اور’’مطر‘‘ کے لیے بھی ایک نگوڑا یہی لفظ ہے ‘ ہمارے پاس! اِس طرح صمد کا ترجمہ کسی نیاز مند نے انتہائی سادگی سے’’بے نیاز‘‘ کر دیا اور پھر چل سو چل یہی ترجمہ ہر جگہ استعمال ہونے لگا۔ وہ اِس طرح بے نیاز نہیں کہ اسے مخلوق کی پروا نہیں، بلکہ مخلوق کے برعکس اُس ذات کا قیام اَسباب و علل کا محتاج نہیں اوراُس کی ذات کا دوام کسی دلیل سے بے نیاز ہے۔ 

آمدم برسرِ مطلب! حمد محض تعریف نہیں ہے، تعریف تو محدود کر دیتی ہے، اُس لامحدود ذات کی تعریف نہیں ہو سکتی کہ کوئی تعریف اُس کے لائق ہی نہیں۔ تعریف جہاں تعارف ہے ‘ وہاں تحدید بھی ہے۔ حمد ایسی تعریف کو کہتے ہیں جس میں معرفت شاملِ حال ہو۔  معرفت تعریف کرنے والے کا اپنا باطن ہے۔ کوئی اپنے باطن میں ڈوب کر جس بھی تعریفی کلام اور منظر تک پہنچے گا وہ سب کا سب مالک الملک کی تعریف ہو گی۔ یعنی اُس کی معرفت پانے والا جس بھی درجۂ معرفت پر پہنچتا ہے‘ وہ اُس ذات کا کوئی درجۂ حمد ہی ہوتا ہے۔ معرفت ِ حق رکھنے والا کبھی بھی اُس بے نیاز ذاتِ حق سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ یہاں سب عارف اُسی ذات کے عارف ہیں۔ عارفِ خود بھی دراصل عارفِ خدا ہوتا ہے۔ معروف حدیث’’من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ‘‘ … جس نے اپنے نفس کو پہچانا‘ اسی نے اپنے رب کو پہچانا۔   

نفسِ انسانی ہی خدائے لم یزل کا اصل مخاطب ہے۔ اس نے ارواح و اجسام کو دعوتِ خود نہیں دی بلکہ صرف نفس ِ انسانی کو دعوتِ عرفانِ خود ‘ دی ہے۔  وہ جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب یعنی اقرب ہے‘ وہ کہتا ہے کہ ہم نے انسان کو تخلیق کیا اور ہم اِس کے نفس میں برپا ہونے والے ایک ایک وسوسے کو جانتے ہیں، کیونکہ ہم تو اس کے قریب نہیں بلکہ قریب تر ہیں۔ 

یہاں یہ نکتہ فکر وا ہوتا ہے کہ وہ خالق و مالک جو‘ ہر آغاز سے پہلے تھا اور ہر انجام کے بعد بھی موجود ہو گا، درمیان میں ایک ’’کُن‘‘ کا واقعہ برپا کرنے کے بعد اس کائنات ِ شش جہات کو وجود دے کر حضرت ِ انسان کو یہاں موجود کرنے تک اُسے انسان کی مطلق ضرورت نہ تھی، اگر وہ اپنی تعریف سننے کے لیے انسان کو پیدا کر رہا ہے تو یہاں خالق معاذاللہ اپنی مخلوق ہی کا محتاج ہو گیا۔ اتنے بڑے کاسمک ٹائم ، بے حد و بے کنار دہر میں جہاں انسان کوئی قابلِ ذکر شئے بھی نہ تھا ‘ آخر اُسے درمیان میں حضرت ِ انسان سے اپنی تعریف سننے کی حاجت کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟ ظاہر ہے‘ اِس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ واقعہ ہوا پڑا ہے، انسان کی تخلیق بھی ہوتی ہے، اُس سے مخاطب بھی ہو ا جاتا ہے اور اُسے بتایا جاتا ہے کہ تیری تخلیق کا مقصد میری عبادت ہے۔

باب العلم ؑ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اللہ الکریم کا قول ہے کہ انسان کو وہ عبادت فائدہ نہیں دیتی جو اُس کی معرفت میں اضافہ نہیں کرتی۔ کشف المحجوب میں حضرت علی ہجویریؒ رقم طراز ہیں کہ یہاں’لیعبدون‘ سے مراد’لیعرفون‘ ہے…یعنی مقصد ِ تخلیق انسان عرفان ِ حق ہے۔ جملہ مخلوقات میں سے جن و انس ہی وہ مخلوقات ہیں‘ جنہیں صاحبِ ارادہ بنا یا گیا… یعنی انہیں ماننے اور نہ ماننے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے… انہیں اختیار دیا گیا ہے‘ وہ چاہے تو ذاکرین میں ہو جائیں اور چاہے تو غافلین میں سے ہو کر رہیں۔ اِس اِختیار کی بنیاد‘ وہ نفس ہے ‘جو اِس صاحبِ ارادہ مخلوق کو دیا گیا ہے۔ اس لیے یہاں زبانی کلامی تعریف سے بات نہیں بنے گی۔ یہاں تعریف کے کلمات لانے کے لیے اپنے من میں ڈوبنا پڑے گا۔ سفر اندر سے باہر کی طرف ہے۔ پہلے کھوج اندر کی ہے ، وہی کھوج اسے باہر کی کائنات سے متعارف کرواتی ہے۔ اندر کی کھوج کے بغیر باہر کی کائنات اسے کوئی معانی فراہم نہیں کرتی۔ یہ ٹیکنالوجی کی لڈو کھیل کر عناصر کے جوڑ توڑ سے مادّی قوت و استعداد میں کچھ اضافہ تو کر لے گا لیکن کائنات کی معنویت اِس پر آشکار نہیں ہو گی۔اِس پر قرض خدا کی تعریف نہیں‘ بلکہ حمد ہے … اور یہ حمد اس کی اپنی معرفت پر منحصر ہے ۔ مراد یہ کہ خدائے بے نیاز انسان کو اپنی ذات سے پہلے خود اُس کی ذات سے متعارف کروانا چاہتا ہے، کیونکہ اِسی تعارف میں اُس کی حیات ِ اَبدی کا راز پوشیدہ ہے۔باقی کو فانی بیان نہیں کر سکتا ‘ جب تک کہ وہ فنا سے بقا کی جانب ہجرت نہیں کرتا۔ یہی وہ چشمۂ حیات ہے جسے سکندر‘ باوصف بیرونی اسفارو فتوحات کے‘ پہچان نہ پایا، لیکن خضرؑ نے پہچان لیا …اور سیراب ہو کر حیات ِ ابدی سے متصف ہو گیا۔

کیا ‘ کیا خضر نے سکندر سے 

اب کسے راہنما کرے کوئی؟

اس میں خضر کا کچھ دوش نہیں، اسکندر ہی اندرون سے زیادہ بیرونی محاذوں پر مصروف رہا، وہ نہ جان سکا کہ فنا سے نجات دینے والا سفر باہر نہیں‘ اندر ہوتا ہے۔ چشمۂ حیات‘ جغرافیائی مقام نہیں‘بلکہ ایک سفر کے اختتام اور دوسرے سفر کے آغاز کی علامت ہے۔ اندرونی سفر جس جگہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے‘بیرونی دنیا میں وہاں ایک نشان بنا دیا جاتا ہے۔ 

القصہ ! وہ ذات اپنی تعریف سننے سے زیادہ اِس بات کا مشتاق ہے‘ اِنسان خود سے متعارف ہو جائے، اِسے عرفانِ خودی حاصل ہو جائے  … تب وہ جو تعریف کرے گا وہ حمد ہوگی۔ 

اُن کی تلاش اصل میں اپنی تلاش ہے

کس سلسلے سے جاملی‘ کس سلسلے کی  بات

 سورۃ فاتحہ میں لفظ حمد نہیں بلکہ ’الحمد‘ ہے… حمد انسان کرتا ہے اور ’الحمد‘ صرف ’الانسانؐ‘…بے شک انسانِ کاملؐ ہی کے شایان ِ شان ہے‘ اُس ذاتِ بے مثل و بے ہمتا کی کامل حمد… اور شب ِ معراج صاحبِ قاب قوسینؐ نے اُس ذات کی حمد اِن ہی الفاظ میں ادا کی ـ ’لااحصی ثنائی علیک اَنتَ کما اثنیت علی نفسک‘‘ تیری حمد و ثنا کا کوئی شمار نہیں‘  تُو ایسا ہی ہے‘ جیسا تُو نے خود اپنی ثنا کی ہے‘‘۔


ای پیپر