Dr Fareed Ahmad, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 اپریل 2021 (11:13) 2021-04-07

٭… امریکہ بھی چینی منصوبے سے متاثر…؟

٭… معزز قارئین۔ امریکی صدر مسٹر جوبائیڈن نے برطانوی وزیراعظم مسٹر بورس جانسن سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھی چین کے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ کی طرز پر ون بیلٹ ون روڈ متعارف کروانا چاہئے جو دنیا کی جمہوری ریاستوں سے گزرتا ہو۔ مگر ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ چین جارحیت پسند نہیں ہے۔ اپنے کام سے کام رکھنے والا ملک ہے۔ مداخلت کرتا ہے نہ برداشت کرتا ہے اور اپنی اسی لافانی ہنرمندی کی بدولت امن پسندی سے آگے بڑھتے ہوئے نا صرف عالمی معیشت بننے کا خواب دیکھتا ہے بلکہ سپرپاور بننے کا بھی خواہشمند ہے۔ لہٰذا اپنے اسی منشور کے تحت اس نے ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ جیسے سنہری منصوبے کے تحت نا صرف اپنے دیرینہ دوست پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کو بھی سڑکوں، ریلوے نظام، ڈیمز اور بندرگاہیں تعمیر کرنے کے لئے ہر طرح کی امداد فراہم کی ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے جبکہ تاریخی اوراق گواہ ہیں کہ دنیا کی واحد سپرپاور امریکہ اور برطانوی استعمار نے دنیا کو لڑانے، لوٹنے اور اجاڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہے۔ نتیجتاً یہ کہ وہ برطانیہ جو اس قدر وسیع تھا کہ سورج بھی غروب میں ہوتا تھا۔ آج اس قدر سکڑ چکا ہے سورج طلوع بھی بھولے سے ہوتا ہے؟ دوسری طرف امریکہ نا صرف بے مقصد جنگیں لڑتے لڑتے دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک بن چکا ہے بلکہ اس کی قومی معیشت جاپان اور چین کے کندھوں پہ کھڑی ہے۔اندرونی طاقت یہ ہے کہ امریکی معاشی، سیاسی، معاشرتی کشمکش اور نسلی تفریق عجب داستان بیان کر رہی ہے۔ درحقیقت جس طرح روس نے اپنی چادر سے پائوں باہر نکالے اور افغانستان پہ قبضہ جما لیا۔ لیکن عین اسی طرح جب ماضی میں برطانوی استعمار افغان سرزمین پر برباد ہوا تھا۔ روسی استعمار کے لئے بھی یہ سرزمین شہر خموشاں ثابت ہوئی اور پھر وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد امریک بہادر نے بھی بلاجواز یہ مزہ چکھنا چاہا اور 

دہشت گردی کو جواز بنایا۔ مگر میں واحد کالم نگار تھا جس نے ریکارڈ پر کالم لکھا تھا کہ یہ امریکہ کی سنگین غلطی ثابت ہو گی جبکہ امریکہ طالبان کے لئے نہیں اپنے خفیہ مقاصد کے لئے جن میں چین کے خلاف بھارت کا استعمال، سی پیک کا خاتمہ اور پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا سرفہرست ہے، آیا ہے۔ افسوس کہ میری اس سچائی پر میرے اپنے میرے مخالف ہو گئے۔ بہرحال آج ثابت ہو گیا کہ امریکہ اپنی تمام تر طاقت اور جدید اسلحہ برسانے، افغان درودیوار گرانے، نہتے عوام کو لہو میں نہلانے کے باوجود انہی طالبان کے سامنے ذلت و رسوائی، شرمندگی، شکست کے ساتھ سرنگوں ہے جنہیں کبھی وہ دہشت گرد قرار دیا کرتا تھا۔ میرا یہ تاریخی پس منظر بیان کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ عالمی طاقتیں ظلم نہ کریں، فساد نہ پھیلائیں اور طاقت کے نشے سے کبھی کبھار باہر آ کر تاریخی اوراق بھی پڑھا کریں تاکہ انہیں یہ حقیقت بھی معلوم ہو سکے کہ مسلمانوں کو مارا جا سکتا ہے۔ مٹایا نہیں جا سکتا۔ یقین نہ آئے تو تاریخ اٹھایئے اور دیکھئے کہ مسلمان اللہ کا مجاہد ہے اور اسے جہاد کا حکم ہے۔ سب سے پہلے اللہ کے حکم پر جب اللہ کے نبیؐ نے جہاد شروع کیا اور حجاز کے بعد اسلامی لشکر روم اور ایران کی سرحدات پے پہنچا پھر کون نہیں جانتا کہ 23 برس کے قلیل قیام میں وہی اسلامی انقلاب وہ اسلامی لشکر تقریباً ایک صدی کے عرصہ میں ہندوستان سے چین، مراکش تک، شمال میں ہسپانیہ اور جنوب میں یمن تک جا پہنچا۔ امت مسلمہ کی یہ صرف جنگی فتوحات ہی نہ تھیں بلکہ سیاسی و اقتصادی میدانوں میں بھی ان کے جھنڈے اوج فلک پے لہرا رہے تھے۔ پھر 1300 سال تک امت مسلمہ بحیثیت (Supper Power) دنیا پر حکومت کرتی رہی تھی۔ نہ کسی کی جرأت تھی نہ کوئی مدمقابل تھا بلکہ دنیا ہماری درخشاں تہذیب کے ترانے گاتی تھی۔ پوری دنیا اسلامی تہذیب و تمدن سے خوشحال، خوش اور مطمئن تھی۔ بہرحال بات طویل ہو گئی۔ میرا موضوع کالم تھا کہ چینی منصوبے پے سر جوڑلئے گئے؟۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے نئے صدر مسٹر جوبائیڈن کی صحافیوں سے پریس کانفرنس سے محسوس ہوا کہ مسٹر جوبائیڈن ایک منجھے ہوئے مدبر سیاستدان ہیں۔ لہٰذا مسٹر جوبائیڈن کا امریکہ نا صرف قابل احترام ہو گا بلکہ گزشتہ تمام امریکی صدور سے بھی قطعاً مختلف ہو گا۔ وہ دنیا کو محکوم بنانے اور جنگی سیاست سے بھی گریز کریں گے۔ ان کی مقابلہ سازی بھی قدرے مختلف ہو گی۔ بلاشبہ وہ آج پریشانی کے عالم میں ہیں ان کے اردگرد مسائل کے پھندے ہی پھندے لٹک رہے ہیں۔ ڈالر کی قدر میں گراوٹ الگ ہے یاد رہے کہ 2013 میں بھی امریکی معیشت کو اسی طرح کی صورتحال درپیش ہوئی تھی اور امریکی مرکزی بینک نے کردار ادا کیا تھا۔ مگر آج شاید امریکہ کا مرکزی بینک بھی وہ کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ عالمی ماہرین معاشیات آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ڈالر ہی ’’عالمی ریزرو‘‘ کرنسی رہے گا۔ کیونکہ اس کے متبادل کوئی کرنسی نہیں ہے۔ دوسری طرف مسٹر جو بائیڈن کی بقا کے لئے ’’تارپیڈو‘‘ کو سرعت سے قائم کرنا ہو گا۔ کیونکہ ان کے ووٹر ان کی باتوں کے نہیں ان کی باتوں سے اخذ ہونے والے نتائج کے منتظر ہیں۔ سب سے بڑھ کر جس طرح سے انہوں نے چینی منصوبے کے متعلق بصیرت افروز بیان دیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ امریکی تاریخ میں سنگ میل اور ایک نئی تاریخ رقم کرے گا جس سے امن عالم بھی سکھ کا سانس لے گا۔ دنیا میں بھی جنگی جنون، جارحیت، نفرتیں، غلبے، دہشت گردی کم ہو گی۔ بھارت بھی راہ راست پہ آ جائے گا۔ امریکی ایران تعلقات بھی بہتر ہو جائیں گے۔ ویسے بھی اب کورونا نے پوری دنیا کا نظام زندگی تہہ و بالا کر دیا ہے کیونکہ کورونا عالمی جنگ سے زیادہ خطرناک ہے۔ عالمی جنگ تو ختم کی جا سکتی ہے مگر کورونا کی جنگ کب ختم ہو گی کسی کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ البتہ اس کی آڑ میں کچھ نئے کھیل کھیلنے کی تیاری ہے۔ جان کی امان پائوں تو کہنے کی اجازت چاہوں گا کہ پہلے تیل کی عالمی تجارت ڈالرز میں ہوتی تھی اب شاید ایسا نہ ہو کیونکہ اب اسلحہ کی جنگوں کے بجائے کرنسیوں کا ٹکرائو یا جنگ ہو گی۔ جیت اس کی ہو گی جو معاشی خدشات کو بے معنی اور استحصالی طاقتوں کو پیار بھری چت رسید کر سکے گا۔ کیونکہ امکان غالب ہے کہ Red Not کساد بازاری کی ماری قوموں کے سروں پے ہاتھ نہ رکھ دے…؟

کچھ محتسب کا خوف ہے کچھ شیخ کا لحاظ

پیتا ہوں چھپ کے دامنِ ابرِ بہار میں!


ای پیپر