تاجروں نے دکانیں کھولنے کا اعلان کر دیا
07 اپریل 2020 (20:13) 2020-04-07

کراچی :شہر کی چھوٹے تاجروں کی تنظیموں آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن، آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن ،آل ائرن اسٹیل مرچنٹ ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے 15 اپریل کو دکانیں کھولنے اور حکومت کی جانب سے روکے جانے کی صورت میں وزیراعلی ہاؤس کا گھیراؤ کر نے کا اعلان کردیا ہے۔

مختلف تاجرتنظمیوں نے منگل کو علیحدہ علیحدہ پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ چھوٹے تاجروں کو ببھی ریلیف پیکج دیا جائے،یوٹیلٹیلٹی بلز اور نجی اسکولوں کی تین ماہ کی فیس ختم کرائی جائیں۔ آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن و چیئرمین آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن شرجیل گوپلانی نے دیگر رہنمائوں زبیرعلی خان،احمدشمسی،عثمان صدیقی،چوہدری ایوب ودیگر کے ہمراہ اپنی پریس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ سندھ سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات میں کاروبار کی مکمل بندش کے باعث چھوٹے تاجر اور دکاندار حضرات اور تمام ٹیکس ادا کرنے والے تاجروں اور امپورٹرز کو فوری طور پر آسان اقساط پر بلاسودی قرضہ فراہم کئے جائیں، ساتھ ہی ان تاجروں اور دکانداروں کواپنے ملازمین کو مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں کی تنخواہوں کے لیے مالی مدد فراہم کی جائے اور تمام تاجروں کو فوری طور پر ایک ایک لاکھ روپے ماہانہ کی امداد دی جائے۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں کاروبار کی مکمل بندش کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے تاجر اور دکاندار حضرات کی مالی مدد کریں، تاجر اپنے آفس، دکانوں اور مکانوں کے کرائے اور بل ادا نہیں کر سکتے، اس لئے مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں کے کرائے اور ان کے یوٹیلٹی بلز معاف کروائے جائیں، تاجروں کے بچوں کی مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں کی اسکولوں کی فیسیں معاف کروائی جائیں اور انہیں ملازمین کو مارچ اور اپریل کے مہینوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مالی مدد کرتے ہوئے تمام تاجروں کو ایک ایک لاکھ روپے کی امداد دی جائے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بعد شہر بھر کے کاروباری اور تجارتی مراکز کی مکمل بندش نے اب غریب اور متوسط طبقے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کو بھی شدید مالی بحران میں مبتلا کردیا ہے اور آج یہ صورتحال ہے کہ کاروباری اور تجارتی مراکز میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں اور محنت کشوں کو تنخواہیں تک ادا کرنے کے لئے اب دکانداروں اور سرمایہ کاروں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ وہ ان کی تنخواہیں بھی ادا کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیوں کو اگر شروع کرنا ہے تو ہم ایسی کون سی احتیاطی تدابیر کو اپنائیں کہ اس سے کرونا وائرس پھیلنے کے خطرات کا بھی خاتمہ ہو اور ان مارکیٹوں اور تجارتی مراکز میں دکاندار اپنا کاروبار بھی باآسانی کرسکیں اور اس میں ہم حکومت سندھ کے تعاون کے طلبگار ہیں۔شرجیل گوپلانی نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے شدید معاشی تباہی ہوئی ہے اس لئے 15 اپریل کو دکانیں کھول دی جائیں گی اوراگر حکومت کی جانب سے رو کا گیا تووزیراعلی ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔


ای پیپر