کورونا وائرس ایمان کی طاقت اورحوصلے سے شکست دینا ممکن ہے!
07 اپریل 2020 (19:00) 2020-04-07

بیماری کی لپیٹ میں آنے والوں میں سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے

منصور مہدی:

اگرچہ بیماری توبیماری ہوتی ہے، اس میں احتیاط کرنا اور دوا لینا ضروری ہے، مگر بیماری کو اپنے اوپر سوار کر لینا درست نہیں ہوتا، ایسا کرنے سے انسان مزید ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے اور بیماری کا اثر بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ بیماری کے دوران خاص طور پر موجودہ حالات میں کورونا بیماری کو اپنے اوپر سوار نہ ہونے دیں بلکہ خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ اگر کسی وجہ سے خوش نہیں ہیں تو خوش رہنے کی کوشش کریں، اس کا صحت پر بہت اچھا اثر پڑتاہے۔ اس کا ماحول پر بہت مثبت اثر ہوتا ہے، معاشرے پر مثبت اثر ہوتا ہے۔ بعض اوقات دوسروں کو خوشی پہنچانے سے بھی خوشی ملتی ہے، آپ کے اندر ایک طمانیت اترتی ہے اور آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کی پریشانیاں دور بھاگ گئی ہیں اورلاحق فکریں ماند پڑ گئی ہیں، آپ کے اندر قوت پیدا ہوتی ہے۔ جو بیماری کا بآسانی مقابلہ کر سکتی ہے، قدرت نے بھی انسان کے اندر ایک ایسا نظام بنایا ہوا ہے جسے قوت مدافعت کہتے ہیں۔ یہ کیا ہے؟ اللہ پاک نے ہر جاندار کو ایک دفاعی نظام دیا ہے یا ایک طاقت دی ہے جو ان جانداروں پر حملہ کرنے والی بیماریوں سے ان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

مدافعتی نظام کو انگریزی زبان میں Immune systemکہا جاتا ہے۔ یہ ایسا نظام ہے جو جسم کو طاقت ور بناتا ہے اور مختلف بیماریوں سے نہ صرف جسم کا تحفظ کرتا ہے بلکہ بیماریوں کا مقابلہ کرنا بھی سیکھاتا ہے۔انسانی صحت کی بگڑتی ہوئی حالت اور تندرستی کا دارومدار مدافعتی نظام پر ہی ہوتاہے۔یہ جتنا زیادہ مضبوط ہوگا بیماریاں اتنی ہی دور رہیں گی اور اگر یہ نظام کمزور پڑ جائے توہر طرح کی بیماری جسم پر اثرانداز ہوتی ہے جوصحت کے بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔خاص طور پر جب انسان کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کو بیماری سے مقابلہ کرنے میں مدافعتی نظام کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔دوائیں اور پرہیز سب اپنی جگہ ، قوت مدافعت جتنی مضبوط ہوتی ہے تندرستی اتنی ہی جلدی ممکن ہوجاتی ہے۔انسان اگر روزمرہ کی خوراک میں ایسی غذائوں کا استعمال رکھے جو قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے تو بڑی سے بڑی بیماری کا سامنا بھی بہت عمدگی سے کیا جاسکتا ہیاور بیماری کو بہت ہی آسانی سے شکست دیا جاسکتا ہے۔ایسی غذائیں جو جسم کے اندر پہنچ کر قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہیں ان تک رسائی کوئی مشکل نہیں ہے۔صرف اور صرف یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سی غذائیں، ورزشیں اور طریقے ہیں جو جسم میں قوت مدافعت پیدا کرتے ہیں تاکہ انھیں بطور خاص خوراک کا حصہ بنایا جا سکے۔

پھر سب سے اہم بات خاص طور پر ہم مسلمانوں کیلئے ، کہ موت پر یقین ہمارے ایمان کا حصہ ہے، جو ایک دن آنی ہے، جو دن اس کیلئے مقرر ہے، اس سے نہ تو ایک دن پہلے آئے گی اور نہ ہی ایک دن بعد آئے گی۔ ہمیں اپنے اللہ تعالیٰ پورا یقین اور بھروسہ رکھنا چاہیے، احتیاطی تدابیر کے بعد سب کچھ اس پر چھوڑ دینا چاہیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نہ تو ہم ہمیشہ خوش رہ سکتے ہیں، نہ ہی یہ ضروری ہے ،کیونکہ دکھ درد اور غم و الم بھی اتنے ہی حقیقی ہیں جتنی کہ خوشی۔ ایک عام انسان خوش بھی ہوتا ہے اور ناخوش بھی، ہنستا بھی ہے اور روتا بھی، کبھی پریشانی میں رات بھر جاگتا بھی ہے اور کبھی بے فکری کی چادر تان کر سوتا بھی۔ جب ہمیشہ خوش نہیں رہا جا سکتا تو ہمیشہ پریشان کیوں رہا جائے؟

ماہرین کے مطابق اگر پریشانی کے اسباب موجود ہیں تو خوش رہنے کی وجوہات بھی تلاش کی جا سکتی ہیں۔ اگر تلخ جملوں کو سوچ کر کْڑھا جا سکتا ہے، تو میٹھے بولوں کو یاد کرکے پھولا بھی جا سکتا ہے۔ اگر ناکامیوں کا دکھڑا سنایا جا سکتا ہے، تو کامیابیوں کی شیخی بھی بگھاری جاسکتی ہے۔ اگر ہر روز گئے دن پر غمگین رہا جا سکتا ہے، تو آنے والے کل کا جشن بھی منایا جاسکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر بنا کوشش کیے ناخوش ہوا جا سکتا ہے، تو کوشش کرکے خوش بھی رہا جاسکتا ہے۔

کوشش کیا ہے؟ خوشی کے لیے کوشش کرنا بظاہر احمقانہ سی بات لگتی ہے لیکن صرف تب تک جب تک یہ کوشش کی نہ جائے۔ روتے ہوئے بچے کو ہنسا دیا جائے، راہ گیر کو رستہ دکھا دیا جائے، کسی سے کچھ کہہ لیا جائے یا کسی سے کچھ سن لیا جائے اور جو ناراض ہیں انھیں منا لیا جائے، یہ سب ایک کوشش کے نتیجے میں ممکن ہے۔

امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں علم نفسیات اور علم ادراک کی پروفیسر لوری سینٹوس کا کہنا ہے کہ سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ 'خوش رہنے کے لیے دانستہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ییل یونیورسٹی کی316سالہ تاریخ میں ان کی کلاس سب سے زیادہ مقبول ہے۔ ان کے پاس 1200 طلبہ ہیں اور انھوں نے حال ہی میں یونیورسٹی کے کسی بھی کورس میں داخلے کا ریکارڈ توڑا ہے۔ ان کا کورس مثبت علم نفسیات کے اصول پر مبنی ہے۔ یہ علم نفسیات کی وہ شاخ ہے، جس میں خوشی اور عادات و اطوار میں تبدیلی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

چنانچہ کورونا وبا کا مقابلہ ہمیں بہادری سے کرنا ہے، اسے اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دینا، لاک ڈائون کے زمانے میں خود بھی خوش رہنا ہے اور دوسروں کو بھی خوش رکھنا ہے۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کا شکار افراد کی تعداد ساڑھے سات لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس سے جان کی بازی ہارنے والے کم و بیش 36 ہزار لوگ ہیں، تاہم حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ 30 مارچ تک دنیا بھر میں 156000 (ایک لاکھ چھپن ہزار) سے زائد افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔ اس موذی مرض سے چین میں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 75000 (پچھتر ہزار) سے زیادہ ہے۔اسپین میں لگ بھگ سترہ ہزار، ایران میں چودہ ہزار، اٹلی میں تیرہ ہزار سے زائد اور جرمنی میں نو ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جرمنی میں شرح اموات اعشاریہ نصف سے بھی کم ہے یعنی درست حکمت عملی با اثر ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی صحتیاب افراد کی تعداد 58 ہو چکی ہے جبکہ 31 مارچ تک متاثرین کی کل تعداد1870 ہے۔

کورونا وبا سے جہاں مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے وہاں اس بیماری سے بچ جانے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے، ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیت کر صحتیاب ہو گئے۔ رہنما پی پی پی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ویڈیو ٹوئٹ میں بتایا کہ ‘الحمدللّٰہ، آج میرے کورونا وائرس کے ہونے والے ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آئی ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق میں بالکل صحت مند ہوں اور جہاں سے کام چھوڑا تھا وہیں سے دوبارہ شروع کروں گا۔’ سعید غنی نے کہا کہ ‘میں ان تمام لوگوں اور دوستوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے گزشتہ 10 روز میں میرے لیے دعائیں کیں اور میری حوصلہ افزائی کی، ان کی دعاؤں کی وجہ سے اللہ نے میرے لیے آسانی فرمائی اور کورونا وائرس سے میری جان چھڑائی۔ ’انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ جیسے پہلے عوام کی خدمت کی کوشش کرتا رہا ہوں آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ واضح رہے کہ 23 مارچ کو سعید غنی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔

اسی طرح کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے ایک شخص نے اپنی روداد بیان کرتے ہوئے لوگوں کو حوصلہ دیا ہے کہ گھبرایئے نہیں‘ کورونا وائرس موت کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے، اگر آپ اس کا شکار ہوجائیں تو اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مرجائیں گے۔ کورونا سے صحت یاب شخص نے اپنے پیغام میں کہا کہ 12 مارچ کو اسے بخار اور پٹھوں کا درد محسوس ہوا، مقامی فارماسسٹ سے دوا لینے کے باوجود درجہ حرارت104 سے نیچے نہیں آیا جبکہ سینے میں درد اور کھانسی بھی شروع ہوگئی۔ 14 مارچ کو گاؤں میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر سے رجوع کیا جس نے مجھے گلے کی سوجن تشخیص کی اور اینٹی بائیوٹک دوا تبدیل کرتے ہوئے درد اور بخار کی دوا جاری رکھنے کا کہا لیکن اس سے بھی فرق نہیں پڑا جبکہ سانس لینے میں بھی مشکل ہوئی۔ کورونا کی تشخیص کے بعد ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کیا ، اب میں مکمل صحتیاب ہوں، دیگر لوگوں کو بھی یہ بتایا چاہتا ہوں کہ کورونا وائرس موت کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے، اگر آپ اس کا شکار ہوجائیں تو اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مرجائیں گے۔

کورونا وائرس کا شکار ہونے والے 71 سالہ شہزادہ چارلس محض 5 دن بعد ہی قرنطینہ سے باہر آگئے تھے، وہ گزشتہ ہفتے 25 مارچ کو وبا سے متاثر ہوئے تھے۔شہزادہ چارلس ملکہ برطانیہ کے بیٹے اور شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے والد ہیں، بادشاہت کے تخت پر بیٹھنے کے حوالے سے ملکہ برطانیہ کے بعد ان کا نمبر ہے۔71 سالہ شہزادہ چارلس نے حفاظتی انتظامات کے پیش نظر کورونا کی تشخیص سے قبل ہی خود کو اہلیہ سمیت قرنطینہ میں منتقل کردیا تھا اور وہ لندن کے شاہی محل سے نکل کر اسکاٹ لینڈ چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیاتھا۔ اسی دن ان کی اہلیہ 78 سالہ شہزادی کمیلا کا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔تاہم اب وہ بالکل ٹھیک ہو گئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے 52 مریض صحت یاب ہوگئے۔ عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کی حالیہ صورت حال کے حوالے سے اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کرونا کے 85 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد مریضوں کی تعداد 333 تک پہنچ گئی۔ محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ مریضوں کی عمریں بیس سے چوالیس سال کے درمیان ہیں۔ ایک خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ دبئی میں کرونا کے 52 مریض صحت یاب ہوگئے اور اْن کے ٹیسٹ نیگیٹیو آئے ہیں۔ ترجمان محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، مقامی اور غیر ملکی شہریوں، زائرین کو حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی احتیاطی تدابیر پر ہر صورت عمل کرنا ہوگا۔

عرب میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کے روز کرونا وائرس سے متاثر دو افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں سے ایک مریض عرب اور دوسرا ایشیائی باشندہ تھا۔

تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے ایک ہزار مریضوں میں سے مرنے والوں کی تعداد پانچ سے 40 کے درمیان ہے لیکن زیادہ درست اندازہ یہ ہے کہ یہ تعداد ایک ہزار میں نو ہے جو کہ لگ بھگ ایک فیصد بنتی ہے۔برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکاک نے کہا تھا کہ برطانوی حکومت کا بہترین اندازہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ کر ہلاک ہونے والوں کی شرح دو فیصد یا اس سے بھی کم ہے۔ لیکن اس کا دار و مدار بہت سے دوسرے عناصر پر بھی ہے جس میں مریض کی عمر، اس کی عمومی صحت اور اس کو دستیاب صحت کی سہولیات شامل ہیں۔

مرنے والوں کی شرح کا اندازہ کرنا کتنا مشکل ہے؟ مریضوں کی گنتی کرنا بھی بہت پیچیدہ عمل ہے۔ زیادہ تر اقسام کے وائرس کا شکار لوگ، جن میں معتدل نوعیت کی علامات ہوتی ہیں، عام طور پر ڈاکٹروں سے رجوع نہیں کرتے اور اس طرح وہ کسی شمار میں ہی نہیں آتے۔مختلف ملکوں میں مرنے والوں کی شرح جو رپورٹ کی جا رہی ہیں اور ہمارے علم میں آ رہی ہیں وہ مختلف ہونے کی بڑی وجہ وائرس کی مختلف اقسام نہیں ہو سکتیں۔برطانیہ میں امپیریل کالج کے تحقیق کاروں کے مطابق اس کی وجہ مختلف ملکوں میں متعدل اور سنگین نوعیت کے کیسز کے بارے میں اعداد و شمار اکھٹا کرنے کی صلاحیت کا یکساں نہ ہونا ہے۔لہذا مریضوں کی اصل تعداد کا علم نہ ہونے کی وجہ سے مرنے والوں کی شرح زیادہ یا کم ہو سکتی ہے۔

کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد مریض کے صحت یاب ہونے یا اس کی موت واقع ہونے میں وقت لگتا ہے؟اگر آپ ان تمام مریضوں کا شمار کر لیں جو وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہونے یا اس سے ہلاک ہونے کے عمل سے گزر رہے ہیں تو اموات کی شرح کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے کیوں کہ آپ کو علم نہیں کہ کتنے مریض صحتیاب ہوں گے اور کتنے اس سے جانبر نہیں ہو سکیں گے۔ طبی ماہرین ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لیے انفرادی کیسوں کے بارے میں دستیاب شواہد کا سہارا لے رہیں ہیں تاکہ اموات کی شرح کا مکمل خاکہ تیار کیا جا سکے۔

مثال کے طور پر لوگوں کے ایک مخصوص گروپ، جس کی کڑی نگرانی کی گئی ہو جیسا کہ فضائی مسافروں کی جاتی ہے، میں مریضوں کی شرح کا تعین کیا جائے۔ اس طرح حاصل کیے گئے نتائج جو مختلف شواہد سے اخذ کیے جاتے ہیں ان کی بنیاد پر ایک وسیع خاکہ تشکیل کرنا۔ اگر آپ صرف چین کے شہر ہوبائی کے اعداد و شمار دیکھیں جہاں اموات کی شرح چین کے دوسرے علاقوں سے سب سے زیادہ تھی تو مجموعی طور پر اموات کی شرح اور زیادہ تشویش ناک نظر آئے گی۔

کچھ لوگوں کا اس وبا کا شکار ہونے کے بعد مرنے کا زیادہ امکان ہو سکتا ہے مثلاً عمر رسیدہ افراد، غیر صحت مند افراد اور شاید مرد۔چین میں 44 ہزار مریضوں پر کیے جانے والے اب تک کے سب سے بڑے سروے میں عمر رسید افراد میں اموات کی شرح درمیانی عمر کے لوگوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ تھی۔اموات کی شرح 30 سال سے کم عمر افراد میں سب سے کم تھی۔ 30 سال سے کم عمر 45 سو مریضوں میں سے صرف آٹھ افراد کی موت واقع ہوئی۔ذیابیطس، بلند فشار خون اور امراض دل میں مبتلا افراد میں مرنے والوں کی شرح عام لوگوں کے مقابلے میں پانچ گنا ذیادہ پائی گئی۔عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ان تمام عناصر کا ایک دوسرے پر انحصار ہے جس کی وجہ سے حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کون اور کس علاقے کے لوگوں کو زیادہ خطرہ ہے۔

چین میں 80 برس سے زیادہ عمر کے لوگوں میں خطرے کی نوعیت اسی عمر کے یورپ اور افریقہ میں بسنے والے لوگوں سے مختلف ہو گی۔آپ کے مرض کی شدت اور اس کے ٹھیک کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ آپ کو کسی طرح کا علاج میسر آتا ہے۔جس کا پھر دار ومدار اس بات پر ہے کہ کیا دستیاب ہے اور وبا کی نوعیت کتنی سنگین ہے۔ اگر وبا بہت سنگیں ہو جائے تو ہسپتالوں میں مریضوں کا رش ہو جائے گا جس کی وجہ سے وہاں موجود انتہائی نگہداشت کے وارڈ اور ’وینٹیلیٹر‘ کم پڑ سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی طرف سے عمومی ہدایت یہ ہی ہے کہ اگر آپ اپنے آپ کو ایسے جراثیم سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جو نظام تنفس کی بیماری کا باعث بنتے ہیں تو آپ ہاتھ دھونے کی عادت اپنا لیں، چھیکنوں اور کھانسی کا شکار لوگوں سے دور رہیں اور اپنی آنکھوں، ناک اور منھ میں انگلیاں ڈالنے سے پرہیز کریں۔

ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں نوجوانوں کی تعداد اور ان کی قوت مدافعت کے تناظر میں کہا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں کے دوران ملک میں ( کورونا وائرس سے) صحت یاب افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان کی آبادی مغرب سے مختلف ہے اور یہاں 70 سال تک کی عمر کے افراد کی تعداد کم ہے۔ان کے مطابق ’اس وجہ سے زیادہ تر 21 سے 30 سال کے نوجوان وائرس سے متاثر ہوئے تاہم اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ چونکہ نوجوانوں میں قوت مدافعت زیاہ ہوتی ہے اس لیے صحت یاب ہونے کی شرح بھی زیادہ ہوگی‘۔

ایشیائی ممالک کی صورتحال

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔چین کے صوبہ ہوبئی کے شہر ووہان سے پھوٹنے کے بعد دنیا کے متعدد ممالک میں پھیلنے والا یہ وبائی مرض اس وقت تک 6 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور کْل 30 ہزار 890 اموات واقع ہو چکی ہیں۔چین میں اموات کی تعداد 3 ہزار 300 اور مریضوں کی تعداد 81 ہزار 439 ہو گئی ہے جبکہ علاج کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 75 ہزار 448 ہے۔

ایران میں وائرس کی وجہ سے اموات کی تعداد 2 ہزار 640 اور مریضوں کی تعداد 35 ہزار 408 ہے۔ صوبہ رضوی خراسان سے منسلک تحصیل گون آباد مین میں ایک 35 روزہ بچے میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

قطر میں کورونا وائرس کی وجہ سے پہلی موت واقع ہوئی ہے اور مریضوں کی تعداد 590 ہو گئی ہے۔ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 45 ہے۔

روس میں وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 7 اور مریضوں کی تعداد ایک ہزار 264 ہو گئی ہے۔

روس حکومت نے 30 مارچ سے زمینی اور ریلوے راستوں کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیل میں اموات کی تعداد 12 اور مریضوں کی تعداد 3 ہزار 865 تک پہنچ گئی ہے۔اس دوران دعوے کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو نے جرمنی سے کورونا وائرس وبا کی وجہ سے جرمنی سے ریسپائریٹر طلب کئے ہیں لیکن جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے ان کی طلب رد کر دی ہے۔

مولودوا میں وائرس کی وجہ سے 2 اموات ہوئی ہیں اور مریضوں کی تعداد 231 ہو گئی ہے۔

عراق میں جانی نقصان کی تعداد 43 اور مریضوں کی تعداد 506 ہے۔ عراق کے وزیر تجارت محمد ہاشم العانی کے مشیر اعلیٰ ولید الہالو بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ وائرس کی وجہ سے کرکوک میں جاری کرفیو کو 11 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے۔تیونس میں اموات کی تعداد 8 اور مریضوں کی تعداد 278 ہو گئی ہے۔

فلسطین میں مزید 6 افراد میں کورونا کی تشخیص کے بعد مریضوں کی تعداد 104 ہو گئی ہے۔الجزائر میں ہلاکتوں کی تعداد 29 اور مریضوں کی تعداد 454 ہے۔

مراکش کی وزارت صحت کے شعبہ ایپیڈیمولوجی ڈائریکٹریٹ کے نمائندے محمد المرابت نے پریس کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ملک میں کووِڈ۔19 کی وجہ سے 19 اموات ہو چکی ہیں اور مریضوں کی تعداد 359 ہو گئی ہے جبکہ 11 افراد صحت یاب ہو گئے ہیں۔

اردن کے وزیر صحت سعد جابر منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور مریضوں کی تعداد 246 تک پہنچ گئی ہے۔

لیبیا کی قومی مفاہمتی حکومت نے اموات کی تعداد 3 ہونے کا اعلان کیا ہے۔

مصر کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 27 اور مریضوں کی تعداد 2 ہزار 320 ہو گئی ہے سکیورٹی فورسز نے عوام سے جزوی کرفیوں کی پابندی کروانے کے لئے ڈرون طیاروں کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

ٹوگو اور مالی میں کورونا وائرس کی وجہ سے پہلی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

برّ اعظم افریقہ کے 46 ممالک میں وائرس کے مریضوں کی تعداد 2 ہزار 500 اور اموات کی تعداد 75 سے تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ 214 افراد صحتیاب ہو گئے ہیں۔

جمہوریہ کانگو میں وائرس کے خلاف اختیار کردہ تدابیر کے دائرہ کار میں ہنگامی حالات اور جزوی کرفیو کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر