افغانستان:ایک صدی اور بیس سالوں کی داستان
07 اپریل 2020 2020-04-07

گزشتہ ایک صدی اور بیس سالوں کا سبق یہی ہے کہ کابل میں کبھی بھی طویل مدت تک نہ امن قائم رہا اور نہ ہی یہاں کو طویل عر صے تک سیاسی استحکام نصیب ہوا۔امریکا اور طالبان کے درمیان جب رواں برس 29 فروری کو افغانستان میں قیام امن کے لئے معاہدہ ہوا تو زیادہ تر لوگوں کو توقع تھی کہ اب یہاں امن کا قیام سالوں کی نہیں، بلکہ مہینوں کی بات ہے۔بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ 80 کی دہائی سے قبل افغانستان ایک پرامن اور سیاسی طور پر مستحکم ریاست تھی،لیکن جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو صورت حال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ افغانستان کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے لیکن ہم گزشتہ ایک صدی یعنی بیسویںصدی اور رواں صدی یعنی اکیسویں صدی کی بیس برسوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا گزشتہ ایک سو بیس سالوں میں کبھی افغانستان میں طویل مدت تک امن قائم رہا ہے کہ نہیں؟یا طویل عرصے تک کابل کو اس ایک صدی اور بیس سالوں میں سیاسی استحکام نصیب ہوا بھی ہے کہ نہیں؟

افغانستان کی تاریخ صدیوں پرانی ہے لیکن معلوم تاریخ سے پتہ لگ رہا ہے کہ موجودہ ریاست کی بنیاد 1747 ء میں احمد شاہ درانی نے رکھی تھی۔ افغانستان کی سرزمین کے سینے میں بڑی بڑی بادشاہتوں کے عروج و زوال کی کہانیاں دفن ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ گزشتہ صدی سے لے آج تک اس سرزمین پر کم و بیش ایک سو دس جنگیں لڑی گئی ہے ،جس میں 70% فیصد سے زیادہ لڑائیاں افغانوں کے درمیان ہوئی ہے۔باقی تیس فیصد جنگیں افغانوں نے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف لڑی ہے، مگر افسوس کہ تاریخ میں ان تیس فیصد بیرونی حملہ آوروں کے ساتھ مقابلے اور شکست کی تمام تر تفصیلات تو موجود ہے لیکن آپس میں لڑی گئی جنگوں کا تذکرہ نہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور نہ ہی افغان اس کا زیادہ تذکرہ کرتے ہیں۔

حبیب اللہ خان نے جب اکتوبر 1901 میں اقتدار سنبھالا تو انھوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران افغانستان کو غیر جانبدار رکھا ۔افغانوں کو ان کی یہ پالیسی پسند نہ آئی اور 20 فروری 1919 ء کو حبیب اللہ خان کو قتل کر دیا ۔حبیب اللہ خان کے قتل کے بعد ان کے تیسرے بیٹے امان اللہ خان نے حکومت سنبھالی۔انھوں نے ملک میں اصلاحات کا آغاز کیا۔اس پر اختلافات پیدا ہوئے

اور پھر 14 نومبر 1928 ء سے 13 اکتوبر 1929 ء تک افغانستان میں سول وار جاری رہی ۔اس دوران حبیب اللہ کلاکانی حکمران رہے۔15 اکتوبر 1929 ء کو امان اللہ خان کے کزن محمد نادر خان نے حبیب اللہ کلاکانی کے حکومت کا خاتمہ کیا اور نومبر 1929 ء میں اپنی بادشاہت کا اعلان کیا۔انھوں نے اپنے ایک وزیر کو قتل کیا۔ ڈرکی وجہ سے ان کے خاندان نے کابل سے ننگرہار ہجرت کی ۔پھر 1933 ء میں اس مقتول وزیر کے طالب علم بیٹے نے انتقام میں بادشاہ محمد نادر خان کو قتل کردیا۔شاہ محمد نادرخان کے قتل کے بعد ان کے انیس سالہ بیٹے محمد ظاہر شاہ نے اقتدار سنبھالا۔ اپنے باپ کے قتل کے بعد ظاہر شاہ نے اس کم عمر طالب علم کو اپنے محل کے سامنے پنجرے میں بند کیا اور حکم دیا کہ ہر روز ان کا ایک ایک عضو کاٹا جائے ۔ایک ہفتے تک اسی چوک میں تیرہ سالہ طالب کا ایک ایک عضو کاٹا جاتا ۔لوگ نظارہ کرتے ،لیکن خوف اور ڈر کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتے۔ظاہر شاہ 1946 ء تک اپنے چچا سردار محمد ہاشم خان کی زیر سرپرستی حکومتی امور انجام دیتے رہے۔وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔ 1946 ء میں ظاہر شاہ نے اپنے دوسرے چچا سردار شاہ محمد خان کو وزیر اعظم نامزد کیا،جبکہ 1953 ء میں انھوں نے ان کی جگہ محمد داود خان کو وزیر اعظم نامزد کیا۔سردار داود سویت یونین کے زبر دست حامی جبکہ پاکستان کے شدید مخالف تھے۔یکم جنوری 1965 ء میں ’’پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی آف افغانستان قائم کی گئی‘‘۔ اس جماعت کے سویت یونین کے ساتھ قریبی تعلقات تھے،لیکن یہ پارٹی بھی زیادہ دیر تک متحد نہ رہ سکی اور دوحصوں ’’ خلق ‘‘ اور ’’ پرچم ‘‘ میں تقسیم ہوئی۔خلق کی قیادت نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کے ہاتھوں میں تھی جبکہ پرچم کی قیادت ببرک کارمل کر رہے تھے۔اس دوران ظاہر شاہ خاندان پر بدعنوانی اور خراب معاشی صورت حال کے سنگین الزامات لگائے گئے اور سابق وزیر اعظم سردار داود نے 17 جولائی 1973 ء کواس وقت اقتدار پر قبضہ کیا جب ظاہر شاہ علاج کے لئے ملک سے باہر تھے۔سردار داود خود وزیر اعظم اور صدر بن گئے۔ 1978 ء میں حکومت نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم رہنما میر اکبر خیبر کو قتل کیا ۔کئی گرفتار ہوئے۔اس خوف کی وجہ سے 28 اپریل 1978 ء کو پی ڈی پی اے کے رہنماوں نور محمد ترکئی ،ببرک کارمل اورامین طلحہ نے سردار داود حکومت کو ختم کیا جبکہ سردار داود اور ان کے خاندان کے دیگر افراد خونی فوجی کارروائی میں قتل کر دئیے گئے۔اس خون ریز سانحہ کو تاریخ میں ’’سرخ انقلاب ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔یکم مئی کو نور محمد ترکئی ملک کے صدر اور وزیر اعظم بن گئے جبکہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ بھی انھوں نے اپنے پاس رکھا۔مارچ 1979 ء میں حفیظ اللہ امین وزیر اعطم نامزد کئے گئے جبکہ 14 ستمبر کو حفیظ اللہ امین نے نورمحمد ترکئی کو معزول کیا ۔وہ قتل کر دیئے گئے اور حفیظ اللہ امین اقتدار پر قابض ہوئے۔ افغانستان میں اقتدار کے لئے جنگ جاری تھی۔ حالات زیادہ خراب تھے۔ خراب سیاسی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سویت یونین نے 24 دسمبر 1979 کو افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کی ۔27 دسمبر 1979 ء کو حفیظ اللہ امین بھی قتل کر دیئے گئے جبکہ سویت یونین نے اقتدار ببرک کارمل کے حوالے کیا۔ سویت یونین نے کوشش کی کہ ببرک کارمل کو مضبوظ کریں لیکن بین الاقوامی دباو کی وجہ سے انھوں نے 15 مئی 1988 ء کو افغانستان سے فوجیں نکالنا شروع کئے اور15 فروری 1989ء تک اپنی فوجیں افغانستان سے نکال دی۔ افغانستان میں ناکامی کا تمام تر ملبہ سویت یونین نے ببرک کارمل پر ڈال دیا۔ (جاری ہے)


ای پیپر